Header Ads

Breaking News
recent

امریکہ ہار گیا، قوم پرست جیت گئے

وہ بے چین تھے کبھی ٹیلی ویژن کی طرف دیکھتے، کبھی دونوں ہاتھوں سے

اپنے سر کو دبانے لگتے، کبھی ٹانگیں سمیٹ کر صوفے پر رکھ لیتے، کبھی اُٹھ کر چلنے لگتے کبھی سگریٹ کے کش لگاتے، کبھی جلدی جلدی کافی کے سپ لیتے، کبھی لیپ ٹاپ کی اسکرین پر جھک کر کچھ ٹائپ کرنے لگتے۔ اضطراب کی یہ کیفیت کچھ دیر جاری رہی اور پھر اچانک وہ میری طرف مُڑے، مجھے مخاطب کیا اور چیخنے لگے، اُن کی آنکھوں میں غصہ، چہرے پر نفرت اور پیشانی پر تناو کے تاثرات واضح تھے۔
میں نے ٹیلی ویژن بند کیا اُنہیں دونوں بازووں سے پکڑ کر صوفے پر بٹھایا اور میز پر پڑے گلاس سے پانی پینے کا اشارہ کیا۔ اُنہوں نے دو گھونٹ پانی پیا اور پھر سے چلانے لگے

Is this mad Trump will lead the Americans? How Muslims will survive? How our children lives will be safe there

 یہ سوالات میرے پاکستانی دوست سلیمان بشیر صاحب کے تھے جو امریکی شہری بھی ہیں، یہی وجہ تھی کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر کا حلف اٹھانے سے پریشان تھے۔ 20 جنوری 2017ء کی شام یہ سوالات پوری دنیا کے مسلمانوں اور لبرل لوگوں کی زبان پر تھے اور شاید میری طرح کسی کے پاس بھی اِن سوالات کے جوابات نہیں تھے۔ امریکہ سمیت پوری دنیا ٹرمپ کے حلف اٹھانے سے پریشان کیوں ہے؟ اِس بات کو سمجھنے کیلئے ہمیں پہلے امریکہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
امریکہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ اِس کی کُل آبادی 32,342,5550 ہے جہاں 70.6 فیصد عیسائی، 1.9 فیصد یہودی، 0.9 فیصد مسلمان، 0.7 فیصد ہندو، 0.7 فیصد بدھ مت، 22 فیصد غیر مذہب اور 3.2 فیصد دیگر مذاہب کے لوگ آباد ہیں۔ امریکہ کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں تقریباً دنیا کے ہر رنگ، نسل، ذات اور ثقافت کے لوگ امریکی شہریت رکھتے ہیں۔ یہاں امریکہ کی تاریخ کا مختصر جائزہ امریکہ میں مختلف قوموں اور مذاہب کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے بہت ضروری ہے۔ آپ نے یقیناً سنا ہوگا کہ امریکا کو 1492ء میں کولمبس نے دریافت کیا تھا مگر یہ تصور مکمل طور پر غلط ثابت ہوچکا ہے۔

امریکی محقق اور لکھاری S.Frederick Star کی تحقیقات کے مطابق کولمبس کی پیدائش سے 490 سال قبل 1003ء میں مسلمان عالم و مفکر البیرونی نے امریکہ دریافت کیا تھا جبکہ 1492ء میں کولمبس یورپ سے وہاں پہنچا۔ 1507ء سے پہلے دنیا اِسے New World کے نام سے جانتی تھی۔ 1507ء میں جرمن جیوگرافر Wald Seemuller نے اِسے پہلی مرتبہ امریکہ کا نام دیا۔ 1607ء میں برطانیہ، فرانس اور اسپین نے عیسائیوں، یہودیوں اور مسلمانوں کو ملا کر 13 انگلش کالونیاں آباد کیں اور برطانوی راج قائم کر دیا۔ 1776ء میں وقت نے کروٹ لی اور اِن 13 کالونیوں نے برطانوی ظلم و ستم کیخلاف علمِ بغاوت بلند کر کے 4 جولائی 1776ء کو برطانیہ سے آزادی حاصل کی اور آزاد ریاست قائم کردی جس کا نام ’’United States of America‘‘ رکھا گیا۔

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اُس وقت 5 لاکھ افریقی سیاہ فام اِن کالونیوں میں آباد تھے اور اُن میں سے بیشتر مسلمان تھے۔ 9 ہزار مسلمان امریکی فوج میں شامل تھے اور امریکہ کی جنگِ آزادی کا حصہ تھے۔ برطانیہ سے آزادی کے بعد اگلا مرحلہ امریکہ کیلئے قانون بنانا تھا۔ جارج واشنگٹن نے امریکہ میں تمام مذاہب اور فرقوں سے بالاتر ہوکر قوانین تشکیل دیے جن میں فیصلہ کیا گیا کہ امریکہ کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہو گا اور تمام امریکیوں کو رنگ نسل اور مذہب سے بالاتر ہو کر اپنے عقائد، رسم و رواج اور ثقافت کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو گا اور کسی کاروبار، سرکاری نوکری اور یہاں تک کہ ملک کی صدارت کیلئے بھی مذہب کی کوئی بندش نہیں ہو گی۔

مزے کی بات یہ کہ 240 سال گزرنے کے بعد بھی یہ قوانین اپنی اصل شکل میں موجود ہیں جس کا واضح ثبوت 44 واں امریکی صدر سیاہ فام مسلمان باراک حسین اباما ہے۔ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر فیصلہ کریں کہ جس ملک کو دریافت ایک مسلمان نے کیا ہو، جس کا نام ایک جرمن شہری نے رکھا ہو، جسے برطانیہ و اسپین سے آنے والے عیسائیوں اور مسلمانوں نے آباد کیا ہو جس کی آزادی کیلئے عیسائیوں، مسلمانوں اور یہودیوں نے مذہب سے بالاتر ہوکر اپنی جان کے نذرانے پیش کیے ہوں، جہاں جارج واشنگٹن مسلمانوں کو فوج کی کمان سونپ دیتا ہو، اُس امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو گالیاں دے اور اُن کیخلاف نفرت کے نعرے لگائے، اُنہیں ملک بدر کرنے کی دھمکی دے، اُن کے حقوق کو سلب کرنے کیلئے قانون لانے اور اُنہیں سخت سزائیں دینے کے وعدے کرے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکی عوام ایسے شخص کو واضح برتری کے ساتھ اپنا صدر منتخب کرلیں تو یہ قوم پرستی نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ یہ تعصب نظری نہیں ہے تو کیا ہے؟ جمہوری رویوں کا قتل نہیں ہے تو کیا ہے؟

آپ وقت کی ستم ظریفی ملاحظہ کریں کہ امریکہ کی قوم پرست ریاستوں میں ٹیکساس، مسی سپی، جارجیا، الاباما، نارتھ کیرولینا، ٹینیسی، آرکنساس، فلوریڈا، لوزیانا، ویسٹ ورجینیا شامل ہیں اور یہاں پر بالترتیب صرف 25.5 فیصد، 19.6 فیصد، 27.5 فیصد، 22 فیصد، 26.5 فیصد، 23 فیصد، 18.9 فیصد، 21.4 فیصد،25.3 فیصد، 17.3 فیصد لوگ پڑھے لکھے ہیں اور اِن تمام ریاستوں سے ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح برتری حاصل کی تھی، جو کہ اِس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ امریکہ کے اَن پڑھ ،اُجڈ، بدمعاش، منشیات فروش اور سب سے بڑھ کر قوم پرست لوگوں نے دیا ہے اور ایسا کر کے تمام امریکی مسلمانوں اور اقلیتوں کو پیغام دیا گیا ہے کہ امریکہ اب جارج واشنگٹن کا امریکہ نہیں رہا بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے قوم پرستوں اور تعصب کا شکار عیسائیوں کا امریکہ بن گیا ہے۔

جس امریکہ کو دنیا Land of Opportunities (مواقعوں کی زمین) کے نام سے جانتی تھی آج وہ امریکہ ٹرمپ کی بدولت Land of Racist (قوم پرستوں کی زمین) کے نام سے مشہور و معروف ہوتا جا رہا ہے۔ وقت ثابت کرے گا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا انتخاب امریکہ کے تابوت میں پہلا کیل ثابت ہو گا اور جو غلطیاں ٹرمپ کرے گا اُس کا خمیازہ امریکہ کو 50 ریاستوں کی بجائے 50 آزاد ملکوں کی صورت میں بھگتنا پڑے گا اور Independent California کا نعرہ اِس کا نقطہ آغاز ہے۔

عمران احمد

No comments:

Powered by Blogger.