Header Ads

Breaking News
recent

جنوبی ایشیا میں بے یارومددگار پاکستان

نیوکلیئر سپلائیرز گروپ (این ایس جی) میں شمولیت کے لیے امریکہ کے حمایت یافتہ انڈیا کی کوششوں نے پاکستان کو جنوبی ایشیا میں ایک بار پھر الگ تھلگ کر دیا ہے۔ پاکستان خطے میں خود کو بے یارومددگار محسوس کررہا ہے، ایران، افغانستان اور انڈیا کے خیال میں پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے خاتمے اور خاص طور پر افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں ناکامی میں اس کو قصوروار سمجھتے ہیں جس کا اسلام آباد نے دو سال قبل وعدہ کیا تھا۔ 48 ممالک پر مشتمل این ایس جی، جو جوہری توانائی کی ٹیکنالوجی کی بین الاقوامی تجارت کے قواعد کا تعین کرتا ہے، انڈیا اور پاکستان کے درمیان سفارتی میدان جنگ بن گیا ہے۔ اس کا ایک اہم اجلاس رواں ماہ منعقد ہونے والا ہے۔

پاکستانی فوج اس بات پر خفا ہے کہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ واشنگٹن کے بعد امریکہ انڈیا کی ایس این جی کی رکنیت کے لیے تمام رکن ممالک میں لابینگ کر رہا ہے۔ پاکستان نے بھی ایسا ہی کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن اس کا جوہری پھیلاؤ کا ریکارڈ انڈیا کی طرح اچھا نہیں ہے اور واضح طور پر وہ کامیاب نہیں ہوگا۔ تاہم کچھ چھوٹے ممالک امریکہ سے ناراض ہیں، جس پر وہ دھونس جمانے کا الزام عائد کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ انڈیا یا پاکستان جب تک جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این ٹی پی) پر دستخط نہیں کرتے دونوں ممالک کو رکن نہیں بننا چاہیے۔
 
انڈیا کی معیشت ترقی کر رہی ہے اور وہ مزید جوہری پلانٹ لگنے کا منصوبہ رکھتا ہے امریکی صدر براک اوباما انڈیا کو این ایس جی کی رکنیت دینے کے لیے جوہری عدم پھیلاؤ اور ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق اپنی پالیسی کے خلاف جا رہے ہیں، جبکہ امریکہ کا انڈیا کو چھ جوہری توانائی کے پلانٹ کی فروخت کا منصوبہ بھی ہے۔ اسی دوران امریکہ نے کئی ڈرامائی اقدام دکھائے ہیں کہ وہ پاکستان سے افغان طالبان کی کارروائیوں کو روکنے میں پاکستان کی کوششوں کی شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ گذشتہ ماہ اس نے صوبہ بلوچستان میں طالبان رہنما ملا اختر منصور کو ایک ڈرون حملے میں ہلاک کیا جس کے بعد پاکستان نے امریکہ پر جغرافیائی خودمختاری کے خلاف الزام عائد کیا تھا۔
اس کے بعد امریکہ نے پاکستان پر طالبان اور حقانی گروپ کو روکنے کے لیے 
زیادہ اقدامات نہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ اور افغان حکومت کی حمایت کا اشارہ دیتے ہوئے صدر اوباما نے افغانستان میں افغان فوجوں کے ساتھ مل کر لڑنے کے لیے امریکی فوجوں کے قیام کی اجازت دی تھی۔ آخرکار، نریندر مودی کے دورہ امریکہ کے دوران امریکہ نے کھلے عام پاکستانی پنجاب اور کشمیر میں سرگرم انتہاپسند گروہوں کی مذمت کی تھی جن کی سرگرمیوں کو اسلام آباد نہیں روکتا۔
  
پاکستان اور انڈیا کے درمیان لائن آف کنٹرول پر بھی کشیدگی رہتی ہے فوج نے ممبئی حملوں میں مطلوب حافظ سعید کو اسلام آباد میں جمعے کی نماز کی امامت کی اجازت دی، جسے امریکہ اور انڈیا کے سامنے بے باکی کے ایک اشارے کے طور پر دیکھا گیا۔ پاکستانی فوج کو خدشہ ہے کہ امریکہ کا جنوبی ایشیا سے انخلا ہو رہا ہے اور وہ اپنے پیچھے پاکستان کے حریف انڈیا کو علاقائی پولیس اہلکار کے طور پر چھوڑ دے گا، جوکہ اس کے لیے ناقابل قبول ہے۔ پاکستانی فوج کی جانب سے ایران اور افغانستان میں انڈین جاسوسوں کی پاکستان کے خلاف کام کرنے کا الزام عائد کرچکا ہے خاص طور پر چین کی جانب گوادر سے چین تک مواصلاتی نیٹ ورک کی تعمیر کے منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لیے۔

پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تعلقات اتنے ہی برے ہیں جتنے کئی برسوں سے تھے، اور ایران کے ساتھ بھی کچھ اچھے مراسم نہیں۔ ایک سال سے زائد عرصہ انتظار کرنے کے بعد افغان صدر اشرف غنی پاکستان کی افغان طالبان کو کابل کے ساتھ مذاکرات کی طرف مائل کرنے کی کوششوں سے ہاتھ دھو لیے ہیں۔ ان کی ناکامی کے غصے کو اب امریکی حمایت بھی حاصل ہے۔ اسی دوران ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمے کے ساتھ سول سیاستدانوں اور عوام ایرانی تیل اور گیس پائپ لائن کی طرف دیکھ رہے تھے جس سے توانائی اور بجلی پاکستان کو مل سکتی تھی جس کی اسے اشد ضرورت تھی۔ تاہم اسلام آباد کی جانب سے پاکستانی معیشت کو سبوتاژ کرنے لیے انڈین جاسوس کی میزبانی کے الزام کے بعد ایران اب اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر رہا ہے۔

چین پاکستان کا سب سے قریبی اتحادی ہے لیکن وہ بھی ناراضی کا اظہار کر رہا ہے۔ چین 45 ارب ڈالر پر مشتمل وسطی ایشیا سے منسلک کرنے والے سلک روٹ منصوبے کی تعمیر چاہتا ہے، لیکن وہ چاہتا ہے کہ فوج پہلے اپنا سیاسی اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے افغانسان میں طالبان کی جنگ اور بلوچستان میں شورش کا خاتمہ کرے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی دیرینہ حالت نے اندرونی سیاست کو بھی متاثر کیا ہے۔ پالیسی سازی میں سویلین حکومت یا وزیراعظم نواز شریف یا وزارت خارجہ یا پارلیمنٹ کی بہت کم شمولیت مسئلے کا حصہ ہے، جو اب فوج کی حصہ بن گیا ہے۔

وزیراعظم نوازشریف انڈیا، ایران اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری چاہتے ہیں لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے۔ جبکہ حزب اختلاف کے سیاستدان نواز شریف پر خارجہ پالیسی کے فیصلوں میں فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں فوج بھی خفا ہے اور انھیں کسی حد تک عوامی حمایت بھی حاصل ہے کہ نواز شریف نے وزیرخارجہ تعینات نہیں کیا اور گورننس کو بہترنہیں کیا۔ انھوں نے لندن میں اوپن ہارٹ سرجری کے بعد بھی خارجہ امور کا قلمدان نہیں چھوڑا۔ یہ خطہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور پاکستان کو فوری طور پر اپنی سکیورٹی کے مسائل اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری پر توجہ دینا ہوگی۔

احمد رشید
لاہور
بشکریہ بی بی سی اردو 

No comments:

Powered by Blogger.