Header Ads

Breaking News
recent

ایک بچہ 250 ڈالر میں؟ بے حسِی وہ بیماری ہے جس کی بھینٹ شامی بچے چڑھ رہے ہیں

امریکی صحافی فرینکلن لیمب کا مغربی ویب سائٹس پر شائع ہونے والے مضمون نے پڑھنے والوں کے رونگٹی کھڑے کر د ئیے اورجدید تہذیب کے دعویٰ داروں کے پول کھول کر رکھ دیئے۔ شام میں کیا ہو رہا ہے؟ کون کیا چاہتا ہے اور کون انسانیت سوز سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ وہاں انسانوں کے بچے جانوروں سے بھی بد تر طریقوں سے نیلام ہو رہے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ آج کل بہت سی مسیحیوں کا رویہ مسیحیت کے خفیہ کارندوں جیسا ہے۔ ایسے مسیحیوں کوایک مکروہ قسم کی بیماری لاحق ہو گئی ہے جسے ‘‘بے حسِی اور بے اعتنائی کی بیماری’’ کہا جا سکتا ہے۔ یہی وہ بیماری ہے جس کی بھینٹ یہ شامی بچے چڑھ رہے ہیں۔ فرینکلن لیمب کے مطابق لبنان میں کام کے سلسلے میں قیام کے دوران اس نے الرملہ البیضاء کے ساحل کے قریب 4 شامی بچوں کو 600 امریکی ڈالر میں خریدا۔

 مضمون نگار کا کہنا ہے کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ آیا جس خاتون سے انہوں نے یہ بچے خریدے اس کی کہانی سچی تھی یا وہ انسانوں کی تجارت میں ملوث گروہوں کی رکن تھی۔ وہ گروہ جو ان دنوں لبنان میں وسیع پیمانے پر کام کررہے ہیں۔ خاتون کہتی ہیں کہ وہ حلب میں ان بچوں کے گھر کے پڑوس میں رہتی تھی۔ بمباری کے نتیجے میں ان کے گھر والے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور اس خاتون نے بچوں کو بچایا۔ ان میں پانچ برس کی دو جڑواں بچیاں ہیں، ایک سال اور چند ماہ کا ایک بچہ ہے اور سب سے بڑا بھائی آٹھ برس کا ہے۔ اس خاتون نے پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے کمیشن میں اندراج اس لیے نہیں کرایا کیوں کہ وہ خود لبنان میں غیر قانونی طور پر مقیم تھی۔ وہ بچوں کی دیکھ بھال نہیں کرسکتی لیکن انہیں دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے لیے سڑک پر بھی نہیں چھوڑ سکتی۔
خاتون کے مطابق وہ چاروں بچوں کو 1000 ڈالر کے عوض دے سکتی ہے یا پھر وہ ان میں سے کسی بھی ایک بچے کو 250 ڈالر کے عوض خرید ا جا سکتا ہے۔اس سودے بازی کے موقع پر چاروں بچے بہت سہمے ہوئے تھے۔ وہ سردی اور بارش سے کانپ رہے تھے اور بھوکے بھی لگ رہے تھے۔ لیمب نے بنا کچھ سوچے تمام بچوں کی قیمت 600 ڈالر لگا دی۔ عورت نے پیش کش قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ یونان کے جزیرے لبوس پہنچنے کے لیے ترکی جانا چاہتی ہے۔ اس عورت نے بچوں کے عوض ملنے والی رقم لبنانی کرنسی میں نہیں بلکہ امریکی ڈالر میں لینے پر اصرار کیا۔ کیا کسی نے لبنان میں ان شامی پناہ گزین بچوں کو درپیش استحصال کے بارے میں سوچا ہے جو ہزاروں کی تعداد میں دربدر ہے۔ پناہ گزینوں کے لیے امدادی کوششیں فنڈز کی عدم دستیابی کا شکار ہیں اور اقوام متحدہ نے بھی امداد کا سلسلہ منقطع کر رکھا ہے۔

درجنوں شامی بچوں کوروزانہ بھیک مانگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ کچھ تو ایسے ہیں جو بیروت کی سڑکوں پر چیونگ گم اور پھول بیچتے ہوئے یا جوتوں کی پالش کرتے ہوئے پھرتے رہتے ہیں۔ ایک تصویر یہ بھی ہے کہ فرار پر مجبور ہو کر اپنے بچوں کے ساتھ لبنان آنے والی نصف سے زیادہ شامی خواتین جنگ میں اپنے شوہروں اور بڑی بیٹوں کو کھو چکی ہیں۔ ان میں اکثر کام کی تلاش کے لیے سرگرداں ہیں جب کہ اپنے ملک میں یہ ایسا کرنے پر مجبور نہیں تھیں۔ بہت سی شامی خواتین جو کام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ان کو کام دینے والوں اور ساتھی مردوں کی جانب سے جنسی ہراسیت کا سامنا ہوتا ہے۔ اس لیے کہ ان کے گھر میں کوئی مرد نہیں جو ان کو تحفظ دے سکے اور مال اور امداد کے عوض بدکاری سے روک سکے۔ لیمب ان بچوں کو اپنے اپارٹمنٹ لے آیا جہاں اس نے ادیس ابابا سے تعلق رکھنے والی ایک دوست جو بہت اچھی خدمت گار بھی ہے کو بچوں کی دیکھ بھال میں مدد کرنے پر آمادہ کر لیا۔ اب سوال یہ ہے کہ ان چھ بچوں کو تو لیمب نے خرید لیا اور جو بچے کسی لیمب کی دریا دلی سے مستفید نہیں ہوئے ان کا مستقبل کیا ہے؟
 
فائزہ نذیر احمد

No comments:

Powered by Blogger.