Header Ads

Breaking News
recent

بھارت کا انصاف : بغیر قصور کے جیل میں 22 برس گزارنے کے بعد رہائی

نصف شب میں میری ماں اٹھ کر میرے کمرے میں آتی ہے اور میری پیشانی پر ہاتھ رکھ کر چلی جاتی ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو یہ یقین دلانا چاہتی ہے کہ کیا میں واقعی جیل سے باہر آ چکا ہوں۔ یہ کوئی خواب تو نہیں ہے۔ نثار الدین یہ بات تو بڑی آسانی سے کہہ جاتے ہیں۔ لیکن اس جملے میں چھپے بے پناہ درد کو سمجھنا شاید اس وقت تک مشکل ہوگا جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ بے قصور نثار الدین اپنی زندگی کے 22 بیش قیمتی برس قید خانے میں گزارنے بعد حال ہی میں گھر واپس آئے ہیں۔ سنہ 1994 میں حیدرآباد کی پولیس نے انھیں حراست میں لیا تھا۔ ان پر اے پی ایکسپریس ٹرین میں ہونے والے بم دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔ ایک طویل قانونی جنگ کے بعد آخرکار گذشتہ ماہ سپریم کورٹ نے ان کی اور ان کے بھائی ظہیرالدین کی سزا منسوخ کرتے ہوئے انھیں فوراً رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔  

چونکہ یہ پورا کیس نثار اوران کے بھائی ظہیر اور دو دیگر ملزمان کے مبینہ اقبالی بیان پر ہی ٹکا تھا اور اس کے علاوہ ان کے خلاف اور کوئی ثبوت نہیں تھا اس لیے عدالت نے انھیں بری کرنے کا حکم دیا۔ نثارالدین کہتے ہیں کہ پولیس نے انھیں اس کیس میں ناحق ہی پھنسایا تھا۔ جسٹس كلي پھلا اور يويو للت کی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا: ’نثار پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوتا لہذا ان کی قید کی سزا کو جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ کورٹ نے کہا کہ پختہ ثبوتوں کی عدم موجودگی میں صرف شریک ملزمان کے اقبال نامے کی بنیاد پر نثار اور ان کے بھائی کی سزا کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔
دونوں بھائیوں کو آج تک نہیں معلوم کہ آخر پولیس نے انھیں اس کیس میں ملزم کیوں بنایا تھا؟ حیدرآباد میں 15 جنوری 1994 کو وہ گھر سے اپنے فارمیسی کالج جانے کے لیے نکلے۔ ایک ہفتے بعد ان کا امتحان شروع ہونے والے تھا۔ تبھی انھیں حیدرآباد کی پولیس نے اٹھا لیا۔ نثار نے بتایا: ’مجھے 43 دنوں تک غیر قانونی طریقے سے حراست میں رکھا گیا۔ اس کے بعد مجھے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ حراست میں انھوں نے مجھے مارا پیٹا، الٹا لٹکایا۔ میں ان سے پوچھتا رہا کہ میرا قصور تو بتاؤ لیکن انھوں نے مجھے کچھ نہیں بتایا۔ انھوں نے ایک من گڑھت اقبالی بیان پر زبردستی میرے دستخط کروا لیے۔ انھوں نے کہا کہ یہ میری رہائی کے لیے ہے۔ لیکن مجھے بعد میں پتہ چلا کہ مجھے ٹاڈا میں پھنسا دیا گیا۔ دو برس بعد مقامی ٹاڈا کی عدالت نے کہا کہ ٹاڈا کے قوانین مجھ پر نافذ نہیں ہوتے۔‘

نثار کے وکیل شاداں فراست نے کہا: ’عام طور پر ایک پولیس افسر کے سامنے دیے گئے اقبالیہ بیان کو عدالت میں جائز نہیں سمجھا جاتا لیکن ٹاڈا کے تحت ایسے قبولنامے کو جائز سمجھا جاتا ہے اگر وہ ایس پی رینک کے افسر کے سامنے دیا گیا ہو۔ لیکن نثار کے کیس میں بغیر کسی سینیئر پولیس افسر کی اجازت کے اس کا کا اقرار نامہ لیا گیا تھا جو درست نہیں ہوتا۔ انھوں نے مزید کہا:  کورٹ میں کیس اسی وقت خارج ہو جانا چاہیے تھا لیکن پھر سی بی آئی نے کیس اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اسی اقبالیہ بیان کو اجمیر کی ٹاڈا عدالت میں پیش کیا اور پھر عدالت نے نثار کو عمر قید کی سزا سنا دی۔ 

نثار کے بھائی ظہیر نے کہا: ’مجھے تو ضمانت مل گئی کیونکہ مجھے پھیپھڑوں کا کینسر ہو گیا تھا۔ لیکن ہمیں سپریم کورٹ میں جانے اور کیس کو منسوخ کرانے میں 12 سال لگ گئے۔ نثار نے کہا: ’جب میں جیل سے باہر آیا تو مجھے یقین نہیں ہوا کہ میں آزاد ہوگیا ہوں۔ جب لوگ جیل سے باہر آتے ہیں تب انھیں خوشی ہوتی ہے۔ لیکن رہا ہونے کے بعد بھی میں وہ خوشی محسوس ہی نہیں کر پا رہا تھا۔ 
نثار کے مطابق: ’جب میں اپنے گھر پہنچا تب جاکر مجھے احساس ہوا کہ میں رہا ہو چکا ہوں۔ لیکن سب کچھ بدل چکا تھا۔ میں اپنے شہر میں ہی اجنبی محسوس کر رہا تھا۔ میری رہائی کی لڑائی لڑتے لڑتے میرے ابّا دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔ میرا پرانا گھر ویسا ہی تھا۔ ٹوٹی دیواریں اور لیک ہوتی چھت۔‘
  
جوانی کا طویل دور جیل میں گزارنے والے نثار کو ابھی پتہ نہیں کہ انھیں آگے کرنا کیا ہے۔ ’میں جب 20 سال کا تھا تب پولیس پکڑ کر لے گئی تھی۔ اب میں 43 سال کا ہوں۔ مجھے از سر نو زندگی شروع کرنی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’میری ماں میرے لیے بہت تڑپتي ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ دوسری ماؤں کے ساتھ ایسا ہو۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو میری طرح بغیر قصور برسوں سے جیل میں سڑ رہے ہیں۔ میری یہ واحدخواہش ہے کہ بے گناہوں کو اس طرح سے مشقت نہ جھیلنا پڑے۔ میں یہی پیغام انتظامیہ تک بھی پہنچانا چاہتا ہوں۔ نثار اور ظہیر اپنی جوانی برباد ہونے کے عوض میں معاوضے کے حقدار ہیں۔ لیکن رہائی کے لیے اتنی طویل جنگ لڑنے والے دونوں بھائیوں کو معلوم ہے کہ اس کے لیے ایک اور 
طویل جدوجہد درکار ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

No comments:

Powered by Blogger.