Header Ads

Breaking News
recent

موبائل فون کی دہشت گردی

چار برس پہلے جانے کس نے اس وقت کے پاکستانی وزیرِ داخلہ رحمان ملک کے
کان میں کہا ہوگا کہ موبائل فون سروس معطل کرنے سے دہشت گردی بھی معطل ہوجاتی ہے۔ چنانچہ 19 اگست 2012 کی عید الفطر سے آج تلک 24 بار موبائل فون سروس بند ہو چکی ہے۔ ہو سکتا ہے کسی اہم تعطیل پر واقعی اتنا سنگین خطرہ منڈلا رہا ہو کہ موبائل فون سروس کی معطلی ایک ناگزیر انتظامی مجبوری ہو ۔ مگر پچھلے چار برس سے یہ ایک معمول کی انتظامی رسم بن چکی ہے کہ یکم محرم، عاشورہ، چہلم، یومِ علی، عید میلاد النبی، یومِ عشقِ رسول، 23 مارچ، 14 اگست، چینی وزیرِ اعظم کا دورہ، طاہر القادری کا مارچ غرض کوئی بھی ذرا سا حساس دن یا موقع ہو۔ پہلا نزلہ موبائل فون سروس پر گرتا ہے۔

موجودہ حکومت نہ صرف سابق جمہوری حکومت کا تسلسل ہے بلکہ اسے ورثے میں موبائل فون سروس کی معطلی کی روایت بھی ملی ہے۔ یہ تو ثابت ہو چکا کہ موبائل سروس معطل ہونے سے سیلولر کمپنیوں کو کتنا مالی نقصان ہوتا ہے یا عام لوگوں اور ایمرجنسی اداروں کے کارکنوں کی باہمی رابطہ کاری کس قدر مشکل ہو جاتی ہے۔ مگر یہ ثابت ہونا ابھی باقی ہے کہ موبائل فون سروس معطل ہونے سے دہشت گردی میں کیا اور کتنی کمی ہوتی ہے؟
اگر یہ طریقہ دہشت گردی کی روک تھام میں اتنا ہی کامیاب ہے تو کیوں نہ موبائل فون سروس مستقل ہی معطل کردی جائے تاکہ پاپ کٹے۔ کیا دہشت گردی کے شکار دیگر ممالک بھی موبائل فون سروس کو اتنی ہی کثرت سے معطل کرتے ہیں جیسا کہ پاکستان میں چلن ہو گیا ہے۔ یہ کون بتائے گا کہ 2014 میں ( قبل از ضربِ عضب ) عمران خان اور طاہر القادری کے 120 دن تک جاری اسلام آباد دھرنوں پر حملہ کیوں نہیں ہوا حالانکہ موبائل سروس بھی معطل نہیں تھی۔ اسی دوران آرمی پبلک اسکول پشاور پر ( 16 دسمبر 2014 ) کیوں حملہ ہوگیا ؟

یہ جتنی بھی بارودی جیکٹیں پھٹتی ہیں کیا موبائل فون کے ریموٹ کنٹرول سے ہی پھٹتی ہیں؟ تو آٹھ اگست کو کوئٹہ میں موبائل سروس معطل ہوتی تو 70 لوگ کیا بچ جاتے یا 70 کے بجائے 32 شہید ہوتے؟ اب تو ایک نابینا بھی جانتا ہے کہ دہشت گردوں کے پاس چیک پوسٹوں سے گذرنے کے کئی نادر اچھوتے طریقے ہیں تبھی تو وہ میریٹ ہوٹل اسلام آباد ، اقبال پارک لاہور یا سول اسپتال کوئٹہ تک اپنی سہولت و وقت کے حساب سے پہنچ جاتے ہیں۔ دہشت گرد اگر متعلقہ سرکاری اداروں کی ’اہدافانہ و ٹائم ٹیبلانہ‘ توقعات پر پورے اترنے لگیں تو پھر کاہے کے دہشت گرد۔

دہشت گردی صرف تمام حساس اداروں کی اوپر سے نیچے تک مربوط رابطہ کاری، پیشگی و رئیل ٹائم انٹیلی جینس، خفیہ پن ، سرجیکل کارروائی، دہشت گردوں کے ہر دم بدلتے انداز کے ساتھ ہم رکابی کی صلاحیت بڑھاتے رہنے اور ذمہ دار اداروں کی کارکردگی کی مسلسل غیرجانبدارانہ جانچ سے ہی رک سکتی ہے۔ اہم شاہراہوں پر کنٹینرز لگانے، وی آئی پی روٹ پر کئی کئی گھنٹے نان وی آئی پی آمدورفت روکنے، ناکوں پر گاڑیاں ترچھی گذارنے یا موبائل فون سروس پورے ملک میں معطل کر دینے سے حواس و عوام تو معطل ہو سکتے ہیں دہشت گردی نہیں؟

زور وہ اور ہے پاتا ہے بدن جس سے نمو
لاکھ کودے کوئی ٹانگوں میں دبا کر موصل ( سلیم احمد )

وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

No comments:

Powered by Blogger.