Header Ads

Breaking News
recent

کیا موت کی سزا صرف مسلمانوں کے لیے ہے؟

انڈین ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں سنہ 2002 میں ہونے والے گلبرگ قتلِ عام کیس میں جمعے کو خصوصی عدالت نے 11 لوگوں کو عمر قید اور 12 کو سات برس قید کی سزا سنائی ہے۔ اس خصوصی عدالت میں موجود سینیئر صحافی ویشیش دیال کے مطابق ایک مجرم کو 10 برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
عدالت کے اس فیصلے پر لوگ سوشل میڈیا پر اپنی رائے ظاہر کر رہے ہیں اور ٹوئٹر پر ’گلبرگ ورڈكٹ‘ ٹرینڈ كر رہا ہے۔
  
2002 میں ہونے والے اس قتل عام میں ہلاک ہونے والے کانگریس پارٹی کے سابق رکن پارلیمنٹ احسان جعفری کی اہلیہ ذکیہ جعفری نے کہا: ’میں مطمئن نہیں ہوں، میں خوش نہیں ہوں۔ مجھے اپنے وکیلوں سے صلاح و مشورہ کرنا ہوگا، یہ انصاف تو نہیں ہے۔‘ انھوں نے کہا: ’عدالت کو تمام قصورواروں کو عمرقید کی سزا دینی چاہیے تھی۔ یہ کیس میرے لیے آج ختم نہیں ہوا ہے۔ ہم اب بھی وہی ہیں جہاں سے ہم نے شروعات کی تھی۔‘ سماجی کار کن تیستا سیتلواڈ کا کہنا ہے کہ ‎’ہم بدلہ لینے والا فیصلہ نہیں چاہتے، بلکہ اصلاح چاہتے ہیں۔‘
 آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے ٹوئٹر پر لکھا ہے: ’اگر سول سوسائٹی کی تاریخ میں گلبرگ قتل عام سب سے سیاہ باب تھا، تو اس میں مجرم کو سزائے موت دی جانی چاہیے، عمر قید یا 10 سال کی سزا کافی نہیں ہے۔‘ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے لکھا: ’بڑے مجرموں کو چھوڑنا نہیں چاہیے۔ اس پر اپیل کی جانی چاہیے اور سازش کے الزامات بھی عائد کیے جانے چاہیں۔‘
آشیش ترویدی نے طنزیہ طور لکھا ہے: ’کمال ہے۔ میں نے ریپ کیا، آگ لگائي، قتل کر سکتا ہوں اور پھر بھی مجھے صرف 7 سال کی سزا ملے گی۔۔۔۔۔ وہ بھی 14 برسوں کے بعد۔۔۔ گجرات میں ہندو ہوتے ہوئے مجھے فخر محسوس ہو رہا ہے!‘
 
راکیش بٹكري نے لکھا: ’کیا اس ملک میں موت کی سزا صرف مسلمانوں کے لیے ہے۔‘ کرم ویر سنگھ برار نے لکھا ہے: ’کسی کو بھی موت کی سزا نہیں۔ یہ بڑی 
شرم کی بات ہے۔ وہ انتہا پسند ہیں اور انھیں ویسی ہی سزا ملنی چاہیے۔‘

بشکریہ بی بی سی اردو

No comments:

Powered by Blogger.