Header Ads

Breaking News
recent

’شام میں جنگ بندی کا نفاذ مشکل عمل ہوگا‘

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے شام میں روس اور امریکہ کے درمیان جزوی جنگ بندی کے معاہدے کو امید افزا قرار دیا ہے۔
تاہم خصوصی ایلچی سٹیفین ڈی مسٹورا نے یہ تسلیم کیا ہے کہ اس معاہدے کا نفاذ مشکل کام ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ وہ ایک ٹاسک فورس قائم کریں گے جو اس ہفتے کے اخیر سے شروع ہونے والی جنگ بندی کے نفاذ کی نگرانی کریں گے۔
خیال رہے کہ امریکہ اور روس نے اعلان کیا ہے کہ شام میں جنگ بندی کا معاہدہ 27 فروری کی شب 12 بجے سے نافذ العمل ہوگا۔

شام نے ان دنوں عالمی قوتوں سے کہا ہے کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ دوسرے بھی اس کی پابندی کریں۔
اس معاہدے میں دولت اسلامیہ، القاعدہ اور اس منسلک نصرہ گروپ شامل نہیں ہیں۔ مسٹر مسٹورا نے کہا کہ اقوام متحدہ انھیں دہشت گرد گروپ کے علاوہ کچھ اور نہیں سمجھتا۔
روس شام کے صدر بشار الاسد کا بڑا حمایتی کہا جاتا ہے اور اس پر یہ الزام عائد کیا گيا ہے کہ اس نے شام کے صدر کے ایسے مخالفین کو نشانہ بنایا ہے جنھیں اقوام متحدہ دہشت گرد نہیں کہتا۔
جنگ بندی کی بات تو ہو رہی ہے لیکن تشدد میں کمی نہیں ہوئی
ادھر شام کی حکومت نے ملک میں 13 اپریل کو پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کا اعلان بھی کر دیا ہے۔

شام میں چار سال کے لیے پارلیمان کا انتخاب کیا جاتا ہے اور ملک میں آخری بار سنہ 2012 میں پارلیمانی انتخابات منعقد ہوئے تھے۔
12 فروری کو عالمی اور مشرقِ وسطی کی علاقائی طاقتوں کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ شام میں جاری لڑائی ایک ہفتے کے اندر روک دی جائے گیلیکن گذشتہ جمعے کو وہ ڈیڈلائن گزر گئی تھی۔

شام میں تشدد کی لہر بھی نہیں رکی ہے اور اتوار کو حمص اور دمشق میں مختلف بم حملوں میں کم از کم 140 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔شام میں مارچ 2011 سے شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک ڈھائی لاکھ سے زیادہ شامی شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ بےگھر ہونے والوں کی تعداد تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ ہے جن میں سے 40 لاکھ کو دوسرے ممالک میں پناہ لینا پڑی ہے۔
ان پناہ گزینوں میں وہ ہزاروں افراد بھی ہیں جنھوں نے جان پر کھیل کر یورپ کا رخ کیا ہے۔
اتوار کو حمص اور دمشق میں مختلف بم حملوں میں کم از کم 140 افراد ہلاک ہوئے
امریکی صدر براک اوباما کے دفتر وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کی جانب سے صدر اوباما سے رابطے کی درخواست پر دونوں رہنماؤں نے ٹیلی فون پر بات کی جس میں شام میں جنگ بندی کے لیے کوششیں کرنے کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔
اس فون کال کے بعد ہی روس اور امریکہ کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق مشترکہ اعلان سامنے آیا ہے۔

No comments:

Powered by Blogger.