Header Ads

Breaking News
recent

بوڑھے والدین کا خیال نہ رکھنے والے بچوں کو سزا

اطلاعات کے مطابق چین کے شہر شنگھائی کے وہ رہائشی جو اپنے بوڑھے
والدین کو ملنے نہیں جاتے انھیں کریڈٹ کے حوالے سے بلیک لِسٹ کیا جا سکتا ہے۔ چین کے ریاستی اخبار چائنا ڈیلی کے مطابق مئی سے نافذ ہونے والے بوڑھے افراد کے حقوق اور تحفظ کے لیے بنائے جانے والے قوانین کے تحت شنگھائی کے وہ رہائشی جو اپنے والدین سے الگ رہتے ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کو ملنے جایا کریں اور دیکھیں کہ ان کی درست طریقے سے دیکھ بھال ہو رہی ہے کہ نہیں۔

لا آفس کے ڈپٹی ڈائریکٹر لؤ پیکسن کہتے ہیں کہ وہ والدین جو سمجھتے ہیں کہ ان کے بچے ان کی اتنی عزت اور احترام نہیں کرتے جتنا کہ کیا جانا چاہیے وہ یہ معاملہ عدالت میں لے جا سکتے ہیں۔ ان کو دی جانے والی سزاؤں میں شامل ہے بچوں کے کریڈٹ ریکارڈ پر دھبہ جس سے ان کے لیے بینک اکاؤنٹ کھولنا مشکل ہو جائے گا، یا پھر لائبریری کارڈ کے لیے رجسٹرڈ ہونا بھی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شنگھائی کی 30 فیصد آبادی کی عمر 60 سال سے زیادہ ہے، جو کہ قومی اوسط کا دوگنا ہے۔ 1970 کی دہائی میں نافذ کی جانے والی چین کی ایک بچے کی پالیسی کی وجہ سے پہلے کی نسبت آج کل کے والدین کے بہت کم رشتہ دار ہیں جو ان کی دیکھ بھال کر سکتے ہیں۔ ایک رہائشی نے چائنا ڈیلی نے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ادھیڑ عمر کو پہنچنے والے زیادہ تر والدین کا ایک بچہ ہے، اس لیے یہ بچے کے لیے اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ متواتر اپنے والدین کی حالت سے آگاہ رہے۔‘

اس قانون کو چین کے سوشل میڈیا پر اتنی پذیرائی نہیں ملی ہے۔ سوشل میڈیا سائٹ وائیبو پر ایک یوزر نے لکھا: ’میرا والد مہربان شخص نہیں تو میں کیوں اس کی عزت اور احترام کروں؟‘ جبکہ ایک اور شخص نے لکھا کہ ’میں اس کی حمایت نہیں کرتا، ہر بچے اور والدین کا رشتہ اتنا قریبی نہیں ہوتا۔‘ کچھ لوگ اس پر پرجوش بھی ہیں۔ ایک نے لکھا کہ مصروف لوگوں کو اپنے والدین کے لیے وقت نکالنا چاہیے۔ ایک اور نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ قانون بنانے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی۔ ’کیا گھر جا کر والدین کو دیکھنے کے لیے قانون کی ضرورت ہے؟‘

No comments:

Powered by Blogger.