Header Ads

Breaking News
recent

بھارت میں انصاف عام آدمی کی پہنچ سے باہر

انڈیا میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے طریقہ کار پر
عدلیہ اور حکومت کےدرمیان ایک عرصے سے تعطل بنا ہوا ہے۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ وہ ججوں کی تقرری کے طریقہ کار کو ہائی جیک نہیں ہونے دے گی۔
انڈیا کے چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف ہائی کورٹس میں تقریباً 500 ججوں کی جگہ خالی ہے جو تمام ججوں کی نصف تعداد کےبرابر ہے۔ ان خالی جگہوں پر تقرریوں کے لیے ججوں کے نام کئی مہینے قبل حکومت کو منظوری کے لیے بھیجے جا چکے ہیں لیکن ایک طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی یہ نام ابھی تک منظور نہیں کیے گئے جن کے نتیجے میں ہائی کورٹس میں ججوں کی زبر دست کمی ہے۔

چیف جسٹس کے مطابق مختلف ہائی کورٹس میں 40 لاکھ سے زیادہ مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ صرف الہ آباد ہائی کورٹ میں تقریباً دس لاکھ مقدمات زیرِ التوا ہیں۔
پورا عدالتی نظام درہم برہم ہے۔ جب تک کسی مقدمے کی اپیل کی سماعت مکمل ہوتی ہے تب تک ملزم عمر قید کاٹ چکا ہوتا ہے۔ اعلیٰ اور ذیلی عدالتوں میں مجموعی طور پر دو کروڑ سے زیادہ مقدمے زیرِ سماعت ہیں۔ ان میں سے کم از کم 22 لاکھ مقدمے ایسے ہیں جو دس برس پرانے ہیں۔ ان مقدموں میں انصاف کیا ہو سکے گا ؟ سپریم کورٹ اور موجودہ حکومت کےدرمیان ٹکراؤ اس وقت پیدا ہوا جب حکومت نے سیاسی جماعتوں کے اتفاقِ رائے سے ججوں کی تقرری کےلیے ایک جوڈیشیل اپاائنٹمنٹ کمیشن کا قانون پارلیمان میں منطور کیا۔ ماہرین کے مطابق اس قانون کا مقصد سریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری میں سپریم کورٹ کی بالا دستی کو ختم کرنا تھا۔ اس قانون کو سپریم کورٹ نے گذشتہ برس اکتوبر میں غیر آئینی کہہ کر کالعدم قرار دے دیا تھا۔ ابھی تک ججوں کی تقرری چیف جسٹس کی قیادت میں سینئیر ججوں کی ایک کالیجیم کرتی رہی ہے۔
تقرری کے نئے قانون کو مسترد کیے جانے کے بعد حکومت اور کالیجیم ایک نیا طریقہ کار وضح کرنےکی کوشش کر رہے ہیں لیکن ابھی تک بہت سے سوالات پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اس عمل کے وضع ہونے تک ججوں کی تقرریوں کو روکا نہیں جا سکتا۔ بھارت کی پارلیمان میں گذشتہ ہفتے ایک مختصر بحث میں بیشترً سیاسی جماعتوں نے کالیجیم کے نظام پر نکتہ چینی کی تھی اور ایک نیا طریقہ کار وضع کرنے کی حمایت کی تھی۔ حکومت کو لگتا ہے کہ کالیجیم کے نظام میں خامیاں ہیں اور بہت سے قابل قانونی ماہرین کو جج کےطور پر نمائندگی نہیں مل پا رہی ہے جب کہ سپریم کورٹ کو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ سیاسی جماعتیں عدلیہ کی آزادی کو سلب کرنا چاہتی ہیں اور ججوں کی تقرری کے نظام پر اپنی بالادستی کےذریعے وہ عدلیہ کو اپنا تابع کرنا جاہتی ہیں۔ حققیت جو بھی ہو فی الوقت عدلیہ اور حکومت کےدرمیان زبردست تعطل برقرار ہے لیکن اس پوری بحث کے درمیان سب سے تاریک پہلو یہ ہےکہ انڈیا میں عدالتی نظام بری طرح ناکام ہو رہا ہے۔

انصاف کا عمل اتنا پیچیدہ، مہنگا اور طویل ہے کہ ملک کی بیشترً آبادی کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔ ذیلی عدالتوں کو چھوڑ کر عدلیہ انڈیا کے ان چند اداروں میں شامل ہے جنھیں آزاد اور عموماً بدعنوانی سے بالا ترسمجھا جاتا ہے لیکن یہ ادارہ بھی اپنے فرسودہ طریقہ کار، ججوں کی کمی اور بڑی آئینی اصلاحات نہ ہونےکے سبب بری طرح مجروح ہوچکا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی ساری توجہ ججوں کی تقرریوں میں ججوں کے اختیارات محدود کرنے پر مرکوز ہے۔ اس اہم پہلو پر کوئی بحث نہیں ہو رہی کہ انصاف کے عمل کو عام آدمی کے لیے آسان شفاف اور تیز رفتار کیسے بنایا جائے۔

شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

No comments:

Powered by Blogger.