Header Ads

Breaking News
recent

روس، شام میں جنگ بندی نہیں چاہتا

شام جل رہا ہے اور بڑی طاقتیں کسی جنیوا (نومبر 2015ء) تو کبھی میونخ (12
فروری 2016ء) پر بانسری بجا رہی ہیں۔ یہ کیا وحشیانہ مذاق ہے کہ امریکی اور روسی وزرائے خارجہ جنگ زدہ شام میں جاری خونریزی کے تدارک کے لیے اس ملک میں ایک ہفتے کے اندر اندر جنگ بندی کا اعلان کرتے ہیں اور بین الاقوامی تنظیم امداد برائے شام فروری کے دوسرے ہفتے سے مدتوں سے محصور اور بھوک سے تڑپ تڑپ کر مرنے والی شہری بستیوں کو خوراک اور ضروریات زندگی فراہم کرے گی جس کے لیے جنیوا میں اقوام متحدہ کی قائم کردہ کارکنوں کی ٹیم کا اجلاس جلد منعقد ہو گا۔ میونخ کی مذکورہ 17 ریاستی کانفرنس کا انعقاد امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور روس کے بیرونی امور کمیشن کے نائب سربراہ ولادیمیردیا بروف کی مشترکہ کوششوں سے ہوا تھا۔

اول تو یہ غیر حقیقت پسندانہ تجویز تھی کہ اس میں حقیقی متحاربین یعنی داعش، القاعدہ اور جبہۃ النصرہ کو شامل نہیں کیا گیا تھا جبکہ مروجہ سفارتکاری تمام متحاربین کو جنگ بندی کے لیے راغب کرتی ہے۔ شام کے زمینی حقائق تو یہ ہیں کہ اس ملک کی بعث حکومت کے خلاف سب سے طاقتور باغی تنظیم داعش ہے جس نے شام اور عراق کے معتدبہ علاقے پر اپنا اقتدار قائم کیا ہوا ہے اور خود کو ریاست کہتی ہے جبکہ اس کے بعد جبہۃ النصرہ سب سے طاقتور ملیشیا ہے جسے مغربی میڈیا القاعدہ سے مہلک کہتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ وہ بشار الاسد جنتا کے خلاف اعتدال پسند باغیوں کے ساتھ مل کر لڑتے ہیں۔
یہ ذرائع اس کا بھی اعتراف کرتے ہیں کہ اعتدال پسند باغی تو دال میں نمک کے برابر ہیں اور خانہ جنگی میں ان کا کوئی مؤثر کردار نہیں ہے۔ ایسی صورت میں جب سب سے طاقتور باغی تنظیم سے جنگ بندی کے لیے رجوع ہی نہیں کیا جاتا تو لڑائی کیسے رک سکتی ہے؟ پھر تو اس کا یہی نتیجہ ہو گا کہ یہ بڑی طاقتیں داعش اور جیبۃ النصرہ کو جنگ بندی پر مجبور کریں اور جنگ بندی تو کجا وہ اور شدت اختیار کر لے گی جس کے نتیجے میں مزید اموات واضح ہوں گی اور برباد شہریوں کا ریلا یورپ کا رخ اختیار کرے گا جبکہ جنگ زدہ علاقوں میں محصورین کی تعداد میں اضافہ ہوگا دوم یہ کہ جب میونخ کانفرنس کے انعقاد کرنے والے امریکی اور روسی حکام کو جنگ بندی کی کامیابی پر شبہات ہیں تو یہ کیسے عمل میں لائی جا سکتی ہے؟

یہ بڑی ستم ظریفی ہے کہ میونخ تجویز کے اعلان کے دوسرے ہی دن (13 فروری 2016ء کو) جان کیری نے روس پر الزام لگایا کہ وہ باغیوں (اعتدال پسند) کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہا ہے جبکہ اسے جنگ بندی کے لیے اپنے اہداف بدلنا ہونگے (بحوالہ ڈان ہفتہ 14 فروری 2016ء) ادھر فرانس کے وزیر خارجہ لوران فابیوس نے شام میں جاری خونریز جنگ کا ذمہ دار روس اور ایران دونوں کو ٹھہراتے ہوئے کہا تھا یہ دونوں ممالک بشار الاسد کی بہیمیت میں شریک اور شامل ہیں۔ جبکہ امریکہ اسے روکنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ اس ضمن میں اس کے قول اور فعل میں تفاوت ہے، لفاظی ہے لیکن عمل ندارد (بحوالہ ڈان 11 فروری 2016ء)۔
جیسا کہ مندرجہ بالا سطور میں بیان کیا گیا ہے امریکہ اور روس دونوں ہی کو جنگ بندی کے بارے میں کوئی خوش فہمی نہیں تھی جبکہ روس کے امور خارجہ کمیشن کے نائب صدر نے بلا لگی لپٹی رکھے دل کی بات کہہ دی: ’’میونخ معاہدہ کے باوجود روس ’’انسداد دہشت گردی‘‘ کی کارروائی جاری رکھے گا‘‘ (AFP بحوالہ ڈان 13 فروری 2016ء) اور سب سے بڑھ کر تو یہ کہ بشار الاسد نے جنگ بندی پر عمل کرنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ میونخ میں موجود طاقتیں کہتی ہیں کہ ایک ہفتے میں جنگ بندی ہو جانی چاہیے۔

 بھلا یہ کیونکر ممکن ہے کہ اس کے لیے تمام قرائن اور حقائق ایک ہفتے کے اندر فراہم کر لیے جائیں (بحوالہ ڈان 17 فروری 2016ء) دراصل روس اور شام سیاسی یا سفارتی تصفیہ نہیں چاہتے اور وہ اس مسئلے کے فوجی حل پر تلے بیٹھے ہیں۔ بشار الاسد کی عسکری طاقت اور عوامی حمایت کا پول تو اسی وقت کھل گیا تھا جب اس کے بعض علاقے پر داعش اور باغیوں کا تسلط قائم ہو گیا تھا جو روس کی اندھا دھند بمباری سے باغیوں کے ہاتھ سے نکلا چاہتا ہے۔ اس وقت حلب جو بشاور الاسد جنتا اور باغیوں کے درمیان عملاً بٹ چکا ہے میں فروری کے آغاز سے ایران کی فوج، حزب اللہ کے جنگجو نے روسی فضائیہ کی اندھا دھند بمباری کی آڑ میں پیشقدمی کر رہے ہیں اور ان کا ہدف الرقہ ہے جو باغیوں کا گڑھ ہے۔

ایسے میں شام میں آباد کرد قومیت کے باغی بھی اُن کا ساتھ دے رہے ہیں۔ لیکن وہ شام کے لیے نہیں بلکہ وہاں کرد ریاست بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں جو ترکی کے متصل کرد علاقوں پر بھی اپنا تسلط قائم کر کے کرد ستان ریاست بنانا چاہتے ہیں جو ترکی کے شمام مشرقی صوبے سے متصل شام، شمالی عراق اور بالائی ایران پر مشتمل ہو گی۔ اس وقت وہ شام میں برپا خانہ جنگی میں روس کی فوجی برتری کا فائدہ اٹھا کر ترکی سے متصل علاقوں پر قبضہ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے پناہ گزینوں کا ریلہ ترکی کی جانب بڑھتا جا رہا ہے لہٰذا ترکی کو اپنی سلامتی کے لیے شمالی شام میں کرد و دہشت گردوں کے اڈوں پر حملہ کرنا پڑ رہا ہے۔ حلب پر اسد جنتا کا اقتدار بحال کرنے کے لیے روس باغیوں کے زیر اثر بستیوں پر اندھا دھند بمباری کر رہا جس پر جرمنی کی چانسلر نے روس سے احتجاج کیا(ڈان 9 فروری 2016ء) لیکن روس پر انسانیت کے نام سے کی گئی کسی اپیل کا اثر ذرا نہیں ہوتا۔

وہ جنگی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر جلد از جلد سارے شام پر بشار الاسد کی اقلیتی حکومت کا اقتدار بحال کرنا چاہتا ہے۔ فروری میں حلب کے محاذ پر روس کی شدید بلا امتیاز بمباری میں پانچ سو شہری ہلاک اور پچاس ہزار جان بچانے کے لیے اپنا گھربار چھوڑ کر فرار ہو چکے ہیں۔ (ہفتہ 13 فروری 2016ء) یوں تو بین الاقوامی ریاست ہمیشہ سے فریب، دورغ گوئی ، جعلسازی، وعدہ خلافی سے عبارت رہی ہے لیکن آج کل بڑی طاقتیں جس ڈھٹائی سے انسانی حقوق اور جنگی قوانین کو پامال کر رہی ہیں ، اس سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تیسری عالمی جنگ جلد ہونے والی ہے۔

 روس کے وزیراعظم میدیدوف نے انتباہ کیا ہے کہ اگر عالمی طاقتیں جنگ نہیں چاہتیں تو جنگ بندی کے لیے امن مذاکرات کریں۔ (جمعرات 11 فروری 2016ء) جبکہ قارئین نے دیکھ لیا کہ خود روس کے مندوب کو جنگ بندی ممکن نہیں معلوم ہوتی کیونکہ اس نے ایران کے ساتھ مل کر جب سے جنگ شروع کی ہے اس میں شدت تو آتی جا رہی ہے لیکن اس کے کم ہونے کا امکان نظر نہیں آتا۔

اگر ایران اور روس اپنی افواج شام اور عراق بھیج سکتے ہیں جبکہ کرد ملیشیا ترک کے متصل قصبے پر قبضہ کر لیتی ہے اور روس کے جنگی طیارے ترک کی فضائی حدود میں دراندازی کر رہے ہیں اگر وہ اپنے سعودی، امارتی اور دیگر عرب حلیفوں کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں تو اس پر کیوں اعتراض کیا جاتا ہے؟ کیا ترکی کو اپنی زمین اور فضائی حدود کی حفاظت کے لیے اپنے عرب حلیفوں سے کمک طلب کرنے کا حق نہیں ہے؟ کیوں؟ یعنی داعش سے لڑنے کے لیے ایران، روس، نیٹو تو شام میں کارروائی کر سکتی ہے لیکن یہ خلیجی ریاستیں نہیں کر سکیں۔ شام کی حکومت کو اپنی مدد کے لیے روس اور ایران سے کمک مانگنے کا حق ہے لیکن باغیوں کو اس جنتا کی فوج کے ہاتھوں اپنی نسل کشی روکنے کے لیے بھی دوست ممالک سے مدد مانگے کا حق نہیں ہے۔ نہ ہی امریکہ ترکی، سعودی عرب، خلیجی ریاستوں کو مظلوم شامیوں کی مدد کرنے کا حق ہے۔

اگر ایسا ہے تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے طالبان کی حکومت کے خلاف شمالی اتحاد کے باغیوں کی کیوں حمایت کی؟ اسی طرح عراق میں صدام حسین کے خلاف عراقی نیشنل کانگرس نے باغیوں کی مدد کے لیے اس ملک پر کیوں حملہ کیا اور حال ہی میں کرنل قذافی کی حکومت کے خلاف باغیوں کی حمایت کیوں کی۔ اور 1999ء میں انڈونیشیا کی حکومت کے خلاف مشرقی تیمور کے باغیوں کی کیوں حمایت کی اور سوڈان کے خلاف جنوبی سوڈان سے علیحدگی پسند باغیوں کی کیوں مدد کی؟ اس سے بھی بڑھ کر روس کی یہ دھونس کہ خود وہ اور ایران تو شام کی عوامی شورش کو کچلنے کے لیے فضائیہ اور زمینی فوج اس ملک میں داخل کر دیں جبکہ ترکی اپنی سرحد کی حفاظت کے لیے فوج نہ استعمال کرے۔

19 فروری کو روس سلامتی کونسل میں ایک نامعقول مسودہ قرار داد میں عالمی تنظیم سے مطالبہ کیا کہ وہ ترکی کو سرحد پار شام کی فوج اور کرد ملیشیا پر گولے باری سے روکے لیکن کونسل نے اس کی قرار داد کو مسترد کردیا۔ (بحوالہ ڈان 21 فروری 2016ء) اس کے معنی یہ ہوئے کہ سلامتی کونسل ترکی کے سرحد پارکرد ملیشیا اور بشار الاسد کی فوج کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے فوجی کارروائی کر سکتی ہے۔

 جہاں تک روس اور ایران کے عزائم کا تعلق ہے تو وہ جنگ بندی سے قبل باغیوں کا قلع قمع کر کے بشار الاسد کے اقتدا رکو مستحکم کر دینا چاہتے ہیں پھر جنگ بندی کی ضرورت ہی باقی نہیں رہے گی لیکن وہ تاریخ سے سبق حاصل نہیں کرنا چاہتے۔ غیر ملکی افواج اپنے پٹھو کے عوام پر زیادہ دنوں مسلط نہیں رہ سکتیں کیونکہ وہ عوام کی مخالفت کے آگے زیادہ دن نہیں ٹھہر سکتا۔

میں اپنے کالموں میں پہلے بھی تحریر کر چکا ہوں اور اب بھی کہتا ہوں کہ اگر بڑی طاقتوں کو جنگ بندی یا حفاظت مقصود ہے تو انہیں جنگجوؤں سے ہی بات کرنا ہوگی خواہ وہ داعش ہو، القاعدہ ہو جبہۃ النصرہ ہو۔ کیا امریکہ کو بالآخر ویتنام سے مذاکرات نہیں کرنا پڑے جسے وہ دہشت گرد اور مجرم قرار دیتے تھے؟ کیا انہیں تنظیم آزادئ فلسطین اور اس کے رہنما یاسر عرفات سے مصالحت نہیں کرنا پڑی جنہیں وہ دہشت گرد سمجھتے تھے؟۔

 بشکریہ روزنامہ 'نئی بات'

پروفیسر شمیم اختر

No comments:

Powered by Blogger.