Header Ads

Breaking News
recent

ومبلڈن سمیت ٹینس کے عالمی مقابلوں میں مبینہ میچ فکسنگ

 لان ٹینس کے کھیل میں ومبلڈن سمیت بڑے عالمی مقابلوں میں اعلیٰ ترین سطح پر مبینہ میچ فکسنگ کے ثبوت موجود ہیں۔

بی بی سی اور بز فیڈ نے ان فائلوں کو دیکھا ہے جن کے مطابق گذشتہ ایک دہائی میں عالمی درجہ بندی میں ابتدائی 50 مقامات پر موجود کھلاڑیوں میں سے 16 کے خلاف یہ شکایات درج کی گئیں کہ ان پر شک ہے کہ وہ جان بوجھ کر میچ ہارے۔

ان کھلاڑیوں میں سے کچھ گرینڈ سلیم مقابلوں کے فاتح بھی رہ چکے ہیں اور آٹھ ایسے ہیں جو پیر سے شروع ہونے والے آسٹریلین اوپن ٹینس ٹورنامنٹ میں بھی شریک ہیں۔

یہ شکایات عالمی ٹینس کے ’انٹیگرٹی یونٹ‘ کے پاس درج کروائی گئیں جس کا کام کھیل میں بدعنوانی پر نظر رکھنا ہے تاہم شکایات کے باوجود ان تمام کھلاڑیوں کو عالمی مقابلوں میں شرکت کرنے کی اجازت دی جاتی رہی۔

بی بی سی اور بزفیڈ نیوز کو فراہم کی جانے والی دستاویزات میں عالمی ٹینس کی تنظیم ایسوسی ایشن آف ٹینس پروفیشنلز کی جانب سے 2007 میں شروع کی گئی تحقیقات کی رپورٹ بھی شامل ہے۔
کمیٹی کا کام تھا کہ وہ نکولے ڈیویڈنکو اور مارٹن واسليو آرگوئیلو کے درمیان کھیلے جانے والے میچ میں سٹے بازی کے معاملے کی تحقیقات کرے۔
اگرچہ ان دونوں کھلاڑیوں کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا تاہم تحقیقات کا دائرہ دنیائے ٹینس کے بڑے کھلاڑیوں کے سٹے بازوں سے روابط تک پھیلا دیا گیا تھا۔
بی بی سی اور بز فيڈ نیوز کو ملنے والی دستاویزات میں روس، شمالی اٹلی اور سسلي میں سٹے باز گروہ کی موجودگی سامنے آئی اور تفتیش کاروں کو ان میچوں کے بارے میں بھی پتہ چلا جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ فکس کیے گئے تھے۔

ٹینس انٹیگریٹی یونٹ اور کھیل سے متعلق حکام کسی بھی ایسے خیال کو رد کرتے ہیں کہ میچ فکسنگ کے ثبوت دبائے گئے یا ان کی مفصل تحقیقات نہیں کی گئیں۔۔۔بی بی سی اور بزفیڈ کی رپورٹس تقریباً دس برس پرانے مقابلوں کے بارے میں ہیں، ہم ہر قسم کی نئی معلومات کی تحقیقات کریں گے اور ہمیشہ کرتے رہے ہیں۔
سنہ 2008 میں دی گئی ایک رپورٹ میں تفتیشی ٹیم نے کہا تھا کہ ان میچوں میں حصہ لینے والے 28 کھلاڑیوں کے خلاف تحقیقات ہونی چاہییں تاہم وہ معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا۔
اے ٹی پی نے 2009 میں انسدادِ بدعنوانی کے نئے ضوابط متعارف کروائے تھے لیکن قانونی مشاورت کے بعد اسے یہ معلوم ہوا تھا کہ وہ اس کے تحت ماضی میں بدعنوانی کی تحقیقات نہیں کر سکتی۔
ٹینس انٹیگریشن یونٹ (ٹی آئی یو) کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اسی وجہ سے ان کھلاڑیوں کے خلاف نئی تحقیقات نہیں کی جا سکیں جن کا ذکر سنہ 2008 کی رپورٹ میں کیا گیا تھا۔

بعد میں آنے والے برسوں میں بھی ان کھلاڑیوں میں سے تقریباً ایک تہائی کے خلاف ٹی آئی یو کو خبردار کیا گیا تاہم ان کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
حال ہی میں دنیائے ٹینس میں بدعنوانی کو منظرِ عام پر لانے کے خواہشمند کچھ افراد نے اس سلسلے میں دستاویزات بی بی سی اور بزفیڈ نیوز کو دی ہیں۔ یہ افراد اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔

بی بی سی نے ان دستاویزات کی روشنی میں مارک فلپس سے رابطہ کیا جو 
  کی تحقیقات کا حصہ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایک مخصوص گروپ مسلسل سٹے بازی کی مبینہ سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔
 دس کے قریب کھلاڑی ایسے تھے جن کے بارے میں ہمیں یقین تھا کہ یہ ان حرکات میں ملوث ہیں اور مسائل کی جڑ ہیں۔ 

مارک فلپس نے یہ بھی کہا کہ ثبوت بہت ٹھوس تھے۔ اس وقت اس برائی کے پنپنے سے قبل ہی اس کا قلع قمع کرنے کا موقع تھا۔ 
لی دستاویزات میں عالمی ٹینس کی منتظم تنظیم ایسوسی ایشن آف ٹینس پروفیشنلز کی جانب سے 2007 میں شروع کی گئی تحقیقات کی رپورٹ بھی شامل ہے۔
بی بی سی اور بزفیڈ کو آج کل عالمی ٹینس مقابلوں میں حصہ لینے والے ایسے کھلاڑیوں کے نام بھی دیے گئے ہیں جن کی مشکوک سرگرمیوں کے بارے میں ٹی آئی یو کو بارہا بتایا گیا ہے۔

تاہم ان کے نام ظاہر نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کیونکہ ان کے فون، بینک اور کمپیوٹرز کے ریکارڈ تک رسائی کے بغیر یہ طے کر پانا ممکن نہیں تھا کہ وہ میچ فکسنگ میں ذاتی طور پر ملوث ہیں یا نہیں۔
خیال رہے کہ ٹینس انٹیگریٹی یونٹ کسی بھی پیشہ ور ٹینس کھلاڑی سے یہ معلومات طلب کر سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اے ٹی پی کے سربراہ کرس کرموڈ نے ان اطلاعات کو رد کیا ہے کہ ٹینس کی عالمی تنظیم نے میچ فکسنگ کے ثبوتوں کو دبانے یا نظرانداز کرنے کی کوشش کی۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ٹینس انٹیگریٹی یونٹ اور کھیل سے متعلق حکام کسی بھی ایسے خیال کو رد کرتے ہیں کہ میچ فکسنگ کے ثبوت دبائے گئے یا ان کی مفصل تحقیقات نہیں کی گئیں۔ 
کرس کرموڈ نے یہ بھی کہا کہ ’بی بی سی اور بزفیڈ کی رپورٹس تقریباً دس برس پرانے مقابلوں کے بارے میں ہیں، ہم ہر قسم کی نئی معلومات کی تحقیقات کریں گے اور ہمیشہ کرتے رہے ہیں۔

 

No comments:

Powered by Blogger.