Header Ads

Breaking News
recent

جو دب گیا وہ مر گیا...وسعت اللہ خان

پچھلے دو ہفتے سے بالخصوص بھارت اور پاکستان کی قیادت ایک دوسرے کے
بارے میں جو لفظیات استعمال کر رہی ہے، اس کے بعد سے دونوں ممالک میں موجود انتہا پسند جنگجوانہ سوچ کے پرچارک یقیناً خوشی سے نہال ایک ٹانگ پر ناچ رہے ہیں۔ جنگجوئی ایسی صنعت ہے جس میں بے انتہا فوری منافع ہے۔ جیسے سالن خراب ہو جائے تو اس میں مرچیں تیز کر دو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اسی طرح اپنی خامیاں چھپانے کا اس سے اچھا طریقہ کیا ہو سکتا ہے کہ سامنے والے سے بھڑ جاؤ۔ پبلک اپنا اصل مسئلہ بھول بھال کر نئے تماشے میں لگ جائے گی۔ لفظی جنگ جیتنے کے لیے دلائل کی قطعاً ضرورت نہیں، بس آواز بلند اور شور مسلسل رہنا چاہیے۔ جو دب گیا وہ مرگیا۔

اب تک تو یہ تھا کہ دونوں ممالک کی لفظی جنگ کشمیری محور کے گرد تھی۔لیکن کشمیر میں مبینہ پاکستانی مداخلت اور بلوچستان میں مبینہ بھارتی مداخلت کے لگاتار الزامات کے سبب اب یہ لفظی جنگ پھیلتے پھیلتے پریشانی کی سرحدوں میں داخل ہو رہی ہے۔ یہ تو کوئی ماجھا بھی جانتا ہے کہ الفاظ ہی آگے چل کے بارود بن جاتے ہیں۔ لفظی جنگ میں یہ پرواہ کرنے کی بھی ضرورت نہیں کہ کس کے بارے میں کیا کہنے سے کس کو کتنا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مثلاً کشمیر تنازعے سے توجہ ہٹانے کے لیے مودی کا بلوچستان کو بیچ میں لانا پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے لیے کسی سٹرٹیجک من و سلویٰ سے کم نہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے جب جب پاکستان کی آواز کشمیریوں کی آواز سے بھی اوپر نکلنے لگتی ہے تو بھارت کو دنیا کی توجہ کشمیری جدو جہد سے ہٹانے کے لیے سرحدپارسے مداخلت کے پروپیگنڈے کی سنہری مچھلی  ہاتھ آ جاتی ہے۔
بلوچستان کا مسئلہ سیاسی و انسانی ضرور ہے مگر اس کا کشمیر سے موازنہ بھی لفظی جنگ میں برتی جانے والی بددیانتی کی اعلیٰ مثال ہے۔ بلوچ بے چینی کشمیر کی طرح بین الاقوامی نہیں بلکہ وفاقِ پاکستان کے ایک یونٹ اور مرکزی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کا جھگڑا ہے۔ کشمیر پر دو ممالک یعنی بھارت اور پاکستان کا کلی اور ایک ملک یعنی چین کا جزوی دعویِٰ ملکیت ہے۔ مگر بلوچستان پر نہ ایران کا ملکیتی دعوی ہے نہ افغانستان کا۔ ہاں اگر پاکستان بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں جاری نکسل تحریک یا شمالی مشرقی بھارتی ریاستوں کی مسلح قوم پرست تحریکوں کی بابت اپنی دخل در معقولات رائے دیتا  تب مودی جی کے پاس بھی جواز تھا کہ وہ بلوچستان اور سندھ کا طعنہ دیں۔ لیکن سیاق و سباق سے ہٹ کر محض کشمیر کے تازہ انتفادہ سے توجہ ہٹانے کے لیے بلوچستان کو بیچ میں گھسیٹنا پوائنٹ اسکورنگ کے سوا کچھ نہیں۔

البتہ کشمیر کا کسی بھی طور کوئی قریب ترین موازنہ بنتا ہے تو مشرقی تیمور یا فلسطین سے بنتا ہے۔ مگر پاکستان کے کسی باقاعدہ صوبے سے کشمیر کا موازنہ ایسا ہے کہ ایک تیلی اور جاٹ کسان کی تو تو میں میں کے دوران تیلی نے کہا جاٹ رے جاٹ تیرے سر پے کھاٹ۔ جاٹ نے ترنت جواب دیا، تیلی رے تیلی تیرے سر پے کولہو۔ تیلی نے کہا جاٹ جی مجا نئیں آیا، قافیے سے قافیہ ملا نہیں۔ جاٹ نے کہا، ابے مرغی کے ، قافیہ ملے نہ ملے سر پے کو لہو رکھنے سے تیری ایسی تیسی تو ہوگئی۔ جس زمانے میں بھارتی پنجاب میں خالصتان علیحدگی پسند تحریک چل رہی تھی تو پاکستان کی جانب سے اس کی مبینہ مدد کا تاثر اپنی جگہ مگر پاکستان نے انڈین یونین میں پنجاب کی موجودگی کو متنازعہ بنانے یا چیلنج کرنے سے گریز کیا۔ کیونکہ ایسے موقف کو کوئی بھی سنجیدگی سے نہ لیتا۔ لیکن اب بلوچستان کا لفظ مودی کی زبان پر آنے کے بعد تیلی رے تیلی تیرے سر پے کولہو کی منطق غیر سنجیدگی و غیر ذمے داری کے رویے کو دوطرفہ بڑھاوا دے سکتی ہے۔

بلوچستان کی بابت پاکستان میں گفتگو کرنے والے ابھی بہت لوگ باقی ہیں۔ اس مسئلے پر مودی اسٹائل موقع پرستانہ ہمدردی کی ضرورت نہیں۔ یہ بالکل ایسا ہے جیسے کشمیر کے معاملے پر ارون دھتی رائے اور برکھا دت کے موقف کو محترم حافظ سعید اعلانیہ و اخباریہ سراہیں۔ جس زمانے میں جنرل ضیا الحق کی جابریت عروج پر تھی تو کراچی کے بھارتی قونصل خانے میں ایک اردو مشاعرے کا انعقاد ہوا ( غالباً پارتھا سارتھی قونصل جنرل تھے)۔ مشاعرے میں حبیب جالب بھی مدعو تھے۔ شعرا و سامعین کی آبی و کبابی تشفی کے بعد مشاعرہ جما۔ حبیب جالب کی باری آئی تو کسی نے فرمائش کی کہ جالب صاحب وہ نظم ضرور سنائیے گا ’’ ظلمت کو ضیا ، صر صر کو صبا ، بندے کو خدا کیا لکھنا ‘‘۔

جالب نے چشمہ اتارتے ہوئے کہا ’’ برخوردار اس جگہ نہیں سناؤں گا۔ باہر فٹ پاتھ پر آجانا۔ جتنی بار کہو گے سناؤں گا ‘‘…جہاں تک مودی کے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر یا گلگت بلتستان پر برسنے کا معاملہ ہے تو متنازعہ علاقہ ہونے کے سبب کوئی بھی بھارتی کچھ بھی کہہ سکتا ہے جیسے کوئی بھی پاکستانی بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے بارے میں کوئی بھی رائے دے سکتا ہے۔ مگر اس بابت مودی جی کے مزید کچھ کہنے سے لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب سری نگر کے حالات بہرحال ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر یا گلگت بلتستان میں سیاسی گھٹن کا ماحول ضرور ہے مگر اتنا نہیں کہ مظفر آباد کے لوگ بھارتی ترنگا لہراتے ہوئے سڑک پر نکل آئیں۔ یہاں کی پولیس کے پاس لوگوں کو نابینا کرنے کے لیے چھرے والی بندوقیں نہیں ہیں۔ یہاں لوگ غائب ضرور ہوئے ہیں مگر اجتماعی قبریں نہیں ہیں۔ یہاں فوج اور نیم فوجی و حساس ادارے ضرور ہیں مگر بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کی طرح انھیں اسپیشل پاورز ایکٹ جیسے بے لگام اختیارات حاصل نہیں اور ہر ایک کلومیٹر پر فوجی چوکی بھی نہیں۔

المیہ یہ نہیں کہ بھارت اور پاکستان کی قیادت کس طرح لفظی جنگ میں لاکھوں لوگوں کے ارمان بطور ایندھن استعمال کر رہی ہے بلکہ المیہ یہ ہے کہ دونوں قیادتوں کا موقف اور حکمتِ عملی وقتی ضرورتوں کے حساب سے مستقل ٹھنڈی گرم، منفی و مثبت ، عقل و بے عقلی کی سان پر چڑھی رہتی ہے۔ چنانچہ سائل پریشان ہی رہتا ہے کہ دلی و اسلام آباد  کے کس بیان اور کس موقف پر اعتبار کرے اور کسے نظر انداز کردے۔ اب تو یوں لگتا ہے کہ ورلڈ ریسلنگ انٹر ٹینمنٹ ( ڈبلیو ڈبلیو ای ) یا ورلڈ ریسلنگ فیڈریشن ( ڈبلیو ڈبلیو ایف ) اپنی رکنیت اگر پروفیشنل اداکار پہلوانوں کے ساتھ ساتھ ممالک کے لیے بھی کھول دیں تو بھارت اور پاکستان کو ان کے ستر سالہ کمرشل ریسلنگ ریکارڈ کی بنیاد پر دونوں فیڈریشنز ’’ یا استاد ’’ کہتے ہوئے ہاتھ جوڑ کے رکنیت پیش کریں گی۔

وسعت اللہ خان

No comments:

Powered by Blogger.