Header Ads

Breaking News
recent

اپنوں سے دوری، بہتر زندگی کی بڑی قیمت

ٹی وی پر امریکہ کے صدارتی انتخاب میں ہونے والی بیان بازی سن کر آپ کو اگر
یہ لگا ہو کہ اس بار کے اہم مسائل یا تو ڈونلڈ ٹرمپ کی بیان بازیاں ہیں یا پھر ہلیری کلنٹن کی ای میلز کی پریشانیاں، تو پھر آپ کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ اس بار زیادہ تر سرخیاں انھی باتوں پر مبنی ہیں۔ امیگریشن، معیشت، نسل پرستی، دہشت گردی جیسے مسائل کبھی ایک بڑی سی دیوار بنانے کی بحث میں، کبھی مسلمانوں کو امریکہ سے باہر کرنے کی باتوں میں تو کبھی چین سے روزگار واپس لانے کے سطحی مباحثے میں کہیں کھو کر رہ گئے ہیں لیکن جب بی بی سی کے نامہ نگار برجیش اپادھیائے نے عام امريكيوں سے بات کی تو یہ بات سامنے آئی کہ ان کے لیے یہ مسائل بظاہر کتنی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ مزید ایک خاص بات یہ نظر آئی کہ ہر مسئلہ کہیں نہ کہیں معیشت سے بھی منسلک ہے۔
جینٹ کی ڈائری میں سنیچر کی ہر صبح لائحہ عمل طے ہوتے ہیں۔ اپنے بچوں کے ساتھ وہ اپنی ماں سے ملنے جاتی ہیں۔ آپ کو یہ ایک عام سی کہانی معلوم ہو سکتی ہے لیکن فرق صرف یہ ہے کہ یہ ملاقات لوہے کی سلاخوں کے آر پار ہوتی ہے۔ جینٹ اپنی ماں کو ایک پرچھائی نما چہرے کی طرح دیکھ پاتی ہیں اور صرف ان کی انگلیوں کو چھو پاتی ہیں۔ یہ جگہ کیلی فورنیا کے سان ڈیاگو شہر کے باہر امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر قائم فرینڈشپ پارک میں ہے۔ سرحد پر لوہے کی جیل نما دیواروں کے درمیان ایک چھوٹا سا کونا جہاں ہر ہفتے سنیچر اور اتوار کی صبح صرف چار گھنٹوں کے لیے بہت سے لاطینی خاندان سرحد پار اپنے اہل خانہ کی آہٹ سننے کے لیے یہاں آتے ہیں۔ جینٹ کہتی ہیں 'میں اپنے بچوں سے کہتی ہوں کہ اپنی ماں سے نہیں مل پانا، ان کو گلے نہیں لگا پانا میرے لیے انتہائی مشکل ہے لیکن یہ قیمت میں تمہاری بہتر زندگی کے لیے چکا رہی ہوں۔'
ان ملاقاتوں میں تھوڑے آنسو، تھوڑی ہنسی، گلے شکوے سب کچھ ہوتے ہیں لیکن جالیوں کے پار سے ہمیشہ یہی سوال ہوتا ہے کہ تمہارے کاغذات کب بنیں گے؟

جینٹ کی طرح یہاں آنے والے زیادہ تر لوگوں کے پاس ایسے دستاویزات نہیں ہیں کہ وہ سرحد پار کر کے واپس آ سکیں۔ امریکہ میں ایسے لاکھوں لوگ ہیں جو برسوں پہلے بغیر دستاویزات کے یہاں آئے، یا پھر ویزا ختم ہونے کے بعد یہاں رہ گئے۔ کچھ اپنے بچوں کے ساتھ آئے تھے، بعض کے بچے یہاں پیدا ہوئے اور امریکی شہری بن گئے لیکن ماں باپ 'غیر قانونی' ہی رہے۔ لاکھوں ایسے خاندان ہیں جن کے بچے یہاں ہیں لیکن ماں باپ پولیس کی حراست میں آئے اور انھیں سرحد پار بھیج دیا گیا۔ ملک میں امیگریشن کے قوانین میں بہتری کی بہت کوششیں ہوئیں لیکن سیاست آڑے آتی رہی بطور خاص رپبلكن پارٹی کی سیاست، جہاں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ امیگریشن نے امریکہ کو کمزور کیا ہے۔
صدر اوباما نے ایک سرکاری حکم کے ذریعہ ایسے لاکھوں لوگوں کو ایک روزگار کارڈ دیا جس سے وہ اس سائے سے باہر نکل آئیں، ٹیکس دیں اور شہریت کی قطار میں شامل ہو جائیں۔ کارڈ ایک طرح کی ضمانت ہے کہ انھیں واپس نہیں بھیجا جائے گا۔

لیکن اس انتخابی موسم میں ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف بغیر دستاویزات والے تمام لوگوں کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے بلکہ سرحد پر ایک ایسی دیوار بنانے کا اعلان کیا ہے جسے کوئی عبور نہ کر سکے۔ ان کی دلیل ہے کہ اوباما کی کارروائی ایک طرح سے لوگوں کو قانون کی خلاف ورزی کرنے کے لیے انعام ہے۔
ٹرمپ کے اس اعلان کی وجہ سے اس روزگار کارڈ کے باوجود بہت سے لوگ سہمے ہوئے سامنے آتے ہیں اور جینٹ کی طرح ہی اپنا پورا نام بتانے میں ہچکچاتے ہیں کہ پتہ نہیں نئی حکومت کے بعد کہیں انھیں دوبارہ چھپ چھپا کر نہ رہنا پڑے۔

جینٹ کہتی ہیں: 'ہم کوئی مجرم نہیں، برے لوگ نہیں ہیں۔ اپنے ملک میں مواقع نہیں تھے تو ایک بہتر زندگی کے لیے یہاں آ گئے۔ ٹرمپ کی باتیں سن کر دل گھبرانے لگتا ہے۔ خیال رہے کہ ٹرمپ کی صدارتی دعویداری میں ایک نئی دیوار کے وعدے کا اہم تعاون ہے، لیکن کیلیفورنیا سے ٹیکسس تک پھیلی سرحد پر پہلے ہی زیادہ تر حصوں میں لوہے کی سلاخوں والی دیواریں موجود ہیں جن پر تقریباً 20 ہزار پٹرول ایجنٹس اور ڈرونز کے ذریعہ کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔
شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب کوئی ان دیواروں کو پار کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ کئی جگہ ایک منٹ میں جالياں کاٹ دی جاتی ہیں لیکن سرحد پر موجود پٹرول ایجنٹ جیمز نلسن کا کہنا ہے کہ دیوار کی وجہ سے دراندازی میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔

دیوار کے جتنے قریب جائیں، وہاں رہنے والے لوگ ایک نئی دیوار کی کامیابی پر سوال اٹھاتے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے ہم سے کہا کہ جب تک سرحد کے پار زندگی بہتر نہیں ہوتی، لوگ اس طرف آنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ بطور خاص اس وقت جب میکسیکو کے مکانوں کی کھڑکیوں سے امریکہ کے خوشحال چہرے چوبیس گھنٹے نظر آتے ہوں۔ مجھے دستاویزات کے ساتھ امریکہ سے میکسیکو پیدل جانے میں بہ مشکل بیس منٹ لگے اور میکسیکو کے تیووانا شہر میں داخل ہوتے ہی احساس ہوا کہ فرسٹ ورلڈ اور تھرڈ ورلڈ اتنے قریب بھی ہو سکتے ہیں۔
دیوار کی دوسری طرف شور تھا، بھیڑ تھی، چھوٹے بچے سڑکوں پر سامان فروخت کر رہے تھے، خریداری میں مول تول ہو رہے تھے، ٹیكسی والوں کے درمیان گاہکوں کو پکڑنے کے لیے رسہ کشی تھی، آوارہ کتے سڑکوں پر نظر آ رہے تھے، مرغ کی بانگ سنائی دے رہی تھی۔

وہاں رہنے والے ایک شخص جیسوس کا کہنا تھا کہ جب لوگ ایک بہتر زندگی کی تلاش میں گھر چھوڑ دیتے ہیں تو بھلے ہی سرحد کے نیچے سے سرنگ ہی کیوں نہ بنانی پڑے وہ اس پار جانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ دنیا کے مختلف کونوں سے آنے والے لوگ تیووانا میں انتظار کرتے ہیں کبھی دھند کا، کبھی اندھیرے کا، کہ موقع پاتے ہی دوسری طرف چھلانگ لگا سکیں۔ جیسوس کہتے ہیں: جو داخل ہو پاتے ہیں وہ بھی ایسے کام کرتے ہیں جو عام امریکی نہیں کرتے۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ جیت گئے اور ان لوگوں کو باہر بھیج دیا تو امریکی معیشت نالی میں چلی جائے گی۔ دیکھا جائے تو اوباما انتظامیہ کے دور میں بھی 25 لاکھ لوگوں کو ڈیپورٹ کیا گیا ہے، خاص طور سے انھیں جو قانون توڑتے ہوئے پائے گئے خواہ وہ ٹریفک قوانین کی معمولی خلاف ورزی ہی کیوں نہ ہو۔ ٹرمپ ایک کروڑ سے زیادہ کے لیے ڈیپورٹیشن کی بات کر رہے ہیں۔

بہت سے لوگ دیوار کو ان امریکی اصولوں کے خلاف مانتے ہیں جن کی بنیاد پر یہ ملک بنا تھا۔ اس ملک کو ایک طرح سے باہر سے آنے والوں نے ہی بنایا ہے لیکن جو ٹرمپ کی باتوں کی حمایت کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اگر سرحدیں مضبوط نہیں تو امریکی قانون کا ڈر ختم ہو جائے گا، امریکہ کمزور ہو جائے گا۔
سرحد کے پاس ہی ایک شہر ہنکوبا میں رہنے والے جان ہاگ کا کہنا تھا کہ میڈیا والے ان جیسے لوگوں کو ولن کی طرح پیش کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، 'ذرا سوچیے اگر سرحد نہیں ہوگی، تو ملک کیا رہے گا؟'

لاطینی امریکی نژاد لوگوں کے لیے امیگریشن سب سے اہم انتخابی مسائل میں سے ایک ہے اور ٹرمپ کی دیوار نے سب سے زیادہ انھیں متاثر کیا ہے۔ کئی ریاستوں میں ان کے ووٹ صدر کے عہدے کی دوڑ میں اہم کردار ادا کریں گے۔
بظاہر امریکہ آج اس دوراہے پر ہے جہاں ایک سوچ بلند ہوتی دیواروں کو اپنی بہتری کا راستہ کہتی ہے، دوسری وہ جو دیواروں کے باوجود نئے راستے تلاش کرنے کی کوشش میں لگی ہے۔ یہ انتخابات کافی حد تک انھی دونوں کے درمیان کی جنگ ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو


No comments:

Powered by Blogger.