Header Ads

Breaking News
recent

مسلمان انڈیا میں چیلنجز کا مقابلہ کیسے کر رہے ہیں؟

انڈیا کے اخبارات میں گذشتہ دنوں دو تصویریں صفحۂ اول پر نمایاں طور پر شائع ہوئیں۔ ایک تصویر تھی کرناٹک کے نثار الدین کی جنھیں دہشت گردی کےالزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ 23 سال قید میں گزارنے کے بعد انڈیا کی سپریم کورٹ نے نثار کو بے قصور یایا۔ نثارکو جب گرفتار کیا گیا تھا اس وقت وہ طالب علم تھے اور ان کی عمر 20 برس تھی اور اب وہ 43 برس کے ہوچکے ہیں۔ نثار نے جیل سے رہائی کے بعد کہا کہ وہ اپنے آپ کو ایک زندہ لاش کی طرح محسوس کرتے ہیں۔
دوسری تصویر 16 سال کے سرفراز حسین نام کےایک بچے کی ہے جس نے آسام میں دسویں کے امتحان میں ٹاپ کیا ہے۔

وہ جس سکول میں پڑھتا ہے وہ ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے زیرِ انتظام چلتا ہے۔ سرفراز نے ٹاپ کرنے سے پہلے سنسکرت زبان کے بھی کئی مقابلوں میں انعام اور اعزازات حاصل کیے ہیں۔ ان کی بہن نے بھی اسی سکول میں تعلیم حاصل کی تھی۔ سوشل میڈیا پر پچھلے دنوں ایک پرتشدد ویڈیو گردش کرتی رہی۔ اس ویڈیو میں پولیس کی موجودگی میں ’بجرنگ دل‘ کے کئی کارکن گائے کے ایک تاجر کو گائے ٹرانسپورٹ کرنے کے لیے انتہائی بے دردی سے لاٹھیوں سے مار رہے تھے۔ گائے اور بھینس ایک جگہ سے دوسری جگہ لے کر جانا بھارت میں ان دنوں موت سے کھیلنا ہے۔
سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کرنے والے پیفامات، تصویریں اور ویڈیو وغیرہ بڑے پیمانے پر گردش کر رہی ہیں۔ بھارت کے مسلمان ایک عرصے سے کافی دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔ بی جے پی کو مسلمان عموماً ایک مسلم مخالف پارٹی سمجھتے ہیں اس لیے بیشتر مسلمان اسے ووٹ نہیں دیتے۔ بی جے پی کے اقتدار میں آنے اور اس کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ سے مسمانوں کے اضطراب اور بےچینی میں اضافہ ہوا ہے۔ تعلیم اور معیشت میں سب سے پیچھے رہ جانے کے بعد مسلمانوں میں اب نئے چیلنجز کا مقابلہ تعلیم کےذریعے کرنے کا رججان تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔ سول سروسز کےامتحان ہوں یا مرکزی اور ریاستی تعلیمی بورڈوں کےامتحانات، ہر جگہ مسلمانوں کی تعداد بـڑھ رہی ہے۔ چھوٹے چھوٹے قصبوں میں تعلیم کے میدان میں مسلمان بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ 

تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے جہاں مسلمان بڑی شدت سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ تعلیم کا جنون اتنا زیادہ ہے کہ ایک رپورٹ کےمطابق اتر پردیش کے صرف 13 ضلعوں میں آر ایس ایس کے زیرِ انتظام شیشو مندر سکولوں میں بھی 4,500 ہزار سے زیادہ مسلم طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ یہ تعداد ہر برس بڑھ رہی ہے۔ کچھ دنوں پہلے یہ تصور بھی ممکن نہیں تھا۔ تقسیم ہند کے بعد شمالی انڈیا میں مسلمانوں کا متوسط طبقہ تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ 70 برس بعد اب ملک میں مسلمانوں کے ایک ابھرتے ہوئے مڈل کلاس کے آثار ہر جگہ نطر آتے ہیں۔ دہشت گردی، مسلمانوں کے خلاف بین الاقوامی سطح پر نفرت کی روش، تعلیم کی کمی اور 14 فی صد آبادی ہونے کے باوجود انڈیا کی سیاست اور معیشت میں بے اثر ہونے کےسبب بھارتی مسلمان ابھی تک دباؤ میں رہتے آئے ہیں۔ نفرتوں اور کئی سطح پر تفریق اور مشکلات نے مسلمانوں کی نئی نسل کو اور بھی زیادہ مضبوط بنا دیا ہے۔ شمال سے جنوب تک ہر جگہ تعلیم کا چرچا ہےجس سے مسلمان اپنی اقتصادی پسماندگی اور سیاسی بےبسی کو شکست دینا چاہتے ہیں۔

شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

 

No comments:

Powered by Blogger.