Header Ads

Breaking News
recent

اس وقت دنیا کا خطرناک ترین انسان کون ہے؟

کولمبیا سے تعلق رکھنے والا جرائم کی دنیا کا بے تاج بادشاہ ہے۔ اس لیے اسے ’’دنیا کا خطرناک ترین آدمی‘‘ (The most dangerous man in the world) کے ’’اعزاز‘‘ سے نوازا گیا ہے۔ اس شخص کی گردن پر ہزاروں افراد کا خون ہے۔ اس کے کارندوں کے ہاتھوں زخمی اور معذور ہونے والوں کی تعداد شمار سے ہی باہر ہے، مگر اس کے باوجود یہ شخص لاطینی امریکا کے ملک کولمبیا میں بڑے آرام اور عیش و عشرت کی زندگی گزارتا ہے۔ برطانوی جریدے ’’سنڈے مرر‘‘ نے دنیا کے اس سے بڑے مجرم کی زندگی پر روشنی ڈالی ہے۔ لاطینی امریکا کا یہ ڈون ’’بوبی‘‘ کے نام سے مشہور ہے، مگر اس کا اصل نام جان جائرو فالیسکوئز ہے۔ بوبی کو لاطینی امریکا کا سب سے بڑا منشیات فروش مانا جاتا ہے۔

یہ پہلے ’’بابلو اسکوبر‘‘ نامی منشیات کے سب سے بڑے اسمگلر کا ذاتی باڈی گارڈ یا اجرتی قاتل تھا۔ جب 1993ء میں اسکوبر کا انتقال ہوا، تو گروپ کی جانب سے بوبی کو اس کا جانشین مقرر کیا گیا۔ بوبی نے جب یہ ’’عہدہ‘‘ سنبھالا تو اس نے اپنے کاروبار کو بے پناہ وسعت دی، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکا کو کوکین 80 فیصد بوبی سپلائی کرتا ہے۔ بوبی صرف امریکا کو فراہم کردہ منشیات سے سالانہ 22 ارب ڈالر کماتا ہے۔ دیگر ممالک کو فراہم کی جانے والی منشیات کا دھندا اور منافع اس کے علاوہ ہے۔ بوبی نے تین سو افراد کو اپنے ہاتھوں قتل کیا ہے جبکہ مختلف وارداتوں کے دوران اس کے ہاتھوں 200 گاڑیاں جل چکی ہیں۔ بوبی اعتراف کرتا ہے کہ اس کے گروپ کی جانب سے ’’کاروبار‘‘ کو بڑھانے کے لیے ہزاروں افراد کو قتل کیا گیا ہے، جن میں بڑے بڑے سیاست دان، پولیس افسران و اہلکار، صحافی سمیت ہر طبقہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔

بوبی کا کہنا ہے کہ ڈان بننے سے پہلے وہ اجرتی قاتل کا کام کرتا تھا۔ اس وقت وہ فی قتل کے عوض سو ڈالر وصول کرتا تھا۔ سینکڑوں افراد بوبی کے نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ وہ خود بھی ہر وقت درجنوں محافظوں کے حصار میں رہتا ہے۔ بوبی کی جانب سے درجنوں افراد کو اغوا کرکے تاوان بھی وصول کیا گیا ہے، جن میں کولمبیا کے صدر انڈریس باسترا بھی شامل ہیں۔ جنہیں 1998ء میں اغوا کرکے 2002ء میں رہا کیا گیا۔ بوبی کا کہنا ہے کہ مجھے کسی ایسے شخص کو ہلاک کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں ہوتی، جس کا قتل کرنا ’’ضروری‘‘ ہوتا ہے۔ انسانوں کے شکار کی ابتدا بوبی نے اپنی ہی ایک گرل فرینڈ کو قتل کرکے کی تھی۔ بوبی کا اپنی سب سے بڑی کارروائی کے بارے میں کہنا تھا کہ میں نے ایک تجارتی طیارے کو بھی بم اڑایا تھا، جس میں سوار 107 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ مذکورہ برطانوی جریدے کے صحافی کرسٹوفر پاکٹین کا کہنا ہے کہ میں تلاش بسیار کے بعد بوبی تک پہنچنے میں کامیاب ہوا اور اس نے اپنی کہانی بغیر کسی خوف اور تردد کے مجھے تفصیل سے بتائی۔ اس دوران کرسٹوفر نے بوبی کے ساتھ ایک تصویر بھی بنائی ہے۔ 

(اُردو ٹرائب سے مقتبس) -  

No comments:

Powered by Blogger.