Header Ads

Breaking News
recent

مشرف کی نئی بغاوت

بلآخر جو سوچا جارہا تھا وہی ہوا۔ یعنی جو بات تاریخی غداری کیس سے چلی تھی، چاہے اُس سے سول ملٹری تعلقات میں عدم توازن پیدا ہوا یا اُس نے ملک میں جمہوریت کی بنیادوں کو ہلا دیا، وہ بلآخر ختم ہوگئی۔

ہمارے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے گزشتہ روز میڈیا کو بتایا کہ اُن کی حکومت نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو (چند ہفتوں بعد دوبارہ پاکستان واپس آنے کی یقین دہانی کے بعد) بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ بات کرتے وقت خود ان کے چہرے کے تاثرات سے بھی یہ ظاہر نہیں ہوا کہ ایسا ممکن ہوگا بھی یا نہیں۔

اس کے بجائے وہ اس بات کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ اس معاملے میں ان کی حکومت کے ہاتھ کیوں بندھے ہوئے ہیں۔
اس میں کوئی ابہام نہیں کہ سپریم کورٹ خود ہی یہ واضح کرچکی ہے کہ اگر وفاقی حکومت اور خصوصی عدالت، پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے سے روکنا چاہے تو انہیں اس کا اختیار ہے۔
حکومت نے اس معاملے کو لے کر پہلے گیند سپریم کورٹ کے کورٹ میں ڈالی اور جب سپریم کورٹ نے دوبارہ گیند حکومت کے کورٹ میں ڈالی تو پاکستان مسلم لیگ (ن) نے، معاملے میں مزید الجھنے کے بجائے ہتھیار ڈالنے میں ہی عافیت جانی۔

یہ ممکن ہے کہ پرویز مشرف پاکستان واپس آجائیں، لیکن اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو بھی حکومت پہلے ہی سابق آمر کے سامنے ہتھیار ڈال کر پراسیکیوشن ختم کرنے کا اشارہ دے چکی ہے۔

اب جب پرویز مشرف کی قسمت کا فیصلہ ہوچکا ہے، تو یہاں 2 ایسے سوال اٹھتے ہیں جن کا جواب دیا جانا باقی ہے۔ پہلا سوال یہ کہ وزیر اعظم نواز شریف نے کیا سوچ کر پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کا فیصلہ کیا؟

ابتداء سے ہی حکومت کی اس حوالے سے کوئی حکمت عملی نظر نہیں آئی۔ پرویز مشرف کے خلاف 1999 میں بغاوت کے بجائے نومبر 2007 کی ایمرجنسی کا مقدمہ چلا کر نواز شریف یہ دکھانا چاہتے تھے کہ وہ سابق آمر سے کوئی ذاتی انتقام نہیں لے رہے۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ حکومت کو قانونی رائے دی گئی ہو کہ چونکہ اس اصل فوجی بغاوت کو بعد میں پارلیمنٹ نے بھی مقدس مان لیا تھا، اس لیے اس پر کوئی قانونی کارروائی کرنا زیادہ مشکل ہے۔

اب تک حکومت کے اس فیصلے کے حوالے سے سیاسی تضاد ختم نہیں ہوسکا، اگر پہلی بغاوت پراسیکیوشن کے قابل نہیں تھی تو کچھ عرصے کے لیے ایمرجنسی کا نفاذ کیا معنی رکھتا ہے، خاص طور پر اُس وقت جب اس کے نتیجے میں پرویز مشرف کو حکومت سے باہر ہونا پڑا اور افتخار چوہدری دوبارہ اپنے عہدے پر بحال ہوگئے۔

پاکستان کی فوج کے ماضی کو کئی حوالوں سے انصاف کی ضرورت ہے، لیکن یہ انصاف شفافیت اور بہتر مستقبل کے لیے ہونا چاہیے۔

دوسرا سوال یہ اٹھتا ہے کہ اب سول ملٹری میں عدم توازن کا کیا ہوگا؟ بظاہر یہی لگتا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے اس بات کو تسلیم کرلیا ہے کہ ملک میں جمہورت کے استحکام کے لیے فوج سے تعلق میں توازن رکھنا ضروری ہے۔

یہ اداریہ 18 مارچ 2016 کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

No comments:

Powered by Blogger.