Header Ads

Breaking News
recent

آٹھ سالہ حافظِ قرآن کی شامی مہاجرین کے لیے امداد

برطانیہ سے تعلق رکھنے والی آٹھ سالہ ماریہ اسلم نے مکمل قرآن حفظ کیا اور شامی مہاجرین بچوں کے لیے ہزاروں پاؤنڈ امداد بھی جمع کی۔ ماریہ نے پانچ سال کی عمر میں قرآن حفظ کرنا شروع کیا تھا اور اُنھوں نے دو سال کے عرصے میں یہ کام مکمل کیا۔ اسی دوران اُنھوں نے شامی بچوں کے لیے ہزاروں پاؤنڈ امداد بھی جمع کی۔

بی بی سی کی نامہ نگار شبنم محمود نے ماریہ اسلم سے ملاقات کی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ماریہ کے تقریباً پانچ ہزار چاہنے والے موجود ہیں اور وہ لندن کے قریب واقع لوٹن میں کسی حد تک مشہور شخصیت بن چکی ہیں۔ ہم میں سے چند ایک ہی پانچ سال کی عمر میں مکمل کتاب پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن ماریہ نے اِسی عمر میں قرآن کے 30 ابواب کو نہ صرف پڑھنا شروع کیا بلکہ اُس کو ذہن نشین بھی کیا۔

’بحثیت مسلمان ہمیں قرآن پڑھنا سیکھنا چاہیے۔ اور جب میں نے اِسے پڑھا تو مجھے یہ بہت آسان لگا اور میں نے اِس کو یاد کرلیا۔ اور اِس کے بعد میں آگے پڑھتی گئی اور اِس کو مکمل یاد کرلیا۔‘ اُن کی والدہ شبنم کا کہنا ہے کہ اِس سب کا آغاز اُس وقت ہوا، جب اُن کی بیٹی شامی پناہ گزینوں کے لیے رقم جمع کرنا چاہتی تھی۔

شبنم کہتی ہیں ’میں نے یہ ماریہ پر چھوڑ دیا کہ اُنھیں قرآن کے ابواب ذہن نشین کرنا پسند ہیں۔ میں نے اِس میں مالی تعاون کیا اور تمام رقم اِس مقصد کو دینے کا عہد کیا۔ ماریہ نے بذات خود تین ہزار پانچ سو پاؤنڈ جمع کیے جو کہ پانچ سالہ بچی کے لیے کافی تعجب کی بات ہے۔ اِس وقت مجھے احساس ہوا کہ ماریہ میں ذہن نشین کرنے کی حقیقی صلاحیت موجود ہے۔‘ اُنھوں نے دیگر بچوں کو مثاثر کرنے کے لیے فیس بک پر ایک صفحہ بھی تشکیل دیا ہے۔ ماریہ کے صفحے پر تقریباً پانچ ہزار چاہنے والے موجود ہیں اور درجنوں لوگ اُن سے رابطہ کر رہے ہیں۔

No comments:

Powered by Blogger.