Header Ads

Breaking News
recent

کشمیرکی نئی عسکریت پسندی

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بیج بہاڑہ کے ایک گاؤں میں گذشتہ مہینے ہزاروں لوگ باسط رسول ڈار کے جنازے میں شریک ہوئے۔ باسط انجینیئرنگ کا طالب علم تھا۔ ابھی ڈھائی مہینے پہلے اس نے عسکریت پسندی اختیار کی تھی۔ باسط کے گاؤں میں جگہ جگہ دیواروں پر ان کی تصویریں آویزاں کی گئی تھیں۔ وہ کم گو اور پڑھنے لکھنے والا طالب علم تھا۔ والد غلام رسول ڈار اپنے بیٹے کی موت سے نڈھال ہیں۔ کہتے ہیں: 'میں تکلیف سے گزر رہا ہوں۔ پتہ ہی نہیں چلا، بہت کم باتیں کرتا تھا۔ ایسا کچھ نہیں لگتا تھا کہ وہ انتہائی قدم اٹھا لے گا۔' باسط ڈار کی طرح بہت سے طلبہ اور نوعمر لڑکے پچھلے کچھ عرصے میں عسکریت پسندی کی جانب مائل ہوئے ہیں۔ گذشتہ برس تقریباً ڈیڑھ سو عسکریت پسند شورش زدہ وادی میں مارے گئے۔ ان میں اکثریت مقامی نوجوانوں کی تھی۔ حریت کانفرنس کے رہنما یاسین ملک کہتے ہیں کہ 'یہ وہ بچے ہیں جنھوں نے سنہ 2008 اور 2010 کی پر امن تحریک میں حصہ لیا تھا اور جنھیں سکیورٹی فورسز نے نشانہ بنایا۔ فورسز نئی نسل کو عسکریت پسندی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔'
شورش اور سیاسی تعطل کے ماحول میں کشمیریوں کی نئی نسل ہتھیار اٹھانے کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ اس کا زیادہ اثر اس بار جنوبی کشمیر میں ہے جو سیب کے باغات کے لیے مشہور ہے۔ شدت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد پلوامہ ضلعے میں زبردست مظاہرے ہوئے تھے، ان مظاہروں کے دوران سینکڑوں افراد زخمی ہوئے۔ ان میں کئی نوعمر لڑکے بھے تھے۔ ایسے ہی ایک لڑکے نے بتایا : 'میرے پورے جسم میں چھرے لگے ہیں۔ یہاں بہت ظلم ہو رہا ہے۔ ہمیں سکولوں سے اٹھا لیتے ہیں۔ اگر ایسا ہی ہوتا رہا تو بھاگنا پڑے گا' یہ کہتے ہوئے اس کا چہرہ جذبات سے عاری تھا۔

والدین ہی نہیں حریت کے رہنماؤں کو بھی اس بدلتی ہوئی صورت حال پر خاصی تشویش ہے۔ سید علی شاہ گیلانی کے اتحادی اور سابق جنگجو بلال احمد صدیقی کہتے ہیں کہ 'انڈین سٹیٹ کو یہ سمجھنا ہو گا۔ شکست کے احساس کے ساتھ پوری قوم نہیں چل پائے گی۔ نئی نسل کا کیا ہو گا؟ وہ اپنے باپ کی نہیں مانتے تو ہماری کیا مانیں گے؟' سکیورٹی فورسز کے مختلف اندازوں کے مطابق 100 سے زیادہ کشمیری نوجوان اس وقت نئی عسکری سرگرمیوں میں شامل ہیں۔ تجزیہ کار اظہر قادری کہتے ہیں کہ 'صرف یہ مقامی لڑکے نہیں ہیں۔ یہ ہتھیار بھی اب انڈین سکیوریٹی فورسز سے ہی چھینتے ہیں۔ یہ سرحد پار نہیں جاتے اور یہ نئی ٹیکنالوجی سے آشنا ہیں۔ انھیں مرنے کا کوئی خوف نہیں ہے۔' ان کے بقول یہ مقدس جہاد ہے۔ وہ سرینڈر نہیں کرنا چاہتے۔

'اس وقت جو جنگجو میدان میں ہیں وہ سیاسی چھا پہ مار نہیں ہیں۔ وہ سیاسی مزاحمت کی لڑائی نہیں لڑ رہے۔ یہ تیزی سے مذہبی لڑائی بنتی جا رہی ہے۔ ان کے لیے یہ بڑی لمبی، گہری اور دیر تک چلنے والی لڑائی ہے۔' سکیورٹی فورسز اب بھی یہی سمجھتی ہی کہ عسکریت پسندی کی اس نئی لہر کے پیچھے پاکستان ہی کا ہاتھ ہے۔ سی آر پی ایف کے ترجمان راجیش یادو کہتے ہیں: 'ہمارا پڑوسی ہی ہر طرح کی مدد فراہم کرتا رہا ہے، وہی بھڑکاتا ہے۔ یہاں کچھ لوگ ہیں جو پاکستان کی ایما پر نوجوانوں کو ورغلاتے ہیں، ان کا برین واش کرتے ہیں۔' اظہر قادری کہتے ہیں وقت کے ساتھ علیحدگی پسند حریت اپنا اثر کھو چکی ہے۔ نئی عسکریت پسندی نے جو رول ماڈل دیا ہے اس سے حریت کا ایجنڈا سائڈ لائن ہو چکا ہے۔ 'یہ زیادہ خطرناک، گہرا، اور دیرپا ہے۔ یہ مکمل طور پر مقامی ہے۔ اسے روکنا بہت مشکل ہے۔ اگر پاکستان چاہے گا بھی تو یہ عسکریت پسندی بند نہیں ہو گی۔ اگر کوئی حل بھی تلاش کیا جائے تو یہ نہیں رکے گی۔'

ریاست میں اظہار کی آزادی پر پابندی ہے، مذاکرات بند ہیں اور سیاسی عمل معطل ہے۔ کشمیر کے نوجوانوں میں بے بسی کے احساس سے بےچینی پیدا ہو رہی ہے۔
بےبسی اور مایوسی کے ماحول میں بیج بہاڑہ کے باسط جیسے بہت سے نوجوان ایک بار پھر عسکریت پسندی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ کشمیر کے سبھی حلقوں میں یہ تشویش بڑھتی جا رہی ہے کہ ماضی کی طرح کشمیریوں کی نئی نسل بھی کہیں عسکریت پسندی کی نذر نہ ہو جائے!

شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

No comments:

Powered by Blogger.