Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان میں تین برسوں میں 280 ارب کے قرضے معاف

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کو بتایا گیا ہے کہ گذشتہ تین سالوں میں 280 ارب سے زائد کے قرضے معاف کیے گئے۔ یہ بات وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے سینیٹ میں پیش کیے گئے دستاویزات میں کہی گئی ہے۔ سینیٹر اعظم سواتی کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ 30 سالوں میں سینکڑوں نجی کمپنیوں نے بینکوں سے قرضے معاف کرائے ہیں۔
تحریری جواب کے مطابق گذشتہ تین سالوں میں 280 ارب روپے کے قرضے معاف ہوئے۔ وزیر خزانہ نے سوال کے جواب میں کہا ہے کہ اس وقت دو قوانین موجود ہیں جن کے تحت مالیاتی ادارے قرضے کی جلد وصولی کے لیے بینکنگ کورٹس میں مقدمہ دائر کر سکتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ قرضے کی جلد وصولی کے لیے سٹیٹ بینک نے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے بعد ان قوانین میں ترمیم تجویز کی ہے۔ یہ ترامیم قومی اسمبلی نے منظور کر لی ہیں جبکہ اب یہ ترامیم سینیٹ میں منظوری کے لیے بھیجی گئی ہیں۔ تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ یہ ان کمپنیوں کی فہرست ہے جنھوں نے گذشتہ 30 سالوں میں پانچ کروڑ سے زیادہ کے قرضے معاف کرائے ہیں۔ تحریری جواب میں وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ گذشتہ 30 سالوں میں 400 سے زیادہ کمپنیوں نے اپنے قرضے معاف کرائے ہیں۔

لیکن گذشتہ تین سالوں میں 280 ارب روپے سے زیادہ کے قرضے معاف کیے گئے اور ان میں سے سب سے زیادہ قرضے 2015 میں معاف کیے گئے۔ تحریری جواب کے مطابق 2013 میں چھ ارب روپے، 2014 میں 4.4 ارب اور 2015 میں 270 ارب روپے کے قرضے معاف کیے گئے۔ وفاقی حکومت کے تحریری جواب کے مطابق گذشتہ 30 سالوں میں ایک ہزار سے زائد کمپنیوں نے بینکوں سے لیےگئے قرضے معاف کرائے۔ جن بینکوں کے قرضے معاف کرائے گئے ان میں نیشنل بینک آف پاکستان نے 129 کمپنیوں کے قرضے معاف کیے، حبیب بینک لمیٹڈ نے 239 اور یونائیٹڈ بینک نے 179 کمپنیوں کے قرضے معاف کیے۔
 
رضا ہمدانی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

No comments:

Powered by Blogger.