Header Ads

Breaking News
recent

مسئلہ کشمیر، پاکستان کے مضبوط موقف پر بھارت کی تلملاہٹ

وزیر اعظم نواز شریف کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں تاریخی
خطاب کی بازگشت عالمی سطح پر ابھی سُنائی دے رہی ہے اور دیر تک سُنائی دیتی رہے گی جبکہ جس انداز میں اقوام عالم میں پاکستان نے مسئلہ کشمیر اُجاگر کیا ہے اور دنیا کے سامنے بھارت کے دہشت گردی اور خطے کو بد امنی سے دوچار کرنے کے شواہد فراہم کرکے جس طرح اس کے نام نہاد سیکولرازم اور جمہوریت کاپردہ چاک کیا اس سے بھارت تلملا اُٹھا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کے خطاب کے بعد بھارت میں توصف ماتم بچھی ہوئی ہے اور بھارتی سرکاراوربھارتی میڈیا پاگل پن و جنونیت کا شکار ہے۔ اسی پاگل پن و جنونیت کے خبط میں مبتلا انتہاء پسندانہ سوچ کے حامل بھارتی پردھان منتری نریندر مودی اخلاقی اور ذہنی طور پر اس قدر مفلوج ہوچکے ہیں کہ وہ اپنے منصب و عہدے کے تقدس کی بھی دھجیاں اڑانا شروع ہوگئے ہیں اور سانحہ گجرات و پٹھان کوٹ کی طرح سانحہ اُڑی کا آرکیٹیکٹ بھی خود بھارت ہے۔
سانحہ اُڑی کے حوالے سے بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے جانیوالے الزامات کو عالمی برادری کی جانب سے سنجیدہ نہ لئے جانے کے بعد بھارت پہلے محدود جنگ کی گیدڑ بھبھکیاں دیتا رہا اور عالمی سطح پر اس بارے بھی بھارت کو ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملا اور اب اس کے بعد آبی دہشت گردی پر اتر آیا ہے اور سندھ طاس معاہدہ پر نظر ثانی اور پاکستان کا پانی روکنے کی دھمکیاں دے کر پاکستان پر دباؤ بڑھانا چاہتا ہے۔ ہندو بنیا یہ خوب جانتا ہے کہ وہ کھل کر اور سامنے آکر کبھی بھی پاکستانی قوم کا مقابلہ نہیں کرسکتا جس کے باعث چھُپ کر اور پیچھے سے وار کرنے کا روایتی انداز اختیار کر رہا ہے جس کیلئے کافی عرصے سے بھارت اپنے نام نہاد آقاوں اوردُم چھلوں کے ہمراہ پاکستان کے خلاف سازشوں کا جال بُن رہا ہے جس میں اسے ناکامی کا مُنہ دیکھنا پڑا ہے ۔ اب تک آبی دہشت گردی کی مد میں بھارت کی جانب سے پاکستانی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا جاچکا ہے۔ بھارت کی جانب سے ایسے مواقع پر پانی چھوڑا جاتا ہے جب پاکستان میں اہم فصلیں تیار ہوتی ہیں اور بھارت پانی چھوڑ کر ان فصلوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

سیلاب کی مد میں جانی و مالی نقصانات کے بارے میں عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس دنیا کے سامنے ہیں۔ اب شنید یہ ہے کہ بھارت تْلبل منصوبے پر کام دوبارہ شروع کرنے جا رہا ہے جو پاکستان کے اعتراضات کے بعد 2007 میں روک دیا گیا تھا جبکہ اس سے پہلے بگلیہار ڈیم کی تعمیر سمیت دیگر متنازعہ منصوبے شروع کرکے سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزیوں کا مسلسل مرتکب ہو رہا ہے۔ اب تک بھارت پاکستان آنے والے دریاؤں پر 30 سے 35 بند بنا چکا ہے اور ابھی بھی رتلے اورکُشن گنگا ڈیم پر مذاکرات کی ناکامی اور بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی پر پاکستان عالمی عدالت سے رجوع کرنے جا رہا ہے۔

سفارتی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی سرکار پاکستان کو سندھ طاس معاہدہ پر نظر ثانی کے معاملات میں الجھا کر سی پیک منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے بلوچستان سمیت پاکستان کے دیگر علاقوں میں مداخلت بڑھانا چاہتی ہے ۔ پاکستانی قیادت مکار دشمن کی چالوں سے کسی طور بھی غافل نہیں ہے جس کا اظہار ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کرچکی ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار نے دو روزقبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ ضرروی نہیں بھارت صرف حملہ کرے وہ کوئی بھی روپ اختیار کرسکتا ہے جبکہ بھارتی وزیراعظم کے بیانات سے ظاہر ہوگیا کہ خطے میں کون جنگ اور کون امن چاہتا ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پچھلے چند دنوں کے واقعات کے حوالے سے چند مثبت پہلو سامنے آئے ہیں، قوم اور تمام سیاسی قیادت دشمن کے خلاف متحد ہے، ہمیں دشمن کے خفیہ وار کے لیے چوکس رہنا ہوگا، ضروری نہیں کہ دشمن گولہ باری ہی کرے وہ چھپ کربھی وار کرسکتا ہے، اس کا حملہ کسی بھی شکل میں ہوسکتا ہے لہٰذا ہمیں گلی کوچوں میں بھی دہشت گردی روکنے کے لیے چوکنا رہنا ہوگا۔ وفاقی وزیرداخلہ نے عالمی برادری سے نریندر مودی کے بیانات کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نے جس طرح کی زبان استعمال کی میں نے آج تک کسی ملک کے سربراہ کو اس طرح کی زبان استعمال کرتے نہیں دیکھا۔

ارشاد انصاری

No comments:

Powered by Blogger.