Header Ads

Breaking News
recent

یورپ کے ساحلوں پر ڈوبنے والے عورتیں، بچے اور ہماری بے حسی

المیہ یہ نہیں کہ لوگ سمندر کی لہروں کی نذر ہو رہے ہیں،المیہ یہ ہے کہ انھیں
ایسا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ کیا مجبوریاں ہیں جو لوگوں کو زندگیاں خطرات میں ڈالنے پر مجبور کر رہی ہیں؟ وہ کیا خواب ہیں جن کی تعبیر کا گھر یورپ ہی ہے؟ وہ کون سے دکھ ہیں جن کا مداوا سمندری راستے سے پورپی ممالک میں پوشیدہ ہے؟ کئی اور سوالات جن کے جوابات درکار ہیں۔ مگر کون ہے جو چبھتے سوالات کا سامنا کر سکے؟ ڈوبنے والے سارے کے سارے تیسری دنیا کے مفلوک الحال شہری ہیں۔ جو بچ نکلتے ہیں وہ بھی تیسری دنیا کے وہ بد نصیب باشندے جن کی عبرت ناک داستانیں اٹلی، لیبیا، یونان، ترکی کے ساحلوں سے لے کر ہنگری،فرانس اور جرمنی تک پھیلی ہوئی ہیں۔ مسلم ممالک کے، جنگ، سماج اور معاشیات سے تنگ باشندے تو موت کا آسان ہدف ہیں۔
آئے روز اخبارات ایسی خبروں سے اپنا پیٹ بھرتے ہیں کہ تارکین ِ وطن کی کشتی ڈوب گئی،اتنے کم نصیبوں کو بچا لیا گیا اور اتنے اللہ کو پیارے ہو گئے۔ یہ خبریں بھی مگر عالمی میڈیا سے مستعار لے کر اردو اخبارات میں شائع کی جاتی ہیں۔ کئی ایک مقامی مثالیں بھی موجود ہیں کہ کیسے غریب گھرانوں کے نوجوان انسانی سمگلروں کے بنے ہوئے خواب میں اپنی تعبیر کا سامان ڈھونڈتے ڈھونڈتے موت کا رزق بن گئے۔ ترکی کے ساحل پہ ڈوبنے والا ایک بچہ درد دل رکھنے والوں کو کب بھول سکے گا؟ وہ شامی بچہ جسے سمندرنے بھی اپنی آغوش میں جگہ نہ دی۔اس تحریر کے لیے خبروں کی تلاش میں تھا۔ کئی ایک خبریں اور واقعات اپنی طرف متوجہ کر چکے تھے کہ اچانک لیبیا والوں کی اس کشتی کی خبر نے اپنی طرف موڑ لیا جو اپنے دامن میں گنجائش سے زیادہ تارکین وطن کو لے کر اٹلی کے ساحل کی طرف رواں تھی۔ 

اٹلی کے ساحلی محافظوں نے ایک بڑی امدادی کارروائی کے دوران لیبیا کے ساحل سے کم سے کم 6500 تارکین وطن کو بچا لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اٹلی کے گوسٹ گارڈز کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کے دوران 40 ریسکیو آپریشن کیے گئے۔یہ کارروائی لیبیا کی بندرگاہ صبراتہ سے 20 کلومیٹر اس طرف کی گئی اور اس میں اٹلی کے علاوہ یورپی یونین کی بارڈر ایجنسی فرونٹیکس، غیر سرکاری تنظیموں پرو ایکٹو اوپن آرمز اور میدساں سان فرنتیر کی کشتیوں نے بھی حصہ لیا۔ کہا جارہا ہے کہ جن تارکین وطن کو سمندر میں ڈوبنے سے بچایا گیا ہے اس میں سے بیشتر کا تعلق افریقی ممالک صومالیہ اور ایریٹریا سے ہے۔ اس سے متعلق ایک ویڈیو فوٹیج میں تارکین وطن کے بچانے کا عمل بھی یو ٹیوب پر دیکھا جا سکتا ہے جس میں بہت سے لوگ خوشی کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ بہت سے نوجوان اپنی بوسیدہ کشتیوں سے پانی میں چھلانگ لگا کر امدادی عملے کی کشتیوں کی جانب تیر رہے ہیں۔ بعد میں ان تمام تارکین وطن کو ایک محفوظ جہاز میں سوار کر لیا گیا۔ ان میں بہت سی خواتین اور شیر خوار بچے بھی شامل ہیں۔خبر رساں ادارے کے مطابق تارکینِ وطن کو ایسی کشتیوں میں سوار کیا گیا جو قابل ِ اعتماد بحری سفر کے قابل ہی نہیں تھیں، نیز ان کشتیوں میں ضرورت سے زیادہ افراد کو لیبیا کی بندرگاہ صبراتہ سے رو انہ کیا گیا تھا۔ گذشتہ اتوار کو بھی اسی علاقے میں تقریباً 1100 تارکین وطن کو بچایا گیا تھا۔ 

مشرق ِ وسطیٰ اورافریقی ممالک کے بہت سے لوگ یورپ میں پناہ لینے کی غرض سے لیبیا سے کشتیوں میں سفر کرکے اٹلی جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس عمل میں بہت سے لوگ راستے میں ہی ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ معاشی تنگی کے پیش نظر یورپ میں بہتر مواقع کی تلاش کے لیے جاتے ہیں جبکہ ایک بڑی تعداد مختلف علاقوں میں سیاسی عدم استحکام، یا پھر وہاں جاری جنگ سے بچنے کے لیے یورپ جانا چاہتی ہے۔ خیال رہے کہ گذشتہ برس یورپ میں تقریبا ً دس لاکھ پناہ گزین داخل ہوئے جس سے دوسری عالمی جنگ کے بعد اس نوعیت کا بحران پیدا ہوا۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ 2015 کے دوران دس لاکھ سے زائد تارکینِ وطن سمندر عبور کر کے یورپ میں داخل ہوئے ہیں۔ ادارے کے مطابق ساڑھے آٹھ لاکھ تارکین وطن ترکی سے یونان میں داخل ہوئے جبکہ ڈیڑھ لاکھ افراد لیبیا سے بحیرہ روم عبور کر کے اٹلی پہنچے۔ سنہ 2014 کے مقابلے میں سمندر کے راستے یورپ آنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور 2014 میں محض 216000 افراد سمندر کے راستے یورپ آئے تھے۔ مئی میں بھی یورپی یونین کی کشتیوں نے تقریباً 13000 تارکین ِوطن کو بچا لیا تھا جبکہ ایک واقعے میں 700 سے زائد تارکین وطن سمندر میں ڈوب گئے تھے۔ 

اعداد و شمار دکھ آور ہیں۔ سارے کام تقدیر کے کھاتے میں نہیں ڈالے جا سکتے۔ تد بیر بھی ایک شے کا نام ہے اور مومن کا ہتھیار شاید تد بیر ہی ہے۔ وہ کون ہے جو مگر اس ہتھیار سے کام لے؟ آج اگر افریقی ممالک، ایریٹیریا، شام، لبنان، عراق، افغانستان ،پاکستان،یمن اور لیبیا کے لوگ انسانی سمگلروں کے ستم رسیدہ پنجوں میں آئے ہوئے ہیں تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ بے شک ان ممالک کے حکمران، اور سارے مسلم حکمران لاریب۔ اسرائیل، امریکہ،یورپ،استعمار اس کے بعد ذمہ دار ہیں کہ مسلم حکمران کسی نہ کسی شکل میں عالمی طاقتوں کے ہاتھوں کھیل رہے ہیں ،صرف اپنے اقتدار کی خاطر یا اپنے ریاستی فہم کی خاطر۔یورپ تارکین وطن کے جس بحران کا سامنا کر رہا ہے یہ بھی بے شک یورپی ممالک کی خارجہ پالیسیوں کا اثر ہے۔عالم ِ انسانیت کسی ایسے عادل کی راہ دیکھ رہا ہے جو ستم رسیدہ بندوں کو عدل کے ترازوں میں تول کر ستم کے سارے موسموں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رخصت کر دے۔

طاہر یاسین طاہر

No comments:

Powered by Blogger.