Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان سائبر کرائم بل : لاعلمی آپ کو جیل پہنچا سکتی ہے

سائبر کرائم بل پاکستان کی قومی اسمبلی سے منظور ہو چکا ۔ ملک میں بڑھتے ہوئے سائبر کرائم پر قابو پانے کے لیے یہ بہت اہم قدم ثابت ہوتا، اگر اس بل کی تیاری اور منظوری میں کچھ عقل سلیم کا استعمال بھی کیا جاتا، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ عقل سلیم عام نہیں ۔ آئیے ایک نظر نو منظور شدہ سائبر کرائم بل پر ڈالیں۔ ایک ایسے دور میں جو انٹرنیٹ کا زمانہ ہے۔ جدید تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ چھوٹے شہروں، یہاں تک کہ قصبوں اور دیہات تک بھی پہنچ چکا، وہاں اس قانون سے ذرا سی لاعلمی کسی بھی شخص کو زندگی کی سب سے بڑی مصیبت میں مبتلا کر سکتی ہے۔ ذرا پہلا ’جرم‘اور اس کی سزا دیکھیں۔

کسی کے بھی انفارمیشن سسٹم یا ڈیٹا تک جان بوجھ کر اور بلا اجازت رسائی حاصل کرنا ایسا جرم ہے، جس پر تین مہینے کی قید یا پچاس ہزار روپے جرمانہ یا پھر بیک وقت دونوں سزائیں بھی ہو سکتی ہیں۔ ہم آگے بھی آپ کو مختلف جرائم اور ان کے لیے طے شدہ سزاؤں کے بارے میں بتائیں گے اور آپ خود ہی تصور کرتے جائیں کہ اگر آپ مجرم قرار پائے، تو کیا ہوگا ؟ کسی کے فون،لیپ ٹاپ وغیرہ تک بغیر اجازت کے رسائی حاصل کرنا تین ماہ قید یا 50 ہزار روپے تک کے جرمانے یا دونوں سزاؤں کا سبب بن سکتا ہے۔ کسی کے بھی ڈیٹا کو بلا اجازت نقل کرنے پر چھ ماہ تک قید یا ایک لاکھ روپے تک کے جرمانے کی سزا یا پھر دونوں کی سزا قانون بن گئی ہے، پھر کسی کے بھی ڈیٹا کو ضائع کرنا دو سال تک آپ کو جیل کی ہوا کھلا سکتا ہے یا پھر 5 لاکھ روپے تک کا جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔

 یہاں بھی جرم کی سنگینی کے اعتبار سے یہ دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں، اگر آپ عدالت میں یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ آپ نے کسی دوسرے کا ڈیٹا جان بوجھ کر ضائع نہیں کیا۔ سب سے اہم سرکاری ویب سائٹوں تک بلا اجازت رسائی حاصل کرنا، یعنی ہیکنگ وغیرہ کی کوشش، کسی بھی شخص کو تین سال تک کی قید یا 10 لاکھ روپے جرمانے اور دونوں سزاؤں کا مستحق قرار دے سکتی ہے۔ کسی اہم ڈیٹا تک بلا اجازت رسائی یا اسے نقل کرنے پر بھی تین سے پانچ سال تک کی سزا اور 10 سے 50 لاکھ روپے تک کے جرمانے یا بیک وقت دونوں ہو سکتے ہیں۔کسی بھی اہم ڈیٹا کو نقصان پہنچانا 7 سال تک کی سخت قید یا ایک کروڑ روپے کا بھاری جرمانہ یا پھردونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ یہ تو ذرا تکنیکی قسم کے جرائم ہوگئے۔ اب ذرا ایسے اقدامات، جو ہمارے ہاں عام ہیں اور کسی کو بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج سکتے ہیں۔

قانون کی شق نمبر 9 کے مطابق کسی بھی جرم یا نفرت انگیز تقریر کی تعریف کرنے پر، چاہے وہ مذہبی ہو یا نسلی، پانچ سال تک کی قید یا ایک کروڑ روپے جرمانے کی سزا یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں، یعنی حکومت ممتاز قادری کو مجرم سمجھتی ہے اور اسے پھانسی دیتی ہے، تو آپ فیس بک پر محض اس کی تعریف کرکے اپنے لیے مصیبت کھڑی کر سکتی ہیں یا پھر کوئی بھی نفرت انگیز تقریر، چاہے وہ مسلکی اختلاف کی ہو یا مذہبی منافرت پر مبنی، آپ کو برسوں کے لیے جیل میں سڑا سکتی ہے۔ ایک عام شخص جو بے وقوفی میں ایسا جرم کرے، ایک کروڑ روپیہ جرمانے کی ادائیگی شاید اپنے پورے خاندان کی دولت بیچ کر بھی نہ کر سکے۔ سائبر دہشت گردی پر 14 سال قید یا 5 کروڑ روپے جرمانے کی سزا رکھی گئی ہے جبکہ جعل سازی اور فراڈ، کسی کی شناخت کا بلا اجازت استعمال بھی بھاری سزاؤں اور جرمانے کا سبب بنے گا۔ بلا اجازت سم کارڈ جاری کروانے پر بھی تین سال قید یا پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوگی یا پھر سنگینی کے اعتبار سے دونوں بھی ہو سکتی ہیں۔

صرف بغیر اجازت کسی کی تصویر لگانے پر ہی دو سال قید کی سزا یا 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہے، یعنی اب آپ سیاست دانوں کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے بھی دھیان کریں کہ اگر کسی نے عدالت میں گھسیٹ لیا، تو آپ کی زندگی برباد ہو جائے گی۔ ایک احسن قدم فحاشی اور ہراساں کرنے کو روکنے کے سلسلے میں اٹھایا گیا ہے۔ اگر کوئی شخص کوئی فحش تصویر یا ویڈیو پیش کرتا ہے، تو اسے7 سال قید یا 50 لاکھ روپے جرمانے کی یا پھر دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ کسی کو ہراساں کرنا یا اخلاق سے گری ہوئی گفتگو کرنا بھی ایک سال جیل کی ہوا کھلا سکتا ہے۔ شق 19 میں لکھا ہے کہ کسی بھی فحش تصویر کے اوپر کسی دوسرے شخص کی تصویر لگا کر شیئر کرنا بھی اس میں شامل ہے۔

جب تک بل قانوناً لاگو ہو، تب تک یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس حوالے سے زیادہ سے زیادہ شعور اجاگر کریں۔ ملک بھر میں شہری حقوق کے ادارے اس بل کے خلاف اپنی آوازیں بلند کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کی جانب سے کسی بھی آواز کو بند کر دینے کی ایک گھٹیا کوشش ہے۔ دنیا ڈائجسٹ کے قارئین کے لیے یہ تحریر بطور خاص پیش کی جا رہی ہے تا کہ آپ اس بل سے نا بلد ہونے کی وجہ سے مستقبل قریب میں کسی بڑی مصیبت میں گرفتار نہ ہو جائیں۔  

بشکریہ دنیا ڈائجسٹ

No comments:

Powered by Blogger.