Header Ads

Breaking News
recent

شیر بنیں میاں صاحب شیر

تین جنوری 2014 کو موقر پاکستانی اخبار ڈان میں انتخابی اثاثہ ڈیکلریشنز سے
متعلق رپورٹ کی روشنی میں واضح ہوا کہ شریف برادران کا شمار پاکستان کے امیر ترین افراد میں نہیں ہوتا۔ رپورٹ کے مطابق وزیرِاعظم نواز شریف کا کوئی ذاتی گھر نہ پاکستان میں ہے نہ باہر۔ وہ رائے ونڈ کے جس لق و دق گھر میں رہتے ہیں وہ بقول وزیرِ اطلاعات پرویز رشید میاں صاحب کی والدہ محترمہ کی ملکیت ہے۔ میاں صاحب کبھی مری یا چھانگا گلی جائیں تو اپنی اہلیہ کلثوم نواز کے گھر میں قیام کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق برادرِ خورد شہباز شریف کی اگرچہ لندن میں دو عدد املاک ہیں لیکن لاہور والا گھر اہلیہ نصرت شہباز کی ملکیت ہے۔ لاہور کی جن پانچ املاک کا مجموعی رقبہ 676 کنال بنتا ہے وہ بھی شہباز شریف کو والدہ محترمہ نے ہبہ کیا۔دونوں بھائیوں کے زیرِاستعمال دو لینڈ کروزر بھی زاتی نہیں تحفہ ہیں۔ 2013 کی اثاثہ تفصیلات کے مطابق نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر صاحب کے زیرِ استعمال کار ان کی اہلیہ مریم نواز کو متحدہ عرب امارات سے تحفہ ملی۔

تین روز قبل پاناما پیپرز کی اشاعت سے دنیا میں جو ادھم مچا اس کے اثرات پاکستان میں اتنی شدت سے محسوس کیے گئے کہ ازقسمِ عمران خان حضرات نے پیپرز کی تفصیلات پڑھنے سے پہلے پہلے ہی کہہ دیا ’میں نہ کہتا تھا دال میں کالا نہیں دال ہی کالی ہے۔‘ نیوز چینلوں نے شکرانے کی دیگیں چڑھا لیں کہ کوئی تو ریٹنگ پھاڑ خبر ہاتھ آئی جس کے پارچے کئی ہفتے استعمال ہو سکیں۔
وزیرِ اطلاعات پرویز رشید سمیت سمیت وزرا و مشیروں کی بٹالین اپنے محبوب لیڈر اور خاندان کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن گئی۔ صحافیوں کا ایک پورا بریگیڈ پاناما پیپرز کے پیچھے اجتماعی عالمی سازش ڈھونڈنے نکل کھڑا ۔ حالانکہ اب تک صرف یہ سامنے آیا ہے کہ شریف خاندان سمیت کوئی دو سو تجار، صنعت کار، سابق حکام اور لینڈ ڈویلپرز کے سمندر پار کھاتوں کی دیکھ بھال پانامہ میں رجسٹرڈ موساک فونسیکا نامی قانونی فرم برسوں سے کر رہی ہے۔ آف شور کمپنی کھولنا کوئی گناہ نہیں۔ مگر میڈیا اور حزبِ مخالف نے فرض کر لیا کہ آف شور کمپنی کا مطلب ہی گڑ بڑ ہے۔
  
چنانچہ وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کو بادلِ نخواستہ قوم سے خطاب میں اپنے خاندانی کاروبار کی 80 سالہ تاریخ، صنعتی قربانیوں اور ان مصائب پر تفصیلی روشنی ڈالنا پڑی کہ جن کا پاناما پیپرز کی تفصیلات سے کوئی لینا دینا نہیں۔ انھوں نے حزبِ اختلاف کے ناقابلِ رفع شبہات رفع کرنے کے لیے پہلے سے موجود نیب یا ایف آئی اے کو کھلی تحقیقات کا حکم نہیں دیا بلکہ یک ریٹائرڈ ججی کمیشن بٹھانے کا اعلان کر دیا۔

سوال یہ ہے کہ اگر خود مختار نیب اور وفاقی ایف آئی اے ایسے ہی بے اعتبارے ہیں تو پھر آصف زرداری ، شعیب شیخ ، ڈاکٹر عاصم اور ایان علی سمیت کسی بھی اور پاکستانی شہری کی چھان بین کے لیے کیوں ہیں۔ جس تحقیقاتی کمیشن کا وزیرِاغطم نے اعلان کیا اس کا دائرہ صرف شریف خاندان تک ہی کیوں۔ سب سے زیادہ آف شور کمپنیوں کی مالک لکی مروت کی سیف اللہ فیملی، گجرات کی چوہدری فیملی، ہاشوانی فیملی ڈویلپر ملک ریاض حسین یا سب کی آنکھوں کے تارے رحمان ملک سمیت دیگر دو سو سے زائد افراد کی آف شور کمپنیوں کی چھان بین کون کرے گا۔ اگر نیب اور ایف آئی اے کریں گے تو بقول وزیرِاعظم جب ان کے اور ورثا کے ہاتھ صاف ہیں تو خصوصی کمیشن کیوں؟ جسے تکلیف ہو وہ باقاعدہ عدالتوں میں کیوں نہ جائے؟

آئس لینڈ کے مستعفی ہونے والے وزیرِاعظم کو کسی جوڈیشل کمیشن کا خیال کیوں نہ سوجھا ؟ انھوں نے کوئی غفلت یا جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی استعفی دینا کیوں پسند فرمایا؟ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، سویڈن اور بھارت وغیرہ میں پہلے سے قائم احتسابی ادارے ہی کیوں حرکت میں آ رہے ہیں؟ حزبِ اختلاف کی سیاسی دوکان چمکانے کی علت اپنی جگہ۔ مگر انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ جب تک کچھ غلط ثابت نہ ہو جائے کسی کو بھی مجرم کہنے سے پرہیز کیا جانا چاہیے ۔ وزیرِ اعظم کے بچوں کا ملکی سیاست میں فی الحال کوئی باضابطہ تسلیم شدہ اعلانیہ کردار بھی نہیں ہے۔ لہذٰا ان بچوں پر صرف اس لیے کیچڑ اچھالنا مناسب نہیں کہ وہ وزیرِ اعظم کی اولاد ہیں۔

لیکن ہر قانونی جائز اخلاقاً بھی جائز ہے؟ وزیرِ اعظم جب بھی بیرونِ ملک جاتے ہیں تو سرمایہ کاروں پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں یہاں ماحول پہلے سے زیادہ سازگار ہے ۔ اگر کوئی پلٹ کے پوچھ لے کہ حضور اگر پاکستان اتنا ہی محفوظ ہے تو آپ کے بچے اپنا سرمایہ، کاروبار یا اثاثے بیرونِ ملک کیوں رکھے ہوئے ہیں۔اس پر وزیرِ اعظم کیا فرمائیں گے ؟

وزیرِاعظم کے سمدھی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کی پوری کوشش ہے کہ ہر پاکستانی ایمانداری سے ٹیکس دے اور جو تاجر و صنعت کار ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں یا ٹیکس چوری کررہے ہیں انہیں ایسا نہ کرنے دیا جائے اور 20 کروڑ آبادی میں سے دس لاکھ ٹیکس دھندگان کی تعداد کو موجودہ حکومت کی مدتِ اقتدار کے دوران کم ازکم 30 لاکھ تک پہنچا دیا جائے۔ لا فرم موساک فونسیکا سے افشا ہونے والی دستاویزات کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ ہے۔ مگر جب خود پاکستان کے طاقتور خاندان اور افراد ہی ٹیکس چھوٹ کی تلاش میں سمندر پار سرمایہ رکھ رہے ہوں تو کس منہ سے پاکستان میں ٹیکس کلچر کے فروغ کی بات کر سکتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ کہ وفاقی ٹیکس ریفارم کمیشن کے ایک رکن سینیٹر عثمان سیف اللہ بھی اپنی فیملی کی آف شور کمپنیوں میں حصہ دار ہیں۔

ابھی توسمندر پار اثاثوں کی دیکھ بھال کرنے والی صرف ایک کمپنی کے ریکارڈ پر نقب لگی ہے۔ سوچئے دوہری شہریت اور دوبئی، برطانیہ، جنوبی فرانس، سپین، کینیڈا، امریکہ، کیریبئن، ملائشیا اور آسٹریلیا سمیت متعدد ممالک میں متبادل محلات و کاروبار کے مالک سیاسی، فوجی، عدالتی، نوکر شاہ، میڈیائی خاندان، ان کی اولادوں اور کارندوں کی فہرست کا گھڑا بھی کسی دن بیچ بازار پھوٹ گیا تو کون کون چھینٹوں سے بچ پائے گا؟

نہ ہم سمجھے نہ آپ آئے کہیں سے
پسینہ پونچھئے اپنی جبیں سے

وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

No comments:

Powered by Blogger.