Header Ads

Breaking News
recent

زِکا وائرس کس طرح پھیلا

ایک سال پہلے برازیل کی شمالی ریاست باہیا میں طبی کارکنوں کو کچھ ایسے مریض ملے جن کے جسم پر سرخ نشانات تھے۔ پہلے یہ خدشہ ہوا کہ یہ کوئی ڈینگی کی نئی قسم ہے، لیکن بعد میں تحقیق کے بعد اس بات کی تصدیق ہوئی کہ یہ افریقہ کا ایک غیر معروف وائرس زِکا ہے۔

ایک سال کے بعد یہ بیماری کئی دیگر میونسپلٹیوں میں بھی پھیل گئی۔
کچھ مہینوں کے بعد یہ پتہ چلا کہ اس وائرس اور بچوں میں مائیکروسیفالیکی کی بیماری کے بڑھنے میں کوئی تعلق ہے۔
پیر کو عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او نے اعلان کیا کہ برِ اعظم امریکہ میں پھیلا ہوا زِکا وائرس اور مائیکروسیفالی میں اضافہ ایک بین الاقوامی ایمرجنسی ہے۔
فروری 2015 میں طبی اہلکاروں نے باہیا میں ایک بیماری کے متعلق بتایا جس سے زخم اور سرح نشان پڑ جاتے تھے۔ اگرچہ پہلا شک یہ تھا کہ یہ ڈینگی کے بخار کی کوئی نئی قسم ہے۔ لیکن مئی میں ریاستی حکومت نے تصدیق کی کہ دراصل یہ زِکا وائرس سے پھیلنے والی ایک وبا ہے۔
جب بچوں کی ایک نیورولوجسٹ پرنامبوکو ونیسا وان ڈر لنڈن نے دیکھا کہ جن بچوں کا وہ علاج کر رہی ہیں ان میں سے اکثر بچے غیر معمولی چھوٹے سروں کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں تو انھوں نے اپنے ساتھی ڈاکٹروں کو اس بارے میں متنبہ کیا۔ ستمبر میں وہ اپنے کیسز کو لے کر وزیرِ صحت کے پاس گئیں اور پھر ایک انکوائری لانچ کر دی گئی۔
ڈاکٹر وان ڈر لنڈن کو جس کیس نے سب سے پہلے اپنی طرف متوجہ کیا وہ ایک جڑواں بھائیوں کا کیس تھا۔ ایک کو مائیکروسیفالی کی بیماری تھی جبکہ دوسرے کا سر بالکل ٹھیک تھا۔ جس جڑواں بچے کو مائیکروسیفالی تھی اسے اس وبا کا ’مریض زیرو‘ کہا گیا۔
44 میونسیپلٹیوں میں مائیکروسیفالی کے 144 کیسز کی تصدیق کے بعد وزارتِ صحت نے طبی ہنگامی حالت کا اعلان کیا۔ شمال مشرقی ریاستوں میں مشتبہ کیسز کی تحقیقات شروع کی گئیں۔
برازیل کی وزارتِ صحت کے کمیونیکیبل ڈزیز سرویئلینس ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کلاڈیو میئروچ کے اس اعلان نے سب کو چونکا دیا کہ: ’ابھی آپ حاملہ نہ ہوں۔ یہ سب سے سنجیدہ مشورہ ہے جو دیا جا سکتا ہے۔‘ اگلے دن وزارت نے بیان جاری کیا کہ حمل سے بچنے کی کوئی تجویز نہیں دی گئی، بلکہ کہا گیا کہ حاملہ خواتین ہر کیس کے متعلق اپنے ڈاکٹروں سے مشورہ کریں۔

اس کے بعد وزارتِ صحت کی رپورٹ میں کہا گیا کہ زِکا وائرس کی وبا شمال مشرقی علاقوں میں مائیکروسیفالی کے کیسز میں اضافے کی وضاحت کے متعلق ’اہم مفروضہ‘ ہے۔
وزارت نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اس بیماری کو وبا کے طور پر لیا جا رہا ہے۔
نومبر 21، 2015 ۔ وبا پھیل گئی اور ڈلما نے ٹاسک فورس کا اعلان کیا
کمیونیکیبل ڈزیز سرویئلینس ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر کلاڈیو میئروچ نے کہا کہ مائیکروسیفالی ملک کے دوسرے حصوں میں پھیل سکتی ہے۔ صدر ڈلما روسیف نے اس کے بعد ایک ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان کیا جو اس وبا کو پھیلنے سے مزید روکنے کے اقدامات کرے۔
نومبر 25، 2015 ۔ پولینیسیا میں زِکا اور مائیکروسیفالی پر تحقیق
پولینیسیا کی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ بچوں میں پیدائشی نقص کے حوالے سے وائرس اور زِکا کے کیسز کے درمیان ممکنہ تعلق پر تحقیق کر رہی ہے۔ سنہ 2013 اور 2014 کے درمیان مقامی آبادی زِکا کی وبا سے کافی متاثر ہوئی ہے۔
نومبر 28، 2015 ۔ حکومت نے زِکا اور مائیکروسیفالی میں تعلق کی تصدیق کر دی
وزارتِ صحت نے شمال مشرق میں مائیکروسیفالی اور زِکا وائرس میں تعلق کی تصدیق کر دی۔ کیارا کے علاقے میں پیدا ہونے والے بچوں کے خون اور فضلے میں زِکا وائرس موجود تھا۔
جنوری 12، 2016 ۔ امریکہ نے زِکا کے پہلے کیس کی تصدیق کی
امریکہ میں زِکا وائرس کا پہلا مریض ریاست ٹیکساس میں رپورٹ کیا گیا۔ انھیں یہ وائرس لاطینی امریکہ میں ایک سفر کے دوران لگا تھا۔ اس سے کچھ دن قبل 31 دسمبر کو پیورٹو ریکو میں بھی اس بیماری کے پہلا کیس سامنے آیا۔امریکہ کے کنٹرول والے جزیرے کے اس علاقے میں حکام کہتے ہیں کہ مریض نے حال ہی میں کوئی سفر نہیں کیا جس سے یہ امکان رد ہو جاتا ہے کہ اسے یہ بیماری کسی اور ملک سے لگی ہے۔
جنوری 28، 2016 ۔ عالمی ادارۂ صحت کا الرٹ
لاطینی امریکہ اور کریبیائی برادری کے اجلاس میں زِکا کی وبا کا پھیلاؤ چھایا رہا۔ یہ سمٹ ایکواڈور کے شہر کیوٹو میں ہوا۔ اسی دن عالمی ادارۂ صحت کی ڈائریکٹر مارگریٹ چین نے کہا کہ وائرس پھیلنے کی رفتار خطرناک ہے اور اس سے اس سال میں ہی 40 لاکھ لوگ متاثر ہو سکتے ہیں۔ جس میں سے صرف برازیل سے ہی 15 لاکھ ہو سکتے ہیں۔
جنوری 29، 2016 ۔ خالی مکانوں میں زبردستی گھسنے کی اجازت
برازیل کی حکومت نے فیصلہ کیا کہ مچھروں کی افزائش کو روکنے کے لیے متروکہ عمارتوں اور ایسی جگہوں پر جہاں کوئی نہیں رہتا ایجنٹس زبردستی گھس سکتے ہیں۔
فروری 1، 2016 ۔ عالمی ایمرجنسی
عالمی ادارۂ صحت نے اعلان کیا زِکا کے پھیلاؤ کی صورتِ حال ’بین الاقوامی سطح کی ایک پبلک ہیلتھ ایمرجنسی‘ ہے۔

No comments:

Powered by Blogger.