Header Ads

Breaking News
recent

صحافت کرنا ضروری تو نہیں

جس طرح کے شش سمتی دباؤ کی پاکستانی صحافت ستر برس سے عادی ہے اس
طرح کا دباؤ بھارت میں ابھی شروع ہوا ہے۔ تازہ مثال ’’ قومی سلامتی ‘‘ خطرے میں ڈالنے کی پاداش میں این ڈی ٹی وی چینل کی نشریات ایک دن ( نو نومبر ) کے لیے بند کرنے کا فیصلہ ہے۔ گذشتہ ہفتے دہلی میں اسی برس پرانے اخبار انڈین ایکسپریس کی سالانہ ’’رام ناتھ گوئنکا جرنلزم ایوارڈ ’’کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس ایوارڈ کو توقیری اعتبار سے آپ بھارت کا پلٹزر انعام بھی کہہ سکتے ہیں۔ انڈین ایکسپریس کے بانی کی یاد میں قائم یہ ایوارڈ صحافتی پیشے کی حرمت قائم رکھنے والے گنے چنے صحافیوں کو ہی ملتا ہے۔ اس بار ایوارڈ تقریب کے مہمانِ خصوصی وزیرِ اعظم نریندر مودی تھے۔ انھوں نے گرتے ہوئے صحافتی معیار پر ایک تفصیلی بھاشن دیا۔ تقریب کے آخر میں انڈین ایکسپریں کے چیف ایڈیٹر راج کمل جھا نے مہمانِ خصوصی کا شکریہ جن الفاظ میں ادا کیا اس کی وڈیو اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔
راج کمل جھا نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ ’’صحافت کا معیار پروفیشنل رپورٹرز اور ایڈیٹرز ڈیفائن ہی کرتے ہیں۔ مگر آج کل سیلفی جرنلسٹ بڑھ رہے ہیں۔ سیلفی جرنلسٹ سے میری مراد وہ صحافی ہے جو اپنے عشق میں مبتلا ہے۔اسے کوئی غرض نہیں کہ لوگ کیا سوچ رہے ہیں۔ اسے صرف اس سے مطلب ہے کہ وہ کیا سوچ رہا ہے۔ اس کا چہرہ کیسا لگ رہا ہے۔ اس کے اپنے خیالات کیا ہیں۔وہ چاہتا ہے کہ کیمرہ اسی پر فوکس رہے۔ اس کے لیے سب سے اہم شے اس کی اپنی آواز اور صورت ہے۔ باقی سب ثانوی ہے بلکہ ایک بیک ڈراپ ہے ، ایک لایعنی شور ہے۔ سیلفی جرنلسٹ کے لیے حقائق کی کوئی اہمیت نہیں۔ سیلفی جرنلسٹ اپنی ذات کے فریم میں کوئی ایک جھنڈا لگاتا ہے اور اس کے پیچھے چھپ جاتا ہے۔ اس اخبار کے بانی رام ناتھ گوئنکا نے ایک رپورٹر کو اس لیے نوکری سے فارغ کر دیا کیونکہ ایک چیف منسٹر نے گوئنکا سے کہا کہ آپ کا رپورٹر بہت اچھا کام کر رہا ہے۔

آج کی صحافی نسل ری ٹویٹس اور لائکس کے دور میں جی رہی ہے۔ اور اس نسل کو نہیں معلوم کہ سرکار کی طرف سے ناپسندیدگی کسی صحافی کے لیے تمغہِ عزت ہوتا ہے۔ صحافی کا بنیادی منصب اس کے سوا کیا ہے کہ اس کے حقائق درست ہوں اور لوگوں کی اکثریت اس کی خبر پر اعتماد کرے۔ اور یہ اعتماد صحافی یا صحافتی ادارہ ہی پیدا کرسکتا ہے۔ کوئی اور نہیں۔ ایسا نہیں کہ اچھی صحافت مر رہی ہے یا سکڑ رہی ہے۔ لیکن بری صحافت اتنا شور مچا رہی ہے کہ اس شور میں اچھی صحافت دبتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ ہمیں اس شور سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ دیکھنے والے کے ہاتھ میں ریموٹ کنٹرول ایک بڑی طاقت ہے۔ ہمیں اس پر اعتماد کرنا چاہیے ’’۔اس دوران وزیرِ اعظم نریندر مودی ہاتھ ملتے ہوئے چیف ایڈیٹر راج کمل جھا کی باتیں سننے کے سوا کچھ نہ کر سکے۔

قلم اور حرف استرے کی طرح ہے۔ حجام کے ہاتھ میں ہے تو اوزار ہے۔ اناڑی کے ہاتھ میں ہو تو ہتھیار ہے اور بندر کے ہاتھ میں ہو تو آلہِ آزار ہے۔ اپنے لیے بھی اور سامنے والے کے لیے بھی۔ خبر اور سیلاب منہ زور ریلہ ہوتے ہیں۔ اگر ڈیم بنائے جائیں تو سیلاب کو زمین کی آبیاری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے یا پھر بیراجی فلڈ گیٹس کے ذریعے محفوظ طریقے سے گذارا جا سکتا ہے۔ خبری سیلاب کو بھی ایڈیٹوریل ڈیمز بنا کر ملک و سماج کی زرخیزی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ فلڈ گیٹس کے ذریعے آنے والی خام خبر کو پیشہ ور ہاتھ پکے اخباری نالوں کے ذریعے اطلاعات کی بھوکی ذہنی زمین کو سینچنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

لیکن خبر کو اگر بنائے سنوارے بغیر خام حالت میں ہی گذرنے دیا جائے اور اس میں سے ذاتی خواہشات کے گھاس پھونس ، تھرڈ پارٹی ایجنڈے کی آلودگی اور آدھے سچ کو آدھے جھوٹ کی آمیزش سے پیدا ہونے والے فضلے سے الگ کیے بغیر میدانوں میں پھیلنے دیا جائے تو ایسا خبری سیلاب رہی سہی سماجی زرخیزی کو بھی اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔ آپ سیلابی پانی کو پئیں گے تو کئی جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہو جائیں گے۔ اسی طرح جب آپ خام خبر کو پئیں گے تو ذہنی خلفشار میں مبتلا ہوتے چلے جائیں گے۔ لہذا انفارمیشن بھلے خبر کی شکل میں ہو یا پھر اداریے ، مضمون ، کالم کی شکل میں یا الیکٹرونک میڈیا کی بریکنگ نیوز کی شکل میں۔ اسے پینے کے قابل پانی کی طرح بالکل شفاف شکل میں کنزیومر کے پاس پہنچنا چاہیے جیسا کہ ہر پروڈکٹ کے بارے میں کنزیومر کا حق ہے۔ اور یہ کام خبر کا کارخانہ یعنی میڈیا ہاؤس اور اس کارخانے میں کام کرنے والے ہی کر سکتے ہیں۔ ٹویٹر اور وٹس ایپ کے دور میں خبر کی پروڈکٹ کو آلودگی سے پاک کرنے کی ذمے داری اور بھی بڑھ گئی ہے۔ کیونکہ اب ایک ایک خبر اور تصویر کو پھونک پھونک کر جانچنے کی ضرورت ہے کہ کہیں ڈاکٹرڈ یا ایجنڈے سے آلودہ تو نہیں ہے۔

آج کی صحافت کو معیاری بنانے کی راہ میں ایک اور بڑا چیلنج ریٹنگ کی وبا ہے جس نے خبر کو انفوٹینمنٹ اور پھر انفوٹینمنٹ کو سٹرپٹیز میں بدل ڈالا ہے۔سٹرپٹیز بذاتِ خود ایک آرٹ ہے۔ مگر یہاں تو کپڑے اتار کر الٹا سیدھا ناچنے کو ہی سٹرپٹیز کہا اور سمجھا جا رہا ہے۔ میرے خیال میں ریٹنگ کے تصور کے موجد بس اور ویگن ڈرائیور ہیں۔ جنھیں مالکان مجبور کرتے ہیں کہ جتنی زیادہ سواریاں اٹھاؤ گے اتنا کمیشن ملے گا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو سفر ایک گھنٹے کا ہے۔ ڈرائیور کی کوشش ہوتی ہے کہ اسے آدھے گھنٹے میں ہی طے کر لیا جائے اور پیچھے آنے والی ویگن کے مسافر بھی اٹھا لیے جائیں۔ اس چکر میں ان بسوں اور ویگنوں کی اندھی ریس شروع ہو جاتی ہے اور سڑک پر ایک طوفان آجاتا ہے۔ حادثات ہوتے ہیں۔ کئی بسیں الٹ جاتی ہیں یا مسافر کچلے جاتے ہیں۔

خبر کی ٹرانسپورٹ کرنے والے میڈیم اور مسافروں ڈھونے کی ہوس میں مبتلا ٹرانسپورٹ میں کچھ تو فرق رہنا چاہیے۔ نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ الیکٹرونک میڈیا اور شام کے گرما گرم اخبار میں کوئی خاص فرق نہیں رہا۔ یوں لگنے لگا ہے گویا خبر دی نہیں جا رہی۔ خبر کی قے کی جا رہی ہے اور رات بارہ بجے تک رائے عامہ کا پورا فرش ان خبری الٹیوں سے بھر جاتا ہے اور پھر اگلی صبح دوبارہ قے شروع ہو جاتی ہے۔ یہ صحافت نہیں ہلکے پیٹ کی بیماری ہے۔ اس کا علاج ہونا چاہیے۔ اخبار تو ایک دن بعد آتا ہے۔ اس لیے خبر اور تجزیے پر پیشہ ورانہ انداز میں غور کرنے کے لیے زیادہ وقت مل جاتا ہے لیکن الیکٹرونک میڈیا کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ بھنڈی خریدے ، چھیلے ، پکائے ، پلیٹ میں ڈالے اور پھر پیش کرے چنانچہ بریکنگ نیوز کی تھالی میں کچی بھنڈیاں بھوکے کے سامنے رکھ دی جاتی ہیں۔ کھاؤ تو کھاؤ ورنہ بھاڑ میں جاؤ۔

جس طرح ایک پیشہ ور فوج ایک موثر ڈسپلن کے سوا کچھ نہیں اور اگر اس کا دل دفاع کی بنیادی فرض کے علاوہ ادھر ادھر کی اٹریکنشنز میں لگ جائے تو پھر وہ لڑنے کے قابل نہیں رہتی۔ اسی طرح اگر میڈیا کی فوج سچی ، متوازن اور شفاف خبر کے حصول اور اسے قاری یا ناظر تک پیشہ ورانہ انداز میں پہنچانے کے بنیادی کام کو ثانوی سمجھنا شروع کردے اور مراعات ، غیر ضروری تعلقات اور اپنا الو سیدھا کرنے کے کام میں لگ جائے تو پھر بقول سراج اورنگ آبادی یوں ہوتا ہے کہ

خبرِ تحئیرِ عشق سن نہ جنوں رہا ، نہ پری رہی
نہ تو تو رہا نہ تو میں رہا ، جو رہی تو بے خبری رہی

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گھٹن بہت ہے۔ صحافی اور صحافت اسٹیٹ اور نان اسٹیٹ ایکٹرز کے محاصرے میں ہے۔ تحقیقی صحافت جان جوکھوں میں ڈالنا ہے۔ اس راہ میں جاں کا ضیاع بھی ہو جاتا ہے۔ پاکستان ویسے ہی صحافیوں کے لیے پانچ سب سے غیر محفوظ ممالک میں سے ایک ہے۔ صحافی بھی بال بچے دار ہوتے ہیں۔
یہ سب باتیں اور خدشات بالکل درست ہیں۔ مگر پھر کس نے کہا تھا کہ آپ صحافت ہی اختیار کریں۔ آخر اس ملک کو اچھے کلرکوں ، منشیوں ، ڈاکٹروں ، انجنیروں ، مکینکوں ، کورئیرز وغیرہ کی بھی تو بہت ضرورت ہے ، کسی اشتہاری کمپنی میں ہی چلے جائیں۔ کچھ اور نہیں تو ڈاکخانے کے باہر بیٹھ کر لوگوں کے خط لکھنا شروع کردیں۔

آپ تو کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ کس نے مشورہ دیا کہ آپ ایک میڈیا ہاؤس ہی بنائیں۔ اگر آپ کو صرف منافع اور پیسہ کمانے سے غرض ہے تو پھر میڈیا ہاؤس کے بجائے کسی صابن فیکٹری میں پیسہ لگا دیں ، کوئی اسکول کھول لیں ، سرکاری ٹھیکہ پکڑ لیں ، کسی ملٹی نیشنل کمپنی کی پروڈکٹس بیچنے کی دلالی کر لیں۔ کچھ بھی کر لیں۔ مگر میڈیا کو تو نہ خراب کریں۔ اسے جیسا کیسا لنگڑا لولا چلنے دیں۔ قوم کا غم ہے تو سیاسی جماعتیں بہت۔ دین کا دکھ ہے تو مذہبی تنظیمیں بہت۔ منافع و ملاوٹ زدہ صحافت سے کیا لوگوں کو ذہنی بیمار کرنا ضروری ہے۔اس سے تو بہتر ہے آپ جنسی حکیم بن جائیں۔ محنت بھی کم اور منافع  بھی زیادہ۔ لہذا مجھے کوئی یہ نہ بتائے کہ صحافت مشکل ہے۔ ہاں مشکل تو ہے۔ مگر آپ خود کو کیوں مشکل میں ڈال رہے ہیں۔ مرچوں سے زبان بھی جل رہی ہے اور کھانا بھی نہیں چھوڑ رہے۔ مت دھوکا دیں خود کو۔اور پھر ہم سب کو۔

وسعت اللہ خان

No comments:

Powered by Blogger.