Header Ads

Breaking News
recent

گوادر کی آنکھوں میں پانی کہاں

گوادر پاکستان کے اقتصادی مستقبل کی کنجی ہے۔ یہیں سے دودھ اور شہد کی وہ بل کھاتی نہر شروع ہوگی جو تین ہزار کلومیٹر سے زائد کا سفر طے کر کے چین میں غائب ہونے سے پہلے پاکستان کے مختلف علاقوںسے گذرتے ہوئے پسماندگی کے آنسو بھی پونچھ لے جائے گی۔ (ایسا کہا جاتا ہے)۔

اسی لیے گوادر ہم سب کو عزیز ہے۔ اتنا عزیز کہ حفاظت کے لیے اسے ایک گیریژن ٹاؤن میں بدل دیا گیا ہے۔ (جب ہاری کی بیٹی کا نکاح وڈیرے سے ہوجائے تو ہاری کی کٹیا کی حفاظت تو کرنا ہی پڑتی ہے)۔

گوادر جادوئی شہر ہے۔ پرویز مشرف دور کی کوسٹل ہائی وے نے بائیس گھنٹے کا سفر آٹھ گھنٹے کا کر دیا۔ چنانچہ گوادر تا کراچی آتے جاتے پہلے کی طرح بال سفید نہیں ہوتے۔ گوادر ابھرتے مستقبل کا شہر ہے۔ یہاں ڈگری کالج کی عمارت ہے مگر اس کے اندر بارہ سے کم اساتذہ اور ساٹھ سے کم طلبا تعلیمیاتے پائے جاتے ہیں۔ ایک جدید اسپتال کی عمارت نئے گوادر میں چار برس سے مریضوں کی راہ تک رہی ہے، مریض ڈاکٹر کی راہ تک رہا ہے، ڈاکٹر خلاؤں کو تک رہا ہے۔

یہاں کوہِ بتیل پر ایک پنج ستارہ ہوٹل یوں لگتا ہے کسی کرین نے اٹھا کے دھر دیا ہو۔آپ ہوٹل کے لان میں کھڑے کھڑے چینی نژاد گوادر پورٹ، سبز پانی اور کچے پکے شہر کو قدموں میں رکھا دیکھ سکتے ہیں۔ خدا بخش کا مشہور گوادری حلوہ لینے کے لیے آپ کو کوہِ بتیل سے اترنے کی بھی ضرورت نہیں، وہ خود چل کر آپ تک پہنچ جائے گا۔ البتہ پہاڑی پر جانے کے لیے پہلی چیک پوسٹ پر شناختی کارڈ ضرور جمع کرانا پڑتا ہے۔
گوادر چونکہ اسٹرٹیجک نکاح کے بعد کسی کی اقتصادی غیرت ہوگیا ہے لہذا فالتو کے مہمانوں کو تاک جھانک کی اجازت نہیں اور غیر ملکیوں کو تو بالکل بھی نہیں(اگر وہ چینی نہیں) اور میڈیا کو تو قطعاً نہیں اور غیر ملکی میڈیا کا تو خیر سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔

ہمیں گوادر چاہیے اور ایک لاکھ گوادریوں کو پانی چاہیے۔ کیا آپ نے کبھی ایسے شہر کا تذکرہ سنا جس کے تین طرف سمندر، اطراف میں کھارے پانی کو میٹھا بنانے کے دو پلانٹ، پچاسی کلو میٹر پر ایک اور دو سو کلومیٹر پریدوسرا ڈیم ہو پھر بھی شہر پینے کے پانی کو ترسے اور میٹھا پانی بحریہ کے جہاز کراچی سے بھر بھر کے لائیں اور گوادری کہیں کہ اکنامک کاریڈور بے شک لے لو مگر پینے کا پانی دے دو۔

لگتا ہے نا یہ سب جھوٹ ؟ بدقسمتی سے یہ ایک سچا جھوٹ ہے۔
یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ بلوچستان آج سے نہیں سدا سے خشک سالی کا شکار ہے۔ یہاں کوئی قابلِ ذکر دریا نہیں۔ جو بھی ہے بارانی ہے۔ کبھی جنم کرم میں بارش ہوجائے تو پہاڑی نالے زمین کاٹ کے رکھ دیتے ہیں اور اس سے پہلے کہ لوگ بارانی و سیلابی پانی جمع کرنے کے لیے دوڑیں پانی غائب ہو جاتا ہے۔ خطہِ مکران میں کہنے کو چھ قابلِ ذکر پہاڑی نالے ہیں مگر بارش ہوجائے تو ان کا پانی بھی سمندر فوراً ضبط کرلیتا ہے۔

جب گوادر انیس سو اٹھاون تک سلطنتِ اومان کا حصہ تھا تو کم آبادی کا بھی کھارے پانی کے دو چار کنوؤں سے گذارہ ہوجاتا۔ انیس سو بہتر میں نیپ کی دس ماہی حکومت آئی تو اس نے گوادر تا دریائے دشت ایک پائپ لائن بچھا دی۔مگر دریا ہی خشک ہو تو پائپ لائن کیا کرے۔

مجھے تو لگتا ہے ہو نہ ہو اقبال نے مکران کا چکر ضرور لگایا ہوگا ورنہ یہ شعر کیسے ممکن تھا 

دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحرِ ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے

ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں گوادر سے پچاسی کلو میٹر دور آنکڑہ کور ڈیم بننا شروع ہوا تو انیس سو ترانوے میں اس کا افتتاح بے نظیر بھٹو نے کیا۔پھر جیسا کہ رواج ہے، ڈیم میں کچھ اسٹرکچرل خامیاں ابھر آئیں تو انکشاف ہوا کہ ناقص میٹریل استعمال ہوا ہے۔ ٹھیکے دار نے قرضہ دینے والے ایشین ڈویلپمنٹ بینک کو یہ کہہ کر ڈیم فول بنایا کہ آنکڑہ ڈیم اگلے پچاس برس تک گوادر شہر کو لگ بھگ تین ملین گیلن روزانہ پانی سپلائی کرے گا۔ مگر نیس پاک کے جلد باز ٹھیکیدار شائد بارش کے فرشتے کو اعتماد میں لینا بھول گئے۔

نتیجہ یہ ہے کہ دو ہزار دس کے بعد سے سترہ ہزار ایکڑ جھیل والا یہ ڈیم کسی فاقہ کش آنکھ کی طرح خشک ہے۔ کبھی کبھی آسمان اپنی جیب سے چند آبی سکے اچھال دے تو الگ بات۔ اب تو جھیل بھی شرارتی برساتی نالوں کے لائے گارے سے بھر چکی اور جس ڈیم کو پچاس برس زندہ رہنا تھا اس کا سترہ برس میں ہی کلیان ہوگیا۔

اگر ہم گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) کے نقشوں اور پریزنٹیشن پر یقین کرلیں تو حالات اتنے برے نہیں جتنے میں بیان کر رہا ہوں۔ وہ آپ کو بتائیں گے کہ بیالیس ہزار ایکڑ فٹ پانی کی گنجائش والا سوار ڈیم اور اکیاون ہزار ایکڑ فٹ پانی کی گنجائش والا شادی کور ڈیم دو ہزار سات سے زیرِ تعمیر ہے۔ یہ دونوں ڈیم دو ہزار چودہ میں ہی مکمل ہوجاتے اگر یہاں کام کرنے والے مزدور قتل نہ ہوتے۔اب انشااللہ یہ ڈیم دو ہزار اٹھارہ تک مکمل ہوجائیں گے (کیونکہ دو ہزار اٹھارہ الیکشن کا سال بھی ہے)۔

جی ڈی اے والے آپ کو یہ بھی بتائیں گے کہ ان کی گولڈن پام ڈی سیلینشن پلانٹ والوں سے پانی خریدنے کی بات چل رہی ہے۔ بس فی گیلن ریٹ طے ہوجائے اس کے بعد گوادر کو چار لاکھ گیلن پانی روزانہ ملنے لگے گا۔گوادر کے نزدیک کرواٹ میں لگا پلانٹ چالو رہتا رہے تو بیس لاکھ گیلن پانی وہاں سے آنا کوئی مسئلہ نہیں۔ اور ہمارا اپنا جی ڈی اے کا چھوٹا سا پلانٹ ایک لاکھ گیلن پانی روزانہ صاف کرسکتا ہے (اگر چلے تو)۔ اب بجلی بھی تو نہیں ہے۔آٹھ سے بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ بھی تو ہے۔

اور اگر کوئی ہمیں دو سو کلومیٹر پرے واقع میرانی ڈیم سے گوادر تک صرف چار ارب روپے کی پائپ لائن بچھا دے تو وہاں سے روزانہ پچاس لاکھ گیلن پانی آ سکتا ہے۔ جب کہ گوادر اور آس پاس کے ساحلی علاقوں کی اس وقت کی روزانہ ضروریات چھیالیس لاکھ گیلن ہیں۔ اور اب تو پاک چائنا اکنامک کاریڈور کے نگراں احسن اقبال نے بھی وعدہ کرلیا ہے کہ دو ہزار بیس تک گوادر کو چونکہ کم ازکم بارہ ملین گیلن پانی درکار ہوگا اس لیے حکومت اس سے پہلے پہلے ہی گوادر کو ایک میگا ڈی سلینشین پلانٹ کے ذریعے جل تھل کر دے گی اور یہ کہ۔ ارے بھائی صاحب کہاں چلے۔ ابھی تو میری تقریر آدھی بھی نہیں ہوئی۔ پوری بات تو سنتے جائیں۔کمال ہے ! میں گوادر کی ترقی کی بریفنگ دے رہا ہوں اور یہ بھائی صاحب بیچ میں سے ہی اٹھ کر چل پڑے۔

وہی واٹر ٹینکر جو کراچی میں ساڑہے تین ہزار روپے کا پڑتا ہے، گوادر میں پندرہ ہزار روپے میں باآسانی دستیاب ہے۔ جو افورڈ نہیں کرسکتے وہ سرکاری واٹر ٹینکر یا پاک بحریہ کے جہاز کا انتظار کرتے ہیں۔ جو بہت جلدی میں ہیں وہ برتن لے کر پانی کی تلاش میں میلوں نکل پڑتے ہیں اور جنھیں بالکل صبر نہیں وہ سمندر سے پانی کا دیگچہ بھر کے ابال لیتے ہیں۔ اس آبی پس منظر میں جب چیک پوسٹ پر کھڑا جوان منرل واٹر چسکتے ہوئے کاغذات چیک کرتا ہے تو خشک لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے بس مزہ ہی تو آجاتا ہے۔

پاکستان میں ہر جگہ آبادی بڑھ رہی ہے مگر گوادر کی آبادی کم ہو رہی ہے۔ اس شہر سے واٹر مائیگریشن ہو رہی ہے۔ تربت، کوئٹہ، کراچی، اومان جس کے جہاں سینگ سمائیں۔ یہ شہر باقی پاکستان کو سونے کی چڑیا بنا دے گا مگر مقامی بلدیہ کے پاس گلیوں سے کوڑا اٹھوانے کی مالی سکت بھی نہیں۔جب ایک دن سب گوادری چلے جائیں گے تب یہ شہر بس جائے گا۔

نہ تیرگی سے نہ کسی روشنی سے پیدا ہوا
جو بس میں ہے وہ میری بے بسی سے پیدا ہوا
(احمد نوید)

وسعت اللہ خان

No comments:

Powered by Blogger.