Header Ads

Breaking News
recent

اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق دو ہزار چودہ میں اسپین میں ہونے والی ناٹو جنگی تربیتی مشقوں کے بعد امریکی میزائلوں کی گھر واپسی کا سفر شروع ہوا۔ ایک ہیل فائر میزائل پیرس کے چارلس ڈیگال ایرپورٹ سے ریاست فلوریڈا بھیجا جانا تھا مگر ایئر فرانس کے عملے نے اس میزائل کو ہوانا کی فلائٹ پر بک کر دیا اور پھر یہ میزائل کیوبا پہنچ کے غائب ہو گیا۔ امریکا کو خدشہ ہے کہ یہ میزائل چین، روس یا شمالی کوریا کے ہاتھ لگ سکتا ہے۔ یوں اس میزائل کی حساس ٹیکنولوجی ان ممالک کے کام آ سکتی ہے۔

شکر ہے کہ یہ کوئی جوہری میزائل نہیں تھا۔ سرکردہ جرمن تھنک ٹینک برلن انفارمیشن سینٹر فار ٹرانس اٹلانٹک سیکیورٹی کا اندازہ ہے کہ امریکا اور سوویت یونین کے درمیان ہوئی چالیس سالہ سرد جنگ کے دوران پچاس سے زائد جوہری ہتھیار لاپتہ ہوئے۔ پینٹاگون کے مطابق گیارہ امریکی جوہری ہتھیار آج تک غائب ہوئے ہیں۔ ان میں سے سات ریاست ہائے متحدہ امریکا کے اندر لاپتہ ہیں۔
کئی ایسے حادثات بھی ہوئے کہ جوہری ہتھیاروں سے لدے طیارے تباہ ہو گئے۔ 

ایک ایٹمی آبدوز لاپتہ ہو گئی۔ کچھ ہتھیار مل گئے کچھ نہ مل پائے۔ مثلاً تیرہ فروری انیس سو پچاس کو امریکی فضائیہ کا ایک بی چھتیس طیارہ ریاست الاسکا سے ٹیکساس جا رہا تھا کہ اچانک دورانِ پرواز تین انجن بند ہو گئے اور طیارہ زمین کی جانب آنے لگا۔ عملے نے بوجھ ہلکا کرنے کے لیے کارگو سمندر میں پھینکنا شروع کیا۔ اس کارگو میں تیس کلوٹن دھماکا خیز شدت کا ایک ایٹم بم بھی تھا۔ یہ بم سمندر کی تہہ میں ایسا بیٹھا کہ آج تک نہ ملا۔
دس مارچ انیس سو چھپن کو امریکی فضائیہ کا بی سینتالیس طیارہ دو ایٹمی ہتھیاروں کے ساتھ سمندر پار روانہ ہوا۔ بحیرہ روم کے اوپر اس کی ری فیولنگ ہوئی اور کچھ دیر بعد وہ ساڑھے چودہ ہزار فٹ کی بلندی پر گہرے بادلوں میں غائب ہو گیا۔ اس کے کارگو میں مارک پندرہ ساخت کا ایک تھرمو نیوکلئیر (ہائڈروجن بم) بھی تھا جس کی دھماکا خیز شدت تین اعشاریہ چار کلو ٹن تھی۔ 

چوبیس جنوری انیس سو اکسٹھ کو ریاست شمالی کیرولائنا کے ایک ایر بیس سے بی باون بمبار طیارے نے پرواز بھری۔ ٹیک آف کرتے ہی یہ ایک بڑی دلدل پر گر پڑا اور طیارے پر موجود چوبیس میگاٹن طاقت کے دو میں سے ایک ایٹم بم دلدل میں غائب ہو گیا۔ پانچ دسمبر انیس سو پینسٹھ کو ویتنام سے جاپانی جزیرے یوکوسا جانے والے امریکی طیارہ بردار جہاز ٹائکونڈروگا کے عرشے سے ایک سکائی ہاک طیارہ پھسل کر کھلے سمندر میں گڑ پڑا۔ اس پر ایک میگا ٹن طاقت کا تھرمو نیوکلئیر بم لوڈ تھا۔ جہاں یہ واقعہ ہوا وہاں سمندر کی گہرائی سولہ ہزار فٹ تھی۔
کہیں پندرہ برس بعد انیس سو اکیاسی میں امریکی بحریہ نے اس حادثے کا اعتراف کیا۔ یہ ثابت ہو گیا کہ امریکا نے ویتنام میں جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ بھی کر رکھا تھا۔ جاپان میں بھی کھلبلی مچ گئی کیونکہ یہ جاپان اور امریکا کے مابین پچاس کے عشرے میں ہونے والے اس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی تھی جس کے تحت امریکا جاپانی سرزمین پر قائم اپنے فوجی اڈوں پر ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا تھا۔ چنانچہ امریکا  نے ایک بار پھر عہد کیا کہ آیندہ ایسا نہیں ہو گا۔

سترہ جنوری انیس سو چھیاسٹھ کے دن ایک امریکی بی باون طیارہ اٹھائیس ہزار فٹ کی بلندی پر ری فیولنگ کے دوران ایرکرافٹ ٹینکر سے ٹکرا گیا اور دونوں طیارے فضا میں ہی آتشیں لاوے کا گولہ بن گئے۔ بی باون میں چار ہائڈروجن بم لدے تھے۔ ان میں سے ایک جزیرہ پالومرس میں ٹماٹر کے ایک کھیت پر گر گیا۔دو دیگر بموں کے غیر جوہری فیوز زندہ ہو گئے جنہوں نے ان بموں کی کور پھاڑ دی اور پلوٹونیم کے ذرات کی ایک بڑے علاقے پر بارش ہوئی۔ (آج تک اس علاقے میں تابکاری کی شرح دیگر علاقوں سے زیادہ ہے)۔ جب کہ چوتھا ہائیڈروجن بم اکیاسی دن کی سرتوڑ تلاش کے بعد چھبیس سو فٹ نیچے زیرِ آب تلاش کر لیا گیا۔انیس سو اڑسٹھ میں ایک اور بی باون طیارہ گرین لینڈ پر سے گزرتے ہوئے گر کے برف میں گھس گیا۔ ڈھانچہ تو مل گیا مگر ایک ایٹمی ہتھیار آج تک نہ ڈھونڈا جا سکا۔

انیس سو اڑسٹھ کے موسمِ بہار میں یہ انہونا واقعہ بھی ہو گیا کہ ریاست ورجینا کے نارفوک نیول بیس سے روانہ ہونے والی ایٹمی آبدوز یو ایس ایس سکارپئین جزائر ازورس سے دو سو میل پرے غائب ہو گئی۔ اس آبدوز پر ننانوے افراد پر مشتمل عملہ سوار تھا اور ڈھائی سو کلو ٹن طاقت کے دو ایٹمی ہتھیار بھی لدے ہوئے تھے۔ اپریل انیس سو نواسی میں روسی ایٹمی آبدوز کومسومولیز آگ لگنے کے سبب بحیرہ شمالی میں ڈوب گئی۔ 

یہاں سمندر کی گہرائی  تقریباً ساڑھے پانچ ہزار فٹ تھی۔ اس آبدوز پر دو ایٹمی تارپیڈو بھی نصب تھے۔ ڈھانچہ تو ڈھونڈ لیا گیا مگر تارپیڈو کہیں دب دبا گئے۔ مگر اچھی بات یہ بتائی جاتی ہے کہ جو ایٹمی ہتھیار زیرِ آب لاپتہ ہیں ان کے موثر ہونے یا کسی کے ہاتھ لگنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ مگر تابکاری تو بہرحال رستی رہے گی اور اردگرد کی سمندری حیات کے لیے بقائی خطرہ بنی رہے گی۔

ایک سرکردہ امریکی تھنک ٹینک کونسل آف فارن ریلیشنز کا اندازہ ہے کہ انیس سو اکیانوے میں سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد سے اب تک روسی جوہری مواد کی اسمگلنگ یا فروخت کے تین سو سے زائد واقعات ریکارڈ پر آ چکے ہیں۔ گو پکڑے جانے والے جوہری مٹیریل کی مقدار قلیل ہے لیکن اگر کسی دھشت گرد تنظیم کے پاس ایک خام جوہری بم بنانے کی صلاحیت بھی  آ جائے تو سوچئے کیا کیا نہیں ہو سکتا۔

سرد جنگ کے زمانے میں جوہری ہتھیاروں کی گمشدگی یا تباہی کے جو واقعات ہوئے انھیں اس لیے انہونا نہیں سمجھنا چاہیے کہ جب سوویت یونین اور امریکا کے پاس مجموعی طور پر پچاس ہزار کے لگ بھگ جوہری ہتھیار تھے تو ان میں سے چالیس پچاس کا ادھر ادھر ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں تھا۔ لیکن ان میں سے اگر کوئی ہتھیار حادثاتی طور پر چل جاتا تو کیا ہوتا۔

اس تناظر میں جب مغرب بالخصوص امریکا پاکستان، بھارت، ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک میں جوہری ہتھیاروں کی سلامتی کے بارے میں اکثر فکرمندی ظاہر کرتا ہے تو کم از کم میرے چہرے پر یہ سوچ کے مسکراہٹ پھیل جاتی ہے کہ 

اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت۔۔۔۔

وسعت اللہ خان

No comments:

Powered by Blogger.