Header Ads

Breaking News
recent

دقیانوس اور متعصب امریکی معاشرہ

امریکی انتخابات میں ایک مرتبہ پھر ثابت ہو گیا کہ آپ احمق، متعصب ذہنیت کے
لوگوں کی عوامی طاقت کو نظرانداز نہیں کر سکتے، یہ موجود ہوتی ہے، یہ عمل کرتی ہے، چاہے یہ لوگ جتنے مرضی پڑھے لکھے ہوں، ہم تو امریکیوں کو یوں بھی بہت زیادہ پڑھے لکھے سمجھتے ہیں کہ وہاں کا بچہ بچہ انگریزی بولتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ تو پھر جمہوری طریقے سے آئے ہیں، میں نے بہت ساروں کوآمروں اور آمریتوں کے حق میں دلیلیں دیتے اور آپس میں سرپھٹول کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ جمہوریت کو ہمیشہ ایک بہترین دستیاب قابل عمل راستہ سمجھا گیا مگر اس نظام کو دینے والے افلاطون نے بھی اسے دوسرا بہترین راستہ قرار دیا تھا، ثابت ہوا، یہ طریقہ ہر مرتبہ نہیں چلتا، یہاں51 افراد احمق اپنی عددی اکثریت سے انچاس دانشوروں کو غلط ثابت کر سکتے ہیں۔
علامہ اقبالؒ کے یوم پیدائش پر ان کی دانش کا حوالہ بھی فرض ہے کہ ’ جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں، بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے‘۔ یہ تاثر بھی غلط ہوا کہ پڑھے لکھے ووٹر ہمیشہ بہتر امیدواروں کا چناؤ کرتے ہیں،بلکہ یہاں تو سوال ہی پڑھے لکھوں کا ہو گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ پر ہر قسم کا الزام لگا، وہ کرپٹ ہیں، وہ ٹیکس چور ہیں اور ٹیکس چوری کو اپنا سمارٹ ہونا قرار دیتے ہیں، وہ مخالف امیدوار اور صحافیوں سمیت دوسری خواتین ہی نہیں ،بلکہ اپنی بیوی اور بیٹی کے بارے بھی غیر مہذ ب ہیں، وہ اپنے ناجائز تعلقات کا برملا اعتراف کرتے ہیں، وہ عمومی طور پر اتنی بدکلامی کرتے ہیں کہ ان کی سوشل میڈیا ٹیم ان کی پوسٹس کو ایڈٹ کرتی ہے۔ انہوں نے امریکیوں کے اندر دوسری تہذیبوں اور مذاہب کے خلاف موجود تعصب اور نفرت کوزبان دی ہے اور اسے اپنا ہتھیار بنایا ہے، وہ آج کے دور میں بھی دیواریں گرانے کی بجائے اٹھانے کی بات کرتے ہیں۔امریکہ کبھی باقی دنیا کے لئے ایک دوست نہیں رہا، مگر ٹرمپ امریکی مفادات کی پاسبانی کرنے والی ریاستوں کو ہی دوستی کا پیغام دے رہے ہیں، امریکہ نے ہمیشہ اپنی جغرافیائی حدود سے باہر تباہی اور بربادی کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کیا ہے، مگر پہلے اس کو امن، جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر کیمو فلاج کیا جاتا تھا ،موجودہ انتخابی نتائج نے امریکیوں کی فطرت میں موجود فاشزم سے بھی نقاب اٹھا دیا ہے۔

نو نومبر کی صبح ہر طرح سے حیران کر دینے والی تھی، سندھ میں وہ گورنر تبدیل ہو رہا تھا، جس نے مُلک میں گورنرکے عہدے پر14 برس تک رہنے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا، ہمارے ٹی وی چینلز بالکل قومی انتخابات کی طرز پر ہی امریکی انتخابات کی رپورٹنگ کر رہے تھے،جوں جوں نتائج سامنے آتے چلے جا رہے تھے رائے عامہ کے تمام اندازے اور سروے غلط ثابت ہو رہے تھے۔ یہاں میرا اندازہ ہے کہ صدارتی انتخاب کے مشکل ترین طریقہ کار کے باوجود مختلف ریاستوں میں الیکٹرول ووٹوں کے حصول کا طریقہ کار ایک بار پھر اعتراضات کی زد میں آئے گا ۔ مجھے حیرت ان پر ہے جو پاکستان کے سوشل میڈیا میں یہ دعوے کررہے تھے کہ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی بارے پہلے ہی بتا دیا تھا، ان دانشور دوستوں کے پاس امریکہ میں رائے عامہ جانچنے کا ایسا موثر نظام موجود تھا جو خود امریکہ کے اداروں اور میڈیا گروپس کے پاس بھی نہیں تھا ۔

اگر آپ ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کو قبول کر سکتے ہیں تو آپ کو یہ دعوے بھی قبول کر لینے چاہئیں، ایسے دوستوں کو اپنے اس علم کو مستحکم بنانے پر خصوصی توجہ دینی چاہئے ،میں ان کی کسی سوال اٹھائے بغیر تعریفیں ہوتے دیکھ رہا ہوں۔ مجھے ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح کے بعد تقریرنے بھی حیران کیا، وہ ان کی انتخابی مہم میں کئی گئی باتوں سے ایک سواسی درجے پر تھی۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں سے نفرت اور ہندووں سے محبت نہیں چھپائی تھی مگر کامیابی کے بعد وہ کہہ رہے تھے کہ وہ تمام امریکیوں کو رنگ ، نسل اور مذہب کی تفریق کئے بغیر ساتھ لے کر چلیں گے، انہوں نے قرار دیا کہ ان کی انتخابی مہم محض کوئی مہم نہیں تھی، بلکہ امریکہ کو عظیم تر بنانے کی ایک تحریک تھی جو ابھی جاری ہے۔ ایسے میں امید کی جانی چاہئے کہ امریکہ میں کام کرتے ہوئے مضبوط ادارے اور تھنک ٹینک ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحیت کو روک لگا سکیں گے مگر یہ امید تو امریکی ووٹروں سے بھی بطور ادارہ موجود تھی جو پوری نہیں ہوئی۔

ڈونلڈٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران تمام منفی ہتھیار استعمال کئے، اب وہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس امریکہ کو عظیم تر بنانے اوراس کی معیشت کی مضبوطی کا فارمولہ موجود ہے تو انہیں اس پر زیادہ بات کرنا ہو گی۔ سیاسی تاریخ کی روایات ہیں کہ منفی نعروں سے کامیابی حاصل کرنے والے مثبت اقدامات کی طرف نہیں آ پاتے، وہ اپنی ہی باتوں کے جال میں اُلجھے رہ جاتے ہیں۔ یہ نہایت آسان ہے کہ آپ دوسروں پر استحصال کا الزام لگا دیں مگر یہ اتنا ہی مشکل بھی ہے کہ آپ زبانی کلامی الزامات سے باہر نکلتے ہوئے عملی میدان میں تعمیر ی کام کریں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کا اصل پیغام تو جاپان اور انڈیا سمیت دُنیا بھر کی سٹاک مارکیٹوں نے دے دیا ہے ۔ یہاں ڈونلڈ ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کی طرف سے نامزدگی سے لے کر اب تک ہم سب ایک اہم روئیے کو نظرانداز کرتے چلے آئے ہیں جو امریکیوں کا عمومی طور پر رہا ہے، وہ ہمارے خیبرپختونخوا کے ووٹروں کی طرح تبدیلی لاتے ہیں، اس بار ہر دو صورتوں میں تبدیلی لازم تھی، وہ ایک تجربہ کار اور ڈیسنٹ خاتون کو بھی لا سکتے تھے جیسے انہوں نے تبدیلی کے نعرے پر عمل کرتے ہوئے ایک کالے کو صدر منتخب کر لیا تھا اور دوسری طرف وہ روایتی اور سنجیدہ قیادت سے اکتاتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ہلا گلا چاہتے تھے۔

امریکیوں کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم برطانویوں کا مزاج سمجھیں جو روایت پسند ہیں، جو سنجیدہ مزاج ہیں، برطانویوں کو سمجھنے کے بعد آپ امریکیوں کو اسی طرح الٹ سمجھ سکتے ہیں جیسے امریکہ میں ٹریفک سمیت ہر شے برطانیہ سے الٹ ہے۔ فاسٹ فوڈ پسند کرنے والے امریکی عمومی طور پرنہ صرف غیر ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں، بلکہ کھلنڈروں اور فنکاروں کو پسند کرتے ہیں ،سابق امریکی صدور میں ایسے لوگوں کی بڑی تعداد دیکھی جا سکتی ہے۔ بہت سارے دوست سوال کر رہے ہیں کہ اب امریکہ کیا کرے گا اور میرا جواب یہ ہے کہ اب امریکہ وہی کرے گا، جو ہمیشہ سے کرتا چلا آیا ہے، مگر وہ اس سے پہلے تباہی کے لئے دنیا کی بھلائی کے نام پر نوسر بازی کرتا تھا مگر اب وہ عظیم تر امریکہ کے نام پر وہی کچھ کرے گا، طاقت کا کوئی مذہب اور کوئی اصول نہیں ہوتا ، وہ صرف ماسک بدلتی ہے ،ہاں، ہمارے تارکین وطن کے لئے مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں، کیونکہ ری پبلکنوں نے اس مرتبہ امریکیوں کے تعصب کو اسی طرح استعمال کرنے کی کوشش کی ہے جس طرح کبھی جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگایا گیا تھا، جس بنیاد پر سندھ میں ایک پارٹی ہمیشہ کامیابی حاصل کرتی ہے، جیسے خیبرپختونخوا میں کچھ سیاسی جماعتیں اپنے ووٹ بنک کو مستحکم کرتی ہیں یا بلوچستان میں آباد کاروں کے خلاف بلوچی رہنما مقامی آبادی کی محرومیوں کا نعرہ لگاتے ہیں۔

ایک سوال ان اہل علم کہلائے اور باخبر سمجھے جانے والے امریکیوں سے کیا جا سکتا ہے جو پاکستان کو ایک دقیانوس اور متعصب معاشرہ قرار دیتے ہیں مگر اسی معاشرے نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو دو مرتبہ وزیراعظم بنایا، اب وہ دانشور اپنے امریکی معاشرے کے بارے میں کیا کہیں گے، جس نے ایک ذمہ دار، تجربہ کار اور مہذب خاتون کو مسترد کرتے ہوئے ایک ٹیکس چور، متعصب اورلوفر کی شہرت رکھنے والے کو صدر کا عہدہ دے دیا،یہ اکیسویں صدی ہے جب عورتیں ہر شعبے میں اپنی صلاحیتیں منوارہی ہیں مگرامریکی تب بھی ایک عورت کو سربراہ حکومت بنانے کے لئے تیار نہیں، جب دنیا گلوبل ویلج بنتی چلی جا رہی ہے وہ آج بھی کالوں اور تارکین وطن کو برداشت کرنے پر آمادہ نہیں۔ میں امریکیوں کے فیصلے کو مسترد کرنے کا اختیار نہیں رکھتا مگر مجھے رائے رکھنے کا حق ہے، میری رائے ہے کہ دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ رکھنے والوں نے اس نظام کا وہ بدترین چہرہ پیش کیا ہے جس میں ریاستی معاملات کی ذمہ داری ایک مسخرے اور ایک مجرم کو بھی سونپی جا سکتی ہے اگر وہ آپ کو بے وقوف بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

نجم ولی خان

No comments:

Powered by Blogger.