Header Ads

Breaking News
recent

روس کا نئی ’فٹبال غنڈہ گردی‘ کو فروغ ؟

تشدد کئی سالوں سے روس کی فبٹال کا حصہ رہا ہے۔ سٹیڈیمز کے اندر منظم
جھگڑے عام ہیں۔ تاہم گذشتہ ہفتے یورو فٹبال کپ سنہ 2016 میں روس اور انگلینڈ کے مداحوں کے درمیان میچ کے دوران فرانس کے شہر مارسے میں ہونے والی پرتشدد جھڑپوں نے روس کی غنڈہ گردی بین الاقوامی توجہ کا مرکز رہی۔ روس کی فٹبال یونین نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا جبکہ وزیرِ کھیل نے اسے شرمندگی قرار دیا۔ تاہم دیگر سینئیر حکام نے اس غنڈہ گردی کی ’کھلے عام‘ تعریف کی۔

ماسکو کے سی ایس کے اے فٹبال کلب کے مداح الیکسی جنھوں نے اس جھڑپوں میں حصہ لیا مجھے فرانس سے فون پر بتایا کہ ’یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ غنڈہ گردوں میں سب سے نمایاں کون تھا؟‘ ان کا کہنا ہے کہ روسی غنڈوں نے یہ سب کچھ برطانیوں سے سیکھا ہے۔ الیکسی کے مطابق سنہ 1970 اور 1980 کی دہائی میں ہر کوئی برطانوی غنڈوں کے سامنے جھکتے تھے۔ تاہم ’اب یہاں مختلف اوقات میں مختلف طرح کی غنڈی گردی ہوتی ہے۔‘ روس اور انگلینڈ کے شائقین کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کے بعد ٹوئٹر پر ’مارسے‘ ہیش ٹیگ نمایاں رہا۔ سوشل میڈیا پر روس سے تعلق رکھنے والے گروپوں نے اس بحث میں حصہ لینے والے افراد کی تعریف کی۔ انگلینڈ کے مداح جو تشدد کا شکار بنے نے روسیوں کو وحشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عام مداحوں پر حملے کیے گئے جبکہ روس کے مداحوں کا اصرار ہے کہ وہ انگلینڈ کے مداحوں کی جانب سے اشتعال انگیزی کا جواب دے رہے تھے۔
روس کے فٹبال مداحوں کی یونین کے بانی اور صحافی آندرے کا کہنا ہے ’بہت سارے لوگ باکسنگ اور مارشل آرٹس سیکھتے ہیں اور روسی غنڈے شراب سے پرہیز کرتے ہیں اور صحت مندانہ لائف سٹائل اپنا رہے ہیں۔‘انھوں نے بی بی سی کو بتایا انگلش مداح زیادہ شراب پینا پسند کرتے ہیں اور جب وہ شراب پیتے ہیں تو وہ لڑائی بہتر طور پر نہیں کر سکتے۔ ہمارے لوگ اس کے لیے زیادہ تیار تھے۔‘ آندرے کے مطابق روس اور پولینڈ کے مداح غنڈہ گردی کے چارٹ پر سر فہرست ہیں جبکہ انگلینڈ کے مداح کی پوزیشن نیچے آئی ہے۔ روس کے ایک اخبار نے کہا ہے کہ غنڈوں کے مختلف درجات بھی شائع کیے ہیں۔ اس اخبار کے مطابق تجربے کار غنڈوں کو ’فائٹرز‘ کہا جاتا ہے جبکہ گول پوسٹ کے پیچھے بیٹھے شور مچاتے شائقین کو ’الٹراز‘ کا نام دیا گیا ہے۔
 
روس اور انگلینڈ کے درمیان میچ میں ہونے والی جھڑپوں میں متعدد کلب ملوث تھے یہاں تک کہ روس کے چھوٹے قصبوں کے کلب بھی شامل تھے۔ روس کے شائقین کی تنظیم کے صدر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے کے بعد 100 سے زائد غنڈوں کو بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔ اگر روس اور انگلینڈ کے مداحوں کی جھڑپیں جاری رہیں تو انھیں یوئیفا کی جانب سے مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دونوں ٹیموں کے لیے سب سے سخت سزا ہو گی کہ انگلینڈ اور روس کی ٹیموں کو یورو 2016 سے نااہل قرار دے دیا جائے گا۔ روس کے لیے یہ بہت بڑا دھچکہ ہو گا کیونکہ روس میں یورو 2018 منعقد ہونا ہے۔ روس کی فٹبال ٹیم کے مداح الیکسی نے فرانس سے بی بی سی کو بتایا ’یقیناً ہم اپنی ٹیم کے بارے میں فکر مند ہیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ سنیچر کو فرانس کے شہر مارسے میں روس اور انگلینڈ کے مداحوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کا آغاز انگلش مداحوں کی جانب سے دی جانے والی گالم گلوچ سے ہوا۔

سارا رینزفرڈ
بی بی سی نیوز، ماسکو

No comments:

Powered by Blogger.