Header Ads

Breaking News
recent

ہمارے موبائل فون کی لت میں مبتلا ہونے کی وجہ کیا ہے ؟

اسمارٹ فون کا پھیل جانا ایک ایسی حقیقت ہے جس سے فرار ممکن نہیں اور اسی
طرح اس کی لت پڑجانے کا مسئلہ بھی ! اس میں کوئی شک نہیں کہ (اسمارٹ) فون کی لت بھی دیگر نشوں کی مانند ہے جو کہ اکثر اوقات بہت سے خاندانی مسائل اور ازدواجی اختلافات کا بنیادی سبب ہوتا ہے۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو رات میں بستر پر فون کو ساتھ نہیں رکھتے، کتنے ہیں جو رات میں بیدار ہو کر سب سے پہلے اپنا فون تلاش نہیں کرتے ، کون ہے جس نے کم از کم ایک مرتبہ بھی غسل خانے میں فون کا استعمال نہیں کیا اور کون ہے جو دوست کے ساتھ کھانے کے دوران فون پر اپنی انتہائی ضرورت کو دور رکھنے میں کامیاب رہا ؟
سوالات کی فہرست تو طویل ہے تاہم یقینا ان میں سے ہر ایک سوال کا سائنسی جواب اور منطقی تفصیل ہے۔ ایسا نظر آتا ہے کہ فون کی اس لت کا "سحر انگیز" اور سائنسی جواب "ڈوپامین" ہارمون میں پوشیدہ ہے !!!
ڈوپامین کیا ہے ؟
بعض سائنس دانوں نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ کوئی دل چسپ خبر پڑھنا یا زندگی میں اہمیت رکھنے والی کسی شخصیت کی جانب سے پیغام کا ملنا (جو کہ ہم اپنے فون پر حاصل کرتے رہتے ہیں) ان کے سبب دماغ سے ڈوپامین نامی ہارمون خارج ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہم مسرت محسوس کرتے ہیں لہذا ہم اس جانب مائل ہوتے ہیں کہ مذکورہ ہارمون کے خارج ہونے سے بار بار مسرت حاصل کریں۔
ڈوپامین کی تعریف کیا ہے ؟ آسان الفاظ میں یہ ایک کیمیائی مادہ ہے جو دماغ میں ردعمل کا ذریعہ بنتا ہے تاکہ بہت سے احساسات اور برتاؤ کو متاثر کرسکے۔ لطف اور مسرت کے احساس اور لت میں ڈوپامین مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

اب ہم ڈوپامین کے فون کے ساتھ تعلق کی طرف واپس آتے ہیں۔ جرمنی میں بون یونی ورسٹی کے محقق الیگزینڈر مارکووٹس کے مطابق انسان موبائل اسکرین میں کچھ نیا ہونے کی امید پر اسے باربار دیکھنے کی اضطراری کیفیت میں رہتا ہے۔ یہ عمل ڈوپامین ہارمون (جو مسرت کے ہارمون کے نام سے جانا جاتا ہے) کے خارج ہونے کے لیے جسم کو متحرک کرتا ہے. اور اسی وجہ سے انسان موبائل فون کو ہاتھ میں پکڑے رہنے اور اس میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کو فوری طور جاننے کی مسلسل خواہش رکھتا ہے۔

تخلیقی صلاحیت کا کم ہو جانا

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وقفے وقفے سے فون کی طرف دیکھنے کے نتیجے میں انسان کے اندر سے تخلیقی صلاحیت کم ہو جاتی ہے. یہاں ماہرین اسمارٹ فون کے استعمال میں حدود کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ ہر 20 منٹ کے بعد موبائل کی اسکرین کو دیکھنا تخلیقی صلاحیت اور مسرت کے احساس کو کم کرتا ہے ۔ جرمن محقق الیگزینڈر مارکووٹس نے اسمارٹ فون کے ساتھ انسانی معاملے کو باریک بینی سے جانچنے کے لیے ایک ایپلی کیشن تیار کی ہے۔ اس ایپلی کیشن کے مطابق اسمارٹ فون استعمال کرنے والا شخص یہ جاننے کے لیے کہ آیا کوئی نئی چیز آئی ہے یا نہیں. روزانہ اوسطا تقریبا 88 مرتبہ اسمارٹ فون کو دیکھتا ہے اور ایک دن کے اندر 53 مرتبہ پیغامات یا پیغامات کے جواب ارسال کرتا ہے۔ ان امور کا نتیجہ ذہنی انتشار اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کمزور ہونے کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ تاہم سائنس داں ساتھ ہی یہ بھی باور کراتے ہیں کہ اسمارٹ فون کا بار بار اور زیادہ استعمال کرنے والے ہر شخص کو اس کی لت میں مبتلا شمار نہیں کیا جاسکتا۔ وہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ معاملہ خطرناک اور سنگین شکل اس وقت اختیار کرتا ہے جب اسمارٹ فون انسان کی خاندانی اور سماجی زندگی کو نمایاں صورت میں متاثر کرنا شروع کر دیتا ہے۔

No comments:

Powered by Blogger.