Header Ads

Breaking News
recent

’دنیا کے ضمیر کے لیے ایک اور چیلنج‘

مشرقِ وسطی میں بے چینی اور تشدد کا شکار لوگوں کی تعداد بلاشبہ کروڑوں میں
ہے جن میں لاکھوں جو جان سے گئے اور لاکھوں جو زندہ تو ہیں مگر سوچتے ہیں کیوں؟ اس سارے قتلِ عام میں چند مہینوں کے بعد ایک بچہ دنیا کے ضمیر کو کچوکے دینے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔ کبھی ترکی کے ساحلوں پر اوندھے منہ لیٹے جب اُس کی روح اس دنیا سے گزر چکی ہے تو کبھی کوہِ سنجر پر جہاں معذوری کی حالت میں دنوں تک پڑے عزیز نامی اس بچے کی آنکھیں مسلسل سورج کو تکتے اندر تک جھلس گئی تھیں کیونکہ اس کی ماں اس کے وزنی ہونے کی وجہ سے اسے اٹھا کر بھاگ نہیں سکتی تھی اور وہ معذوری کے باعث کروٹ نہیں بدل سکتا تھا اور ہسپتال میں دم توڑ گیا۔
آج دنیا بھر کے اخبارات کے صفحۂ اول پر عُمران کی تصاویر ہیں بالکل اسی طرح جیسے ایلان کردی کی تصاویر چند مہینے قبل دنیا بھر کے اخبارات پر شائع ہوئی تھیں۔  اس کارٹون میں دو بچوں کی تصویر کشی کی گئی ہے جن میں سے ایک ایلان کردی ہیں اور دوسرے عُمران اور لکھا ہے ’شامی بچوں کے لیے دو ہی راستے اگر وہ شام سے جائیں تو اگر وہ شام میں رہیں تو۔‘ اور سوشل میڈیا پر لوگوں نے ایمبولینس کی کرسی پر بیٹھے عُمران کی تصاویر عالمی رہنماؤں کی گفتگو کے درمیان فوٹو شاپ کر کے لگائیں کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ ان سب مذاکرات ان سب پلیٹ فارمز پر عُمران موجود ہے مگر اسے دیکھنے کی چشمِ تصور شاید کسی کسی کے پاس ہے۔

ایک قطری کارٹونسٹ خالد البیع نے اپنے کارٹون میں اس دنیا میں جنگ سے متاثرہ بچوں کی حالتِ زار کی تصویر کشی کی، جس میں ہم جی رہے ہیں۔  ایک صحافی روری دونغی نے لکھا ’جب ہم اس بات پر لڑتے ہیں کہ شام میں کون سا خاک اور خون میں لتھڑا بچہ زیادہ معنی رکھتا ہے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ہم اپنی اجتماعی انسانیت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

طاہر عمران
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

No comments:

Powered by Blogger.