Header Ads

Breaking News
recent

ساٹھ ہزار افراد کو بچانے والے امن کے نوبل انعام کے مستحق نہ تھے ؟

کیا آپ امن کے نوبل انعام کے حصول کے لیے ان کو سپورٹ کریں گے ؟
شامی صدر نے حیران ہو کر کہا : کن کو؟
صحافی نے جواب دیا : "سفید ہیلمٹ" والوں کو ؟
صدر نے استہزائیہ انداز میں ہنستے ہوئے پوچھا : انہوں نے شام کے لیے کیا کیا ہے ؟

بیرل بم کے دھماکے کی اچانک آواز کے ساتھ ایک عمارت کی چھت پلک جھپکتے ہی زمین بوس ہو گئی۔ چند منٹوں تک خاموشی چھا جاتی ہے جس کے بعد وہ اپنے ننگے ہاتھوں کے ساتھ نمودار ہوتے ہیں اور ملبے تلے افراد کی تلاش شروع کرتے ہیں تاکہ انہیں بچایا جا سکے۔ یہ ہیں وہ "سفید ہیلمٹ" والے جو شام میں 3 ہزار رضاکاروں کی صورت میں موجود ہیں۔ برطانوی اخبار گارڈین نے ایک خصوصی رپورٹ شائع کی ہے جس کا عنوان ہے "شام میں سفید ہیلمٹ والے رضاکار امن کے نوبل انعام کے مستحق"... رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان میں زیادہ تر رضاکار " بڑھئی ، درزی ، انجینئر یا طالب علم ہیں ، تاہم آج انہوں نے اپنی زندگیوں کو دوسروں کی جان بچانے کے لیے وقف کر دی ہے"۔
اخبار نے شامی حکومت کے سربراہ بشار الاسد (جس نے سفید ہیلمٹ والوں کے مؤثر ہونے پر نکتہ چینی کی تھی) کے منہ پر اخلاقی طمانچہ رسید کرتے ہوئے باور کرایا ہے کہ "امن کا نوبل انعام جیتنے والے شخص کے انتخاب کی ذمہ دار کمیٹی کو چاہیے کہ اس بات کو جانے کہ سفید ہیلمٹ والے اس کمیٹی کی بھرپور توجہ کے مستحق ہیں"۔ سال 2015 میں شام میں شہری دفاع کے مطابق سفید ہیلمٹ والوں نے امدادی کارروائیوں کے دوران ملبے تلے دبے 42 ہزار سے زیادہ افراد کو نکال کر ان کی جان بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ امدادی کارروائیوں کے دوران 88 رضا کاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ رواں سال 2016 میں جاں بحق ہونے والے سفید ہیلمٹ والے رضاکاروں کی تعداد بڑھ کر 145 ہو گئی جب کہ انہوں نے 60 ہزار سے زیادہ افراد کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا جن میں کئی ننھے بچے بھی شامل تھے۔

ملبے کے نیچے سے 60 ہزار زندگیاں
شام میں تربیت یافتہ "سفید ہیلمٹ" والوں کی ٹیمیں 2013 میں آزاد علاقوں کے شہروں اور دیہات کے اہلیان نے اپنی مدد آپ کے تحت باہمی تعاون سے تشکیل دی تھیں۔ بعد ازاں کام کے آغاز کے بعد انہوں نے ایک باقاعدہ منظم ادارے کی صورت اختیار کر لی جس کی اپنی انتظامیہ اور باقاعدہ رضاکار ہیں۔ "نوبل" کی ویب سائٹ نے شام میں امدادی کارروائیوں میں شریک ان سفید ہیلمٹ والوں کی ایک وڈیو پیش کی ہے اور ساتھ ہی ملبے تلے دبے تقریبا 60 ہزار شامیوں کو بچانے میں ان رضاکاروں کے انسان دوست کردار پر روشنی ڈالی ہے۔ ویب سائٹ کی اس کاوش کو سوشل میڈیا پر شامی اور عرب حلقوں میں وسیع پیمانے پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔

ویب سائٹ کے لنک پر شام میں شہری دفاع کے سربراہ رائد صالح کا اپنا بیان بھی دیا گیا ہے۔ بیان میں ان کا کہنا ہے کہ "میں شام میں شہری دفاع (جو سفید ہیلمٹ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں) کا سربراہ ہوں۔ ہم نے ملبے کے نیچے سے نکال کر 60 ہزار زندگیوں کو بچایا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم میں سے کوئی زخمی ہوجائے تو ہمارے پاس رقم نہیں کہ ہسپتالوں میں علاج کے اخراجات ادا کر سکیں ، میں بہت سے ایسے ساتھیوں کو جانتا ہوں جو اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ، افسوس کہ ہمارے پاس ان کے اہل خانہ کو معاوضے کے طور پر دینے کے لیے کچھ نہیں ہے"۔

بہت سے حلقوں کا خیال ہے کہ سفید ہیلمٹ والوں کی سوسائٹی کے نوبل انعام کے جیتنے یا نہ جیتنے سے قطع نظر.. امن کے انعام کے لیے ان کی نامزدگی ایسا اقدام ہے جو شام کے مسئلے کو بھرپور طاقت کے ساتھ آگے کی جانب لے جائے گا اور ایک منظم نسل کشی کا شکار شامی عوام کی الم ناک صورت حال کو واضح کرنے میں کردار ادا کرے گا۔ شامی حکومت ، ایران ، روس اور حلیف ملیشائیں اس نسل کشی کو دنیا کی نظروں اور سماعت سے اوجھل رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔
یاد رہے کہ "White Helmets" کو مصری اور روسی کارکنان اور ایک ترک اخبار کے ساتھ مشترکہ طور پر رواں سال 2016 کے "متبادل نوبل انعام" کا حق دار قرار دیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ – محمد الحسـن

No comments:

Powered by Blogger.