Header Ads

Breaking News
recent

ایم کیو ایم : قومی و عالمی تناظر میں

ایم کیو ایم کا ظہور افغان جہاد کے دوران ہوا۔ یہ ضیاء الحق کے دور میں بنی، مگر
اُس وقت کے وزیر داخلہ نسیم احمد آہیر اپنی تحریروں اور تقریروں میں برملا کہہ چکے ہیں کہ ایم کیو ایم صدر جنرل ضیاء الحق نے نہیں بنائی۔ اس کے بنانے میں سابق وزیراعلیٰ سندھ غوت علی شاہ اینڈ کمپنی شامل تھی، جب صدر ضیاء الحق کے علم میں ایم کیو ایم کے قیام اور قیادت کا ذکر ہوا تو وہ سخت ناراض ہوئے اور انہوں نے کہا کہ یہ جوشیلے نوجوان دشمن کا آسانی سے آلہ کار بن کر پاکستان میں فساد ڈال سکتے ہیں۔ نسیم احمد آہیر نے یہ بات مجھے خود بتائی اور میری کتاب’’پاکستان کی روحانی اساس‘‘ کے دوسرے ایڈیشن کی تقریظ میں بھی لکھی ہے۔
ایم کیو ایم کو صرف کالعدم قرار دینے، دفاتر مسمار کرنے اور الطاف حسین کی تصاویر اتارنے سے معاملہ حل نہیں ہو گا۔ راقم کے نزدیک ایم کیو ایم کی موجودہ سرگرمیاں قیادت کی تبدیلی ہے۔ الطاف حسین بانی رہنما رہیں گے اور ان کی تقاریر رہنما اصول رہیں گی، جبکہ مصطفی کمال بھی الطاف حسین کی طرح عالمی قوتوں کے نمائندے ہیں، جن کو ملک کی عالمی حلیف قوتیں پروان چڑھا رہی ہیں۔ عالمی طاقتوں کے لئے ایم کیو ایم خاکم بدھن پاکستان کی تقسیم در تقسیم کا زینہ ہے۔ پی پی اور ایم کیو ایم عرصہ درازتک سندھ کی مشترکہ حکمرانی کے مزے لوٹتی رہی ہیں، دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت لندن، دبئی اور واشنگٹن میں مٹر گشت کرتی پھرتی ہے۔ پاکستان کی فوجی قیادت نام نہاد دہشت گردی اور مسئلہ افغانستان میں حملہ آور امریکہ و بھارت اور عالمی طاقتوں کے بالواسطہ اور بلاواسطہ حلیف ہے۔ بھارت نواز سرحدی گاندھی کی جماعت اے این پی صوبہ سرحد کا نام بدل کر خیبرپختونخوا رکھنے پر مجبور ہے تو اپنی مذکورہ لسانی و صوبائی کامیابی کی تقریب واشنگٹن میں امریکی سرکار کے ساتھ مل کر منعقد کرتی ہے۔ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت اور کلبھوشن کی گرفتاری حالات کی ستم ظریفی کا واضح ثبوت ہیں۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھارتی گجرات میں مسلم کشی کا سرپرست رہا اور سقوط ڈھاکہ، یعنی پاکستان کو دو لخت کرنے میں اپنے مذموم فکرو عمل کا اعتراف کر چکا ہے، جبکہ پاکستان کے اندر پاک بھارت دوستی کے پرچارک پوری تندہی سے سرگرم ہیں۔ پاکستان کا مقتدر مافیا اپنے مُلک میں حملہ آور عالمی اتحادی طاقتوں کے سامنے کس قدر بے بس ہے، اس کا اندازہ اِس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کی قومی حکومت، آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کی جمہوری حکومتیں بھی ایم کیو ایم کے گورنر عشرت العباد کو بدل نہیں سکیں۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک اور بھارتی فوج کے ظلم و تشدد کے خلاف پاکستان سرکار سرگرم ہے، مگر اس ساری سرگرمی کا زور اقوام متحدہ کی قرارداد پر عملدرآمد ہے۔ 

قراردادوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ساتھ آزاد کشمیر بشمول گلگت بلتستان ریاست کشمیر کا حصہ ہیں۔ پاکستانی اور بھارتی قیادتیں عالمی دباؤ کے تحت یا دوستی کے زیر اثر عالمی اداروں اور طاقتوں کے خلاف نہیں جا سکیں۔ پاکستان کے اندر عالمی مافیا کا نیٹ ورک واضح ہے۔ دریں صورت عالمی ادارہ پاکستان سے زیادہ عالمی اغراض و مقاصد کے ماتحت رہے گا، جبکہ پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کشمیر پر تھرڈ آپشن خود مختار کشمیر، کی تجویز پیش کر چکے ہیں۔ ایم کیو ایم اور بلوچستان کی گرد سے خود مختار کشمیر نکلنے کا امکان بھی ہے، جو پاکستان کے لئے زہر قاتل ہو گا۔ پاکستان کے اکابرین کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ اگر وہ عالمی دوستی نبھائیں گے تو ایم کیو ایم کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور اگر نیشنلزم اپناتے ہیں تو ایم کیو ایم اور دیگر عالمی طاقتوں کے دوستوں اور حلیفوں کا کچھ نہیں بچتا۔۔۔اللہ ہمیں صحیح فیصلے کرنے کی توفیق دے۔

پروفیسر یوسف عرفان

No comments:

Powered by Blogger.