Header Ads

Breaking News
recent

امریکی صدر کا دورہ ہیروشیما

امریکی صدر اوباما جاپان کے شہر ہیروشیما پہنچے ہیں۔ انہوں نے امریکہ کی
جانب سے ہیرو شیما میں ایٹم بم گرائے جانے پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا ہے۔ آج کئی دہائیوں کے بعد بھی امریکہ معافی مانگنے کے لئے تیار نہیں۔ انہوں نے صرف ہیروشیما میں امریکی ایٹم بم سے ہلاک ہونے والے لاکھوں افراد کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔ اورتعزیت کی۔ لیکن معافی نہیں مانگی۔

مجھے ہیروشیما جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ میں نے ہیروشیما کا وہ مرکزی عجائب گھر بھی دیکھا ہے جہاں ایٹم بم سے ہوانے والی تباہیوں کو سنبھال کر رکھا گیا ہے۔ اور اس عجائب گھر میں جا کر آپکو ایٹم بم سے ہونے والی ایک ایک ہلاکت کا بخوبی اندازہ ہو جا تا ہے۔ ہیروشیما میں ایٹم بم کی تباہی کے بعد آج جو تیسری نسل پیدا ہو رہی ہے اس میں بھی ایٹمی تابکاری کا اثر موجود نظر آتا ہے۔ اس کے ساتھ اس ایٹم بم کے متاثرین نے بھی ہیرو شیما میں مختلف تنظیمیں بنا رکھی ہیں۔ اور یہ لوگ اس عجائب گھر میں آنے والے لوگوں کو ایٹم بم کی تباہ کاریوں اور اس کے نقصانات پر ایک لیکچر بھی دیتے ہیں۔ جس کا مقصد یہ باور کروانا ہوتا ہے کہ ایٹم بم کس قدر تباہ کن ہے۔

اسی عجائب گھر کے اندر ایک گھڑی بھی لگائی گئی ہے جو دنیا میں ہونے والے ایٹمی تجربات کو مدنظر رکھتی ہوئی چلتی ہے۔ دنیا میں جس قدر ایٹمی تجربات زیادہ ہو رہے ہوں۔ یہ گھڑی اتنی تیز چلتی ہے۔ اور اتنی زیادہ گھنٹیاں بجاتی ہے۔ جس سے یہ ظاہر ہو تا ہے کہ آج دنیا کو کس قدر خطرات درپیش ہیں۔ کہا جا تا ہے کہ جب دنیا کو خطرہ بہت بڑھ جائے گا تو یہ گھڑی ٹوٹ جائے گی۔
یہ بھی ہیروشیما کی روایت ہے کہ جب بھی دنیاکا کوئی بھی ملک کسی قسم کا کوئی ایٹمی تجربہ کرتا ہے تو ہیروشیما کا مئیر اس ملک کے سربراہ کو ایک احتجاجی خط لکھتا ہے۔ کہ آپ کو یہ ایٹمی تجربہ نہیں کرنا چاہئے تھا۔ آپ کے اس ایٹمی تجربہ سے دنیا مزید غیر محفوظ ہو گئی ہے۔ یہ خط ہیرو شیما کے اس عجائب گھر میں ایک خاص حصہ ہے جہاں دیوار سے لگا دیا جاتا ہے۔ ہیرو شیما کے مئیر کی جانب سے سب سے زیادہ احتجاجی خط بلا شبہ امریکہ سمیت دیگر بڑی طاقتوں کو لکھے گئے ہیں۔ جن کے پاس آج ایٹمی ہتھیاروں کا ایک وافر ذخیرہ موجود ہے۔ میں نے جب یہ عجائب گھر دیکھا تب پاکستان ایٹمی تجربات کر چکا تھا۔ اس لئے میاں نواز شریف کو لکھا گیا خط بھی اس عجائب گھر کے حصہ کی دیوار پر موجود تھا۔ اس کے علاوہ اتنے خط تھے کہ سارے پڑھنے مشکل تھے۔ ان خطوط کو دیکھ کر ہی اندازہ ہو تا ہے کہ دنیامیں کتنے زیادہ ایٹمی تجربات ہو چکے ہیں۔

میں جب ہیرو شیما پہنچا تو وہاں سکولوں کے بچوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ میں نے پوچھا کہ بچے اتنی تعداد میں کہاں سے آئے ہیں تو مجھے انتظامیہ کی جانب سے بتا یا گیا کہ جا پان میں کوئی بچہ سکینڈری سکول یعنی دسویں جماعت کا امتحان تب تک نہیں دے سکتا جب تک وہ ہیرو شیما اور نا گا سا کی کا سٹڈی ٹور مکمل نہ کر لے۔ اسی لئے اس بڑے عجائب گھر کے ساتھ بڑے بڑے ہاسٹلز بھی خصوصی طور پر بنائے گئے ہیں۔ یہ بچے آکر یہاں رہتے ہیں ایٹم بم کی تباہ کاری کو سمجھتے ہیں۔ یہاں ہونیو الے نقصان اور جا پان کی شکست کو سمجھتے ہیں۔ ایٹم بم کے متاثرین کو ملتے ہیں۔ اس کے بعد وہ امتحا ن میں بیٹھ سکتے ہیں۔ جا پان کے ہر سکول کو مخصوص دن دیئے گئے ہیں جب اس کے بچے یہاں کا دورہ کرتے ہیں ۔ اس لئے بچوں کا رش سارا سال یہاں رہتا ہے۔ اور اس سے یہ عجائب گھر بھی ہر وقت آباد رہتا ہے۔ میں نے ہیرو شیما کے مئیر سے ملاقات میں سوال کیا کہ آپ جا پان کے ہر بچے کو ایٹم بم کی تباہی اور جا پان کی شکست کیوں بتا نا چاہتے ہیں۔ وہ کہنے لگا کہ ہم اپنی نئی نسل کو اس بات سے آگاہ رکھنا چاہتے ہیں کہ ایٹم بم کس قدر تباہ کن ہتھیار ہے۔ تا کہ جب ہماری نئی نسل اس ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالے تو اسے ہماری شکست ہماری تباہی اور ساری تاریخ کا مکمل علم ہو۔ ہم انہیں صرف یہ نہیں بتا نا چاہتے کہ آج جاپان نے بہت ترقی کر لی ہے۔ ہم انہیں اپنا ماضی بھی بتانا چاہتے ہیں۔ اس کے بغیر قوم تیار نہیں ہو سکتی۔

ہیرو شیما کے مئیر کی یہ بات آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہے ۔ لیکن میرے پیارے پاکستان میں تو ہم اپنی نئی نسل کو اپنا ماضی بتانے کے لئے تیار نہیں۔ ہم اپنی نوجوان نسل کو سقوط ڈھاکہ کے اسباب جنگ اور اس میں شکست کو بتانے کے لئے تیار نہیں۔ شاید ہمارے اور جا پان میں ایک بنیادی فرق یہ بھی ہے کہ جا پان اپنی نوجوان نسل کے ساتھ سچ بول رہا ہے۔ اور ہم اپنی نوجوان نسل کے ساتھ سچ بولنے کے لئے تیار نہیں ۔ مجھے تو جا پان کی ترقی اور اپنی زبوں حالی میں فرق سچ کا ہی لگا ہے۔

اس عجائب گھر میں گھومتے ہوئے ہر آنکھ اشکبار ہو جاتی ہے۔ اتنی تباہی جس کا ہم اندازہ ہی نہیں کر سکتے کہ کیسے ایک ہنستا بستا شہر منٹوں میں کھنڈر بن گیا۔ بچوں کے کھلونے۔ تباہی۔ ایک ایسی دردناک کہانی ۔ جس کو دوبارہ دیکھنے کی شاید کسی بھی ہمت نہ ہو۔ میرے ہیروشیما کے اس دورہ پر میرے عزیز دوست مرحوم عدنان شاہد بھی میرے ساتھ تھے۔ ہیرو شیما کا یہ دورہ میرے اور ان کے درمیان اس کے بعد بھی کئی سال تک گفتگو اور بحث کا موضوع رہا ۔ اور ہم نے جب بھی بات کی ایک نیا پہلو ہمارے سامنے آیا۔

امریکی صدر باراک اوباما نے معافی مانگی کہ نہیں۔ یہ کوئی اہم بات نہیں۔ ایک امریکی صدر کا وہاں جانازیادہ اہم ہے۔ اور جا پان کی فتح ہے۔ جاپان پر آج بھی با لواسطہ امریکہ کا قبضہ ہے۔ بادشاہت ہے۔ جمہوریت ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ امریکی اڈے اور امریکی فوجیں بھی موجود ہیں۔ جن کو جا پان سے نکالنے کے لئے
جاپان میں بہت شور ہے۔ لیکن جاپان نہ تو امریکی فوج اور امریکی اڈوں کو اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔ اور نہ ہی بادشاہت کو۔ اور جمہوریت کو۔ ہم آج تک اسی بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ جمہوریت چلے گی کہ نہیں۔ فوج آئے گی کہ نہیں۔ امریکہ جائے گا کہ نہیں۔ چین آئے گا کہ نہیں۔ جبکہ جا پان نے ثابت کیا ہے کہ ترقی کے لئے یہ سب سوال غیر اہم ہیں۔ صرف اپنی قوم اور بالخصوص نئی نسل کو سچ بولنے کی ضرورت ہے۔

مزمل سہروردی

No comments:

Powered by Blogger.