Header Ads

Breaking News
recent

ڈونلڈ ٹرمپ ذہنی طور پر غیر متوازن ہیں

رپبلکن جماعت کی جانب سے امریکی صدارت کے لیے نامزد امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے پارٹی میں نئے اختلافات منظر عام پر آئے ہیں۔ رپبلکن جماعت کے ڈونر میگ وٹمین نے ڈیموکریٹک جماعت کی جانب سے صدارتی امیدوار ہلری کلنٹن کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جذباتی خطابت نے قوم کو نقصان پہنچایا ہے۔ رپبلکن جماعت کے سینیئر رکن جان ہاپر ہیز نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خیال میں ڈونلڈ ٹرمپ ’ذہنی طور پر غیر متوازن‘ ہیں۔ حالیہ تنازع میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ہی جماعت کے دو سینییر رہنماؤں کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ کی صدارتی مہم تنازعات میں گھری ہوئی ہے۔

میگ وٹمین نے فیس بک پر لکھا کہ رپبلکن جماعت کے ساتھ وفاداری پر ووٹ دینے کا مطلب ہو گا کہ اس امیدوار کو ووٹ دیا جائے جس نے غصہ، شکایات، اجنبیوں سے نفرت اور نسلی تقسیم کا فائدہ اٹھایا۔ مس وٹمین جو ہیولٹ پکارڈ کی ایگزیکٹیو بھی ہیں نے مزید لکھا ’ٹرمپ ہماری خوشحالی اور نیشنل سکیورٹی کو خطرے میں ڈالیں گے۔‘
امریکہ کی رپبلکن جماعت کی حمایت میں بنائی گئی ایک تنظیم ’رپبلکنز اوور سیز ورلڈ وائڈ ‘ کی نائب صدر ڈاکٹر ہاپر ہیز نے بی بی سی کے ’ٹوڈے پروگرام‘ کو بتایا ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے رویے کی وجہ سے ’بہت فکر مند‘ ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے ہلیری کلنٹن کے لیے حمایت ظاہر نہیں کی۔ انھوں نے کہا ’مجھے لگتا ہے کہ ٹرمپ میں کوئی عنصر ہے جو ذہنی طور پر ٹھیک نہیں ہے اور مجھے یہ کہتے ہوئے بہت برا لگ رہا ہے کیونکہ میں ایک رپبلکن ہوں اور چاہتی ہوں کہ رپبلکن ٹکٹ ہی جیتے۔‘ انھوں نے یہ بھی کہا ’لیکن ڈونلڈ ٹرمپ آپے سے باہر ہو گئے ہیں اور کسی کی بات ہی نہیں سن رہے۔‘

رپبلکن جماعت کے درجنوں سینیئر سیاست دان پہلے سے کہہ چکے ہیں کہ وہ ٹرمپ کے لیے ووٹ نہیں دیں گے جن میں پارٹی کی جانب سے 2012 میں نامزد ہونے والے مٹ رومنی اور فلوریڈا کے سابق گورنر جیب بش بھی شامل ہیں۔
نیو یارک کے ترجمان رچرڈ ہانا رپبلکن جماعت سے کانگریس کے وہ پہلے رکن ہیں جنھوں نے سر عام کہا ہے کہ وہ ہلیری کلنٹن کو ووٹ دیں گے۔ پیر کو فلوریڈا کے سابق گورنر جیب بش کی اعلیٰ مشیر سیلی بریڈشا نے کہا تھا صدارتی دوڑ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی نامزدگی نے انھیں رپبلکن پارٹی کو چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف کئی رپبلکنز نے ہلیری کلنٹن کو ووٹ دینے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا ہے کہ وہ کسی تیسرے امیدوار کو ووٹ دیں گے۔ کروڑ پتی ٹرمپ کو عراق میں ہلاک ہونے والے ایک امریکی مسلمان فوجی کے والدین پر تنقید کرنے پرسخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی مسلمان فوجی ہمایوں خان کے والد خضر خان نے گذشتہ ہفتے ڈیموکریٹک کنوینشن میں اپنی تقریر میں ٹرمپ کو مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کی تجویز پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اپنے رد عمل میں ٹرمپ نے خضر خان اور ان کی اہلیہ غزالہ خان پر حملہ کیا جنھیں امریکہ میں ’گولڈ سٹار‘ فیملی کا درجہ دیا جاتا ہے۔

یہ ان خاندانوں کو کہا جاتا ہے جنھوں نے جنگ میں ایک رشتہ دار کھویا ہوتا ہے۔
ڈیموکریٹک اور رپبلکن رہنماؤں کے ساتھ ساتھ سابق فوجیوں نے بھی ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس تنازع کے دوران امریکی صدر براک اوباما نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو اب تک کہ اپنی سب سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے منگل کو کہا کہ ’رپبلکن امیدوار صدر بننے کے قابل نہیں ہے اور وہ یہ بات بار بار ثابت کر رہا ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا ’یہ خیال کہ انھوں نے اتنی بڑی قربانی دینے والی ایک گولڈ سٹار فیملی پر حملہ کیا ہے، اس کا مطلب ہے کہ وہ اس عہدے کے 
لیے تیار ہی نہیں ہیں۔‘

بشکریہ بی بی سی اردو

No comments:

Powered by Blogger.