Header Ads

Breaking News
recent

ڈھاکہ کی گلیوں میں ’خون کی ندیاں‘ کیوں؟

دنیا بھر میں مسلمان عید الاضحیٰ منا رہے ہیں، بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے رہنے والے سوشل میڈیا پر خون آلود پانی سے بھری گلیوں کی تصویریں شیئر کر رہے ہیں۔ تصویروں میں نظر آنے والا خون قربانی کے جانوروں کا ہے جو ڈھاکہ کے کچھ علاقوں میں بارش کے پانی سے مل گیا ہے۔ بی بی سی بنگالی سروس کی ایک رپورٹ کے مطابق ڈھاکہ میں اس سال ایک لاکھ جانوروں کی قربانی کی گئی اور ان جانوروں کو گلیوں یا رہائشی علاقوں میں زیر زمین کار پارکوں میں ذبح کیا گیا۔

دوسری طرف منگل کو ہی شہر میں شدید بارش ہوئی جس کی وجہ سے شہر کے کئی علاقوں میں پانی کھڑا ہو گیا۔ شانتی نگر کے مضافاتی علاقے میں خون اور پانی کے اس ملاپ کی وجہ سے گلیوں میں ایک خوفناک منظر دکھائی دینے لگا اور لوگ کئی انچ گہرے خون آلود پانی سے گزرتے دیکھے گئے۔ ڈھاکہ میں عیدِ قربان کے موقع پر بارش کے پانی کا گلیوں میں اکٹھا ہونا ایک معمول کی بات ہے اس لیے شہر کی اکثریتی آبادی نے ان تصاویر پر کسی حیرانگی کا اظہار نہیں کیا۔ تقریباً ہر سال عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں کا کچھ خون ڈھاکہ کی گلیوں میں دکھائی دیتا ہے اور چند دنوں میں غائب ہو جاتا ہے لیکن اس سال شدید بارش کی وجہ سے اس کا اثر زیادہ نظر آ رہا ہے اور یوں دکھائی دیتا ہے جیسے گلیوں میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہوں۔
ایسی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ہیں۔ سوشل میڈیا کے کچھ صارفین نے جانوروں کو ذبح کرنے کے عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ کچھ دیگر افراد نے ایک مذہبی فریضہ قرار دیتے اس کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے ان جانوروں کو فروخت کرنے والے کسانوں کی روزی وابستہ ہے جبکہ اس سے غریبوں کا بھلا بھی ہو رہا ہے۔ ڈھاکہ کے کئی رہائشیوں نے نکاسی آب کے خراب نظام کی وجہ سے سرکاری حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو طویل عرصہ سے ایک مسئلہ بنا ہوا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں کچھ مقامات اس مقصد کے لیے مخصوص کیے گئے تھے اور جانوروں کو ذبح کرنے کے لیے یہاں لایا جانا چاہیے تھا۔ تا ہم ڈھاکہ کے کچھ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ لوگوں کو ان مقامات سے آگاہ کرنے کے لیے چلائی جانے والے مہم ناکافی تھی جبکہ کچھ دیگر کے مطابق بارش کی وجہ سے لوگ اپنے جانوروں کو ان مقامات تک نہیں لے جا سکے۔

No comments:

Powered by Blogger.