Header Ads

Breaking News
recent

بھارت کی ایک اور بے عزتی : آن سانگ سوچی نے پاکستان کو تنہا کرنے کی مخالفت کر دی

 میانمار کی وزیر خارجہ اور آزادی اظہار و اِنسانی حقوق کی علمبردار آن سانگ سوکی نے نے بھارت میں بیٹھ کر بھارتی حکمرانوں اور میڈیا کی توقعات پر پانی پھیر دیا پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کے بھارتی مئوقف کی نفی کرتے ہوئے انہیں نے کہا کہ میانمار میں کچھ عرصہ پہلے تاریخ کی بدترین دہشت گردی ہوئی جس میں اس گروپ کے ملوث ہونے کے الزامات لگے جسے پاکستان میں تربیت یافتہ ایک شخص ” حاوث طوہار “ چلا رہا تھا ہمیں نہیں پتہ یہ شخص ماہ کی دہشت گردانہ تربیت میں کیا کرتا رہا ہمارے پاس اطلاعات تھیں کہ اسکی تنظیم ” اقامالجاہدین “ کو بعض اسلامی ملک فنڈ فراہم کر رہے ہیں مگر یہ صرف ایک ذریعہ سے حاصل شدہ اطلاع تھی اور ہم اسے مکمل درست نہیں سمجھ سکتے تھے۔ تاہم ہم اس پر چوکنے ہو گئے کسی ملک پر الزام نہیں لگایا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کویہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی کیخلاف کارروائی کے دوران دہشت گردی کو تنہا کر نے کی ضرورت ہے کسی ملک طبقے یا گروہ کو نہیں اسکے علاوہ یہ بھی مدنظر رکھنا ضرور ہے کہ تشد سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا مگر یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ لوگ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے دہشت گردی کو ہتھیار بنانے پر مجبور ہوتے ہیں انہیں اسکا کوئی شوق نہیں ہوتا انہوں نے کہا کسی ملک یا طبقے کو عالمی سطح پر تنہا کر دینے سے دہشت گردی پر قابو نہیں پا یا جا سکتا اس مسلئے پر سب ممالک کو ملکر کوششیں کر نی ہو گی۔

آن سانگ سوکی نے کہا کہ اس اصلاح کے استعمال سے بدھوں اور روہنگیا مسلمانوں میں ہم آہنگی اور یگانگت پیدا نہیں ہوتی فاصلے بڑھتے ہیں ہماری ریاست ریکھنی کے باشندے ان مسلمانوں کو بنگلہ دیشی مانتے ہیں جبکہ یہ مسلمان تمام نہیں مگر اکثریت اپنے آپ کو روہنگیا کہتے ہیں انکا مسئلہ بہت پرانا اور ہمارے اپوزیشن والے دور میں ہونے کے وقت سے چلا آ رہا ہے اور اس مسئلے کو حال کرنے میں بنگلہ دیشن ہماری مدد کر سکتا ہے سوکی نے اس تاثر کو ر د کر دیا کہ بچھلی فوجی حکومت کی طرف بھارت کے جھکاﺅ کو مدنظر رکھتے ہوئے میانمار کا رجحان چین کی طرف بڑھا ہے۔ ا±نہوں نے کہا کہ ہمارے بھارت ، بنگلہ دیشن سمیت تمام ممالک سے برادرانہ تعلقات ہیں۔

No comments:

Powered by Blogger.