Header Ads

Breaking News
recent

مقدمات میں گھرے امریکہ کے نو منتخب صدر

امریکہ کے نو منتخب صدر مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ اب وائٹ ہاؤس جانے والے ہیں لیکن
بہت سے نجی مقدمات بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان مقدمات کی نوعیت کیا ہے اور یہ کس طرح ان کی صدارت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ غیر معمولی طور پر ایک متنازع بزنس مین ہیں جو کہ ہزاروں مقدمات میں ملوث رہے ہیں جو یا تو انھوں نے خود دائر کیے یا پھر وہ اپنے خلاف عائد مقدمات کا دفاع کیا۔

امریکی اخبار یو ایس اے ٹو ڈے کے تجزیے کے مطابق منتخب صدر گذشتہ 30 سال میں لگ بھگ 4000 مقدمات میں فریق رہے جن میں سے اس وقت 75 مقدمات چل رہے ہیں۔ ان مقدمات میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اس وقت غیر فعال ٹرمپ یونیورسٹی کے ان سابقہ طالب علموں کی جانب سے کیے گئے ہیں۔ جن کا دعویٰ ہے کہ ان سے ریئل سٹیٹ کے گُر سکھانے کے لیے دسیوں ہزار ڈالر لیے گئے لیکن ایسا کیا نہیں گیا تاہم ٹرمپ ان کے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہیں۔
یہ مقدمات صدر منتخب ہونے سے بہت پہلے قائم کیے گئے تھے اس لیے مسٹر ٹرمپ کوصدارتی اثتثنٰی حاصل نہیں اور انھیں ان مقدمات کے لیے عدالتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ٹرمپ کے خلاف سب سے بڑا فراڈ کیس ٹرمپ یونیورسٹی کے طالب علموں کی جانب سے دائر کیا گیا ہے جن کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی مارکیٹنگ کی جانب سے انھیں دھوکہ دیا گیا ہے۔ یہ کیس سنہ 2010 میں دائر کیا گیا جو کہ سان تیاگو میں28 نومبر کو شروع ہوگا۔ مسٹر ٹرمپ کے وکیل نے عدالت سے کہا ہے کہ وہ انھیں اگلے برس کے اوائل تک کی مہلت دیں کیونکہ صدارتی امور کی منتقلی کے لیے انھیں وقت درکار ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انھوں نے معاملے کے حل کے لیے مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔ مسٹر ٹرمپ نے مقدمے کے جج گونزالو کیورئیل پر بھی موروثی رنجش کا الزام عائد کیا ہے۔ جج کے والدین کا تعلق میکسیکو سے ہے اور اپنی صدارتی مہم کےدوران ٹرمپ نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کریں گے۔ انھوں نے میکسیکو کے عوام کو مجرم اور قاتل اور ریپ کرنے والے والا کہا تھا۔
مسٹر ٹرمپ کے خلاف دوسرا کیس بھی سان ٹیاگو میں ہی دائر ہے جس میں ٹرمپ کے سکول کو ایک مجرمانہ ادارہ قرار دیا گیا ہے۔ ابھی وکلا اس مقدمے میں شواہد کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اور مقدمے کے آغاز کی تاریخ طے ہونا بھی باقی ہے۔ تیسرا کیس نیویارک میں دائر ہوا جس میں مسٹر ٹرمپ کی غیر لائسینس یافتہ یونیورسٹی کے بارے میں کہا گیا کہ اس یونیورسٹی کے ذریعے نیویارک کے عوام کو چار کروڑ ڈالر کا دھوکہ دیا گیا۔ اس درخواست پر جج نے مارچ میں مقدمے کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم مسٹر ٹرمپ نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کر دی تھی۔

یو ایس اے ٹو ڈے کے مطابق مسٹر ٹرمپ کی کمپنی پر فراڈ، بلوں کی عدم دائیگی، کنٹریکٹ کے تنازعات اور صنفی امتیاز کے 75 مقدمات درج ہیں۔  جیوپیٹر اور فلوریڈا میں ٹرمپ کے گاف کورس کے ممبران نے ان پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے ان سے 24 لاکھ ڈالر فیس لی لیکن کلب سے ان کی رکنیت معطل کر دی گئی۔ اسی کلب کی ایک سابقہ ملازمہ نے گذشتہ ماہ ایک مقدمے میں کہا کہ انھیں غیر قانونی طور پر نوکری سے اس وقت نکال دیا گیا جب انھوں نے اپنے ایک ساتھی پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا گیا۔ ادھر رپبلکن پارٹی کے پولیٹیکل معاون کیرل جیکوبس نے ٹرمپ پر 40 لاکھ ڈالر کا ہتک عزت کا کیس دائر کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ٹرمپ نے ٹویٹر پر انھیں 'جعلی' کہہ کر ان کا کریئر تباہ کر دیا ہے۔

ایک اور کیس کس کی سماعت 29 نومبر کو شکاگو میں ہوگی میں مسٹر ٹرمپ پر الزام لگایا گیا ہے کہ انھوں نے اپنی مہم کا پیغام عوام کے سیل فونز پر بھیج کر صارفین کے حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔ مسٹر ٹرمپ کے خلاف عائد اہم مقدمات میں دو مقدمات ایسے بھی ہیں جو ان کی جانب سے میکسیکن عوام کے خلاف دیے جانے والے نازیبا بیان پر معروف شیف جیوفری زکیرین اور جوش اینڈرس کی جانب سے دائر کیے گئے ہیں۔ ان دونوں نے واشنگٹن میں نومنتخب صدر کے لگژری ہوٹل سے کی جانے والی ڈیل بھی ختم کر دی ہے۔ اپنی مہم کے دوران مسٹر ٹرمپ نے بھی کہا تھا کہ وہ ان تمام خواتین کے خلاف مقدمات دائر کریں گے جنھوں نے ان پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ان الزامات کو چھاپنے والے اخباروں پر بھی مقدمہ دائر کریں گے۔

اسی طرح انتخابات سے قبل نیو یارک سٹیٹ کے اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ ان کا دفتر اس بات کی تحقیقات کر رہا ہے کہ آیا ٹرمپ فاؤنڈیشن چیریٹی ملک کے قانون پر عمل کر رہا ہے یا نہیں۔ ادھر انٹرنل ریوینیو سروس مسٹر ٹرمپ کی جانب سے ادا کیے جانے والے ٹیکسوں کی آڈیٹنگ کر رہا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران نیویارک ٹائمز نے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ فیڈرل ٹیکس کو 18 برس تک نظر انداز کرتے رہے۔ اسی طرح انتخابات سے قبل نیو یارک سٹیٹ کے اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ ان کا دفتر اس بات کی تحقیقات کر رہا ہے کہ آیا ٹرمپ فاؤنڈیشن چیریٹی ملک کے قانون پر عمل کر رہا ہے یا نہیں۔ بہت سے سول مقدمات مسٹر ٹرمپ کے لیے اس بات کے لیے دباؤ بڑھا سکتے ہیں کہ وہ اپنا ریکارڈ ظاہر کریں۔

No comments:

Powered by Blogger.