Header Ads

Breaking News
recent

بھارت کو بھرپور جواب دینے کی ضرورت

مقبوضہ کشمیر میں اڑی واقعے کے بعد بھارت پاکستان کے خلاف مسلسل اشتعال
انگیزی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ جمعرات کو اس نے آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گولہ باری اور فائرنگ کی جس سے پاکستان کے دو فوجی جوان شہید ہو گئے‘ بھارتی حکام نے اپنی اس جارحانہ کارروائی کو سرجیکل اسٹرائیکس کا نام دیا ہے۔ آئی ایس پی آر نے بھارت کے اس دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے کسی حصے میں سرجیکل اسٹرائیکس نہیں ہوا۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت نے ایل او سی کے ساتھ 5 سیکٹرز پر چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی جس سے 2فوجی جوان شہید اور 9زخمی ہوئے‘ بھارت کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیکس کا دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے‘ اس کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر سوچے سمجھے منصوبے کے تحت فائرنگ کی گئی۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھارت کی بلااشتعال فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے‘ مسلح افواج اور قوم ملکی سالمیت کا دفاع اور دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملانے کی صلاحیت رکھتی ہیں، انھوں نے بھارتی فائرنگ سے شہید ہونے والے دو پاکستانی فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ ادھر بھارت کے بعد افغانستان‘ بنگلہ دیش اور بھوٹان نے بھی سارک کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا جس کے بعد کانفرنس ملتوی کر دی گئی ہے جب کہ پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارتی ہٹ دھرمی سے خطہ مزید پسماندگی کا شکار ہو گا۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ سارک کانفرنس جب بھی ہوئی پاکستان ہی میں ہو گی۔

اڑی حملے کے بعد بھارت نے پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیکس کی مسلسل دھمکیاں دیتے ہوئے خطے میں جنگی فضا پیدا کردی تھی۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیراعظم مودی نے جنگ کے حوالے سے  بھارتی عسکری قیادت سے صلاح مشورے شروع کر دیے‘ اس کے بعد انھوں نے سندھ طاس معاہدہ منسوخ کر کے پاکستان کا پانی بند کرنے کا عندیہ دے دیا۔ پھر بھارت نے سارک کانفرنس کو سبوتاژ کر دیا۔ مودی کی پاکستان مخالف سرگرمیوں اور بیانات سے ماحول میں کشیدگی پیدا ہو گئی اور بات اتنی بڑھی کہ کسی بھی وقت جنگ چھڑنے کے خطرات محسوس کیے جانے لگے۔ اب اس نے آزاد کشمیر پر حملہ کرکے پورے خطے کا امن خطرے میں ڈال دیا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بھارت اپنے عوام کا غصہ ٹھنڈا اور انھیں رام کرنے کے لیے سرجیکل اسٹرائیکس کا اوچھا ہتھکنڈا استعمال کر رہا ہے۔ جب کہ اس کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیکس کا دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے۔

پاکستانی فوج نے بھی بھارتی فائرنگ کا بھرپور جواب دیا اور دشمن کو شدید نقصان پہنچایا۔ بھارتی حکمران یہ اعلان کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان کو دنیا میں تنہا کر دیں گے۔ سارک کانفرنس کا انعقاد سبوتاژ کرنے کی کوشش بھی اسی بھارتی سازش کا حصہ معلوم ہوتی ہے‘ بھارت نے نہ صرف خود سارک کانفرنس میں شرکت کرنے سے انکار کیا بلکہ افغانستان‘ بنگلہ دیش اور بھوٹان کو بھی اپنے ساتھ ملا کر شرکت سے روک دیا۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ اگر رکن ممالک میں سے کوئی ایک بھی کانفرنس میں شریک نہ ہو تو سارک کانفرنس منعقد نہیں ہوتی۔ سارک کانفرنس کے قیام کا مقصد خطے کے ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانا‘ امن قائم کرنا اور تجارت کو فروغ دینا تھا ۔ لیکن بھارت کی جانب سے سارک کانفرنس کے اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش سے یہ  پاکستان میں اس سال منعقد نہیں ہوسکا۔ بھارت نے ایسی مذموم حرکت پہلی بار نہیں کی بلکہ پہلے بھی وہ چار مرتبہ سارک کانفرنس ملتوی کروا چکا ہے۔

اگر بھارت کا یہی رویہ رہا تو خدشہ ہے کہ سارک تنظیم اپنی اہمیت کھو بیٹھے گی۔  بھارت پاکستان کا پانی روکنے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں متعدد ڈیمز تعمیر کر رہا ہے اس کے علاوہ وہ افغانستان میں بھی پاکستان کی طرف آنے والے دریا پر ڈیم کی تعمیر میں بھرپور معاونت کر رہا ہے۔ اگر یہی صورت حال رہی تو خطرہ ہے آیندہ چند ہی برسوں میں پاکستان میں پانی کا شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ بھارت پاکستان کو دبانے کے لیے مسلسل جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے‘ آزاد کشمیر پر حملہ بھی اسی کا ایک حصہ ہے۔

ایسے کشیدہ ماحول میں جب پاکستان کی سلامتی کو خطرات پیدا ہو گئے ہیں ہماری حکومت کو اس موقع پر بھارت کو ہر محاذ پر بھرپور جواب دینا چاہیے، دشمن کو بتا دیا جائے کہ پاکستان ہر قسم کی جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے‘ اس موقع پر ہمیں زندہ قوم ہونے کا ثبوت دینا ہو گا‘ آزاد کشمیر میں شہید ہونے والے فوجیوں کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے‘ اگر روایتی بیان بازی اور کمزوری کا مظاہرہ کیا گیا تو اس سے بھارت کا حوصلہ بڑھے گا اور وہ اپنے حملوں میں مزید تیزی لے آئے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ پوری قوم کو متحد کر کے دشمن کو بھرپور جواب دیا جائے‘ اس کے جارحانہ عزائم روکنے کا یہی واحد راستہ ہے۔

بشکریہ ایکسپریس نیوز اردو

No comments:

Powered by Blogger.