Header Ads

Breaking News
recent

جان کیری ہیروشیما اور کابل میں

امریکی وزیرخارجہ جان کیری اگلے روز جاپان میں تھے۔ وہاں انہوں نے ہیروشیما
میں 6 اگست 1945ء کے امریکی جوہری حملے میں ہلاک ہونے والے ایک لاکھ چالیس ہزار (140000) افراد کی یاد میں پھولوں کا ایک بڑا سا ٹائر نما ہار اس یادگار پر چڑھایا جو وہاں نشانِ عبرت کے طور پر تعمیرکی گئی ہے۔ ان کے ہمراہ سات دوسرے عمائدین (G-7 گروپ کے وزرائے خارجہ) بھی تھے جن میں جاپان کے وزیرخارجہ بھی شامل تھے۔

میں امریکی وزرائے خارجہ کو، وہ مرد ہوں یا عورت، جنات کی اولاد سمجھتا ہوں۔ یہ انتھک مخلوق ہمیشہ پابہ رکاب رہتی ہے۔ جن جہازوں میں یہ لوگ سفر کرتے ہیں، ان میں اگرچہ سونے جاگنے کی تمام انسانی ضروریات پوری کرنے کے انتظامات موجود ہوتے ہیں لیکن پھر بھی بقول غالب انسان کا دل ایک نہ ایک دن تو گردشِ مدام سے گھبرا ہی جاتا ہے، انسان آخر انسان ہوتا ہے، پیالہ و ساغر تو نہیں ہوتا۔ علاوہ ازیں جان کیری صاحب کا قد، امیتابھ بچن سے بھی نکلتا معلوم ہوتا ہے۔ سنا ہے ان کو بھی بھارتی جمہوریہ کا اگلا صدر بنانے کے ’’انتظامات‘‘ کئے جا رہے ہیں۔۔۔ خبر نہیں عربی زبان کا وہ مقولہ کہ حضرت عمرؓ سے زیادہ طویل القامت شخص احمق ہوتا ہے، کیری اور امیتابھ پر بھی صادق کیوں نہیں آتا؟۔۔۔ شائد یہ دونوں ہم عصر مستثنیات ہی ہوں!
ہیروشیما میں جوہری حملے میں ہلاک ہونے والوں کی یاد تو ہر سال منائی جاتی ہے اور جاپان اور امریکہ چونکہ گزشتہ سات عشروں سے ایک دوسرے کے دشمنِ جاں نہیں بلکہ یارِ غار بنے ہوئے ہیں تو خیال تھا کہ اس بار شائد امریکہ کا یہ نمبر دو اہم ترین عہدیدار، امریکی جوہری حملے پر کسی ندامت کا اظہار کرے گا یا شائد معافی مانگ لے گا۔ کیری نے وہ میوزیم بھی دیکھا جس میں اگست 1945ء کے ان سانحات کی یادگار تصاویر اور وحشت و بربریت کے منہ بولتے ہوئے وہ مناظر بھی رکھے ہوئے ہیں جن کو دیکھ کر سنگدل سے سنگدل انسان بھی جذبات سے مغلوب ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ لیکن معلوم ہوتا ہے جان کیری کو امریکہ کا وزیر خارجہ اور انسان ہونے کے مابین ایک عجیب و غریب اور بے نام سی معذوری سے گزرنا پڑا ہے۔ بطور انسان وہ جذبات سے مغلوب و متاثر ضرور تھے لیکن بطور وزیرخارجہ امریکہ، وہ معذرت یا پچھتاوے کا ایک لفظ بھی زبان سے نہ کہہ سکے۔۔۔انہوں نے نگاہوں کے سامنے پھیلے ہوئے لینڈ سکیپ کے بربادشدہ انسانی اور عماراتی ڈھانچوں کو دیکھا اور صرف (Gut Wrenching) یعنی ’’اعصاب شکن‘‘ کہہ کر خاموش ہو گئے۔

دوسری طرف دیکھیں تو جاپان بھی اتنا معصوم، پاکباز اور بے گناہ نہیں ہے!
ہیروشیما پر ایٹمی حملے سے پونے چار سال پہلے 7دسمبر 1941ء کو جاپانی بحریہ نے جزائر ہوائی میں واقع امریکی بحری مستقر (Base) پر ناگہانی حملہ کر دیا تھا جس میں امریکہ کے20 بحری جنگی جہاز غرقاب ہو گئے تھے یا ان کو شدید نقصان پہنچا تھا اور وہ ناکارہ بنا دیئے گئے تھے۔ اسی طرح 188ہوائی جہاز تباہ کر دیئے گئے تھے اور 159 کو ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔ 2500افسر اور ملاح مارے گئے تھے اور 1200زخمی ہو گئے تھے۔ علاوہ ازیں 70سویلین بھی مارے گئے تھے اور 35 شدید طور پر مجروح ہو گئے تھے۔ اہم ترین حقیقت یہ بھی ہے کہ اس جنگ عظیم دوم میں جاپان نے امریکہ پر حملہ کرنے میں پہل کی تھی۔ اور کسی بھی لڑائی جھگڑے میں پہلے وار کرنے والے کا دفاع کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ پرل ہاربر پر اسی حملے نے امریکہ کو باقاعدہ جنگ میں شامل ہونے پر مجبور کیا تھا۔ اس کے بعد امریکہ نے جو کچھ جاپان کے ساتھ کیا، وہ گویا جوابی وار تھا۔

امریکہ کا موقف یہ رہا ہے کہ پہلے جاپان اس بات پر معافی مانگے کہ اس نے امریکہ پر حملہ کرنے میں پہل کی تھی اور اس کے بعد امریکہ کو کہے کہ وہ جوہری حملے پر معافی مانگے۔ اگر ایسا ہو جائے تو دونوں برابر ہو جائیں گے ۔ پھر کون جارح ہو گا اور کون مجروح ،یہ فیصلہ کرنا بے کار اور بے معنی ہو جائے گا کہ کہتے ہیں: ’’لین دین پر خاک، محبت پاک ، بڑے فرما گئے ہیں‘‘۔
 ہم چنگیز اور ہلاکو کو دنیا کے جابر اور ظالم ترین حکمران اور حملہ آور گردانتے ہیں۔  

جان کیری جاپان جانے سے ایک روز قبل افغانستان میں بھی گئے اور وہاں کابل میں افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے مذاکرات کئے۔۔۔ افغانستان کی سیاسی صورتِ حال گزشتہ ڈیڑھ دو سال سے ڈانواں ڈول ہے۔ بد امنی کا دور دورہ ہے، آئے روز خودکش حملے ہوتے ہیں،کرپشن انتہاؤں کو پہنچی ہوئی ہے، اشرف۔ عبداللہ رقابت کھلی دشمنی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ کابینہ کے وزراء کا انتخاب ایک بڑا دردِ سر ہے اور طالبان کی شورش (انسرجنسی) نے نہ صرف کابل بلکہ قندھار، ہلمند، ہرات اور ملک کے دوسرے صوبوں کو گرفتارِ عذاب کر رکھا ہے۔ جان کیری جب اس کانفرنس میں حکومت کے ان دونوں فریقوں کو اتحاد و اتفاق کا وعظ کر رہے تھے اور تلقین فرما رہے تھے کہ وہ نسلی اور فرقہ وارانہ تنازعات کو بھلا کر ملک کی مجموعی سلامتی اور عوام کی فلاح و بہبود کی طرف توجہ دیں تو جس جگہ اشرف غنی ا ور جان کیری کی یہ مشترکہ اخباری کانفرنس ہو رہی تھی اس کے نزدیک ہی طالبان بھی ’’مصروفِ کار‘‘ تھے۔ یعنی حکومت اپنا کام کر رہی تھی اور طالبان اپنا کام کر رہے تھے۔۔۔جونہی جان کیری، کانفرنس سے رخصت ہوئے، وہاں سے صرف 600 گز دور کئے گئے خود کش دھماکوں سے سارا کابل لرز اٹھا۔

افغان حکومت اگر چل رہی ہے تو مغربی ممالک کی مالی ،مادی اور اسلحی امداد کے سہارے چل رہی ہے۔ لیکن جوں جوں وقت گزر رہا ہے یہ ممالک افغانستان میں امن و امان کی بحالی سے نا امید ہوتے جاتے ہیں اور بہت جلد وہ گھڑی آنے والی ہے جب امداد کی پائپ بند ہو جائے گی۔۔۔ جان کیری، کابل سے پہلے بغداد میں تھے۔ وہاں بھی طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے۔۔۔ در اصل گزشتہ ڈیڑھ عشرہ میں امریکہ اور اس کی کولیشن نے افغانستان، عراق، لیبیا اور شام میں جو کرتوتیں کی ہیں ان کے اثرات بھی ایک جیسے ہیں۔ کیری نے اپنی حالیہ کابل کانفرنس میں اس کا اعتراف کیا کہ عراق اور افغانستان کے حالات میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ عراق میں اگر شعیہ سنی تنازعہ ایک پھانس بن کر حکومت کے گلے میں اٹکا ہوا ہے تو افغانستان میں پشتون اور تاجک تنازعہ وہی رول ادا کر رہا ہے۔ دو روز پہلے اوباما نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ اعتراف کر کے سامعین کو حیران کر دیا کہ ان کے سات آٹھ سالہ دورِ صدارت میں، لیبیا پر حملہ ان کی سب سے بڑی غلطی اور ناکامی تھی!۔۔۔ اپنی دوسری صدارتی ٹرم کے آخری مہینوں میں صدر کا یہ اعتراف ’’زود پشیمانی‘‘ کی بد ترین مثال کہی جا سکتی ہے۔

جنرل جان نکلسن (John Nicholson) آج کل افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر ہیں۔ جان کیری نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب افغانستان کی ضروریات اور یہاں کے مسائل کے بارے میں صدر اوباما کو آگاہ کریں گے اور ان کی سفارشات پر ہی آئندہ عمل کیا جائے گا۔ جان کیری نے ایک نیوز یہ بھی بریک کی: ’’افغانستان اور عراق پر حملہ گزشتہ صدر، جارج بش کے دور میں کیا گیا تھا ۔ تب امید لگائی گئی تھی کہ ان دونوں ممالک میں مستحکم جمہوریتیں پروان چڑھیں گی۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ امریکہ نے اب تک دو ٹریلین ڈالر (دو ہزار ارب ڈالر) ان جنگوں میں جھونک دیئے ہیں اور کئی ہزار امریکی ٹروپس دونوں جنگوں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں لیکن جس استحکام کی امیدیں کی گئی تھیں وہ آج بھی ناپید ہے۔‘‘

دووں ملکوں میں کئی ایسے علاقے آج بھی ہیں جہاں حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں۔ افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ 15 ویں سال میں داخل ہو چکی ہے۔ عراق ابھی تک موصل پر حملہ کرنے کی تیاریوں میں لگا ہوا ہے جو بغداد کے بعد عراق کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ فرقہ وارانہ اور ذاتی جھگڑے ختم نہیں کئے جا سکے اور گورننس کا خلا آج بھی موجود ہے۔ عراق میں ابھی تک 3780 امریکی ٹروپس موجود ہیں۔ ابھی تک یہ بات صاف نہیں کہ آیا طالبان مذاکرات کی طرف آگے بڑھیں گے یا نہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنوبی افغانستان میں کامیابیاں حاصل کئے جا رہے ہیں اور لڑائی کا موسم ابھی شروع ہی ہوا ہے۔ اشرف۔ عبداللہ شراکتِ اقتدار کی حدیں، ابھی تک پوری طرح طے نہیں ہو سکیں۔ معلوم یہ ہو رہا ہے کہ کرپشن اور نا اہلی (Incompetence) کی وجہ سے یہ شراکت زیادہ دیر تک نہیں چلے گی۔

افغانستان کو آج ایسی ہی کئی ابتلاؤں کا سامنا ہے۔۔۔ پاکستان نے ’’را‘‘ کے ایجنٹ کلبھوشن جادیو کو گرفتار کر کے بہت سے راز افشا کر دیئے ہیں جن سے عبداللہ عبداللہ کی بھارت دوستی کا پردہ مزید چاک ہو گیا ہے۔ اشرف غنی کو پشتونوں کی ایک کثیر تعداد کی حمایت حاصل ہے تو عبداللہ عبداللہ کو تاجکوں کی ۔ یہ سارے چیلنج افغانستان کی صورتِ حال کو مزید گھمبیر بنا رہے ہیں۔ افغان حکومت کو بتا دیا گیا ہے کہ امریکہ اپنے موجودہ ٹروپس (9800) کی تعداد میں کمی کر کے اگلے سال اسے 5500 تک لانا چاہتا ہے ۔۔۔ اگلے برس شائد جان کیری موجود نہ ہوں اور اوباما تو یقیناً نہیں ہوں گے۔ جو نیا امریکی صدر آئے گا اس کی ترجیحات اور اس کے فیصلے مختلف بھی ہو سکتے ہیں۔ یعنی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستان کے اس اس ہمسائے میں مستقبل قریب میں کوئی ایسی فضا بن جانے کا امکان ہے جو پاکستان کے لئے ساز گار ہو!
لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان

No comments:

Powered by Blogger.