Header Ads

Breaking News
recent

کیا اب اساتذہ ہتھیار اُٹھائیں گے؟

جس ملک میں دن دیہاڑے بچے مار دیے جاتے ہوں، جہاں ہمسایہ ممالک کمزور قیادتوں کا فائدہ اُٹھا کر آنکھیں دکھاتے ہوں، جہاں کے حکمرانوں کے کتوں اور بلیوں کے لیے چارٹرڈ طیارے میسر ہوں، جہاں 11 کروڑ افراد لکھنا پڑھنا نہ جانتے ہوں، جس ملک میں 80 فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہو، جہاں 30 لاکھ افراد بے روزگار ہوں، جہاں 50 لاکھ تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوان ڈگریوں کو کشکول بنائے آفس ٹو آفس، گیٹ ٹوگیٹ، ٹیبل ٹو ٹیبل اور فیکٹری ٹو فیکٹری نوکریوں کی بھیک مانگ رہے ہوں، جہاں 30فیصدکو روٹی نہ ملتی ہو، جہاں ایک ہزار میں سے 111 بچے ایک سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے مر جاتے ہوں ۔

جہاں اسکول جانے کے قابل4.5کروڑ بچے تعلیمی سہولیات سے محروم ہوں، جہاں پانچ سال سے کم عمر ایک کروڑ بیس لاکھ بچوں کو ناکافی غذا ملتی ہو، جہاں 67فیصد آبادی نکاسی آب کی سہولت سے محروم ہو، جہاں عوام بجلی کی قطرہ قطرہ روشنی کو ترس رہے ہیں، جہاں 10 کروڑ آبادی ایک کمرے کے مکان میں رہتی ہو ، جہاں کی جیلیں بے گناہوں سے بھری ہوں اور مجرم دندناتے پھر رہے ہوں، جہاں کی اشرافیہ اپنے کاروبار کو پروان چڑھانے کے لیے غیروں کی ایجنٹ بنی ہو۔
جہاں کی انتظامیہ ٹھیکیداروں کی خادم ہو، جہاں کرپشن سرعام ہو، جہاں جھوٹ کی منڈیاں سجتی ہوں، جس ملک کے حکمران راتوں رات کھربوں کے مالک بن گئے ہوں اور جہاں کے سیاستدان اپنے چور بھائیوں کو بچانے اور مفاد پرستی کی خاطر نئی نئی چالیں چلتے ہوں وہاں کے اساتذہ کا ہتھیار اُٹھانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ یہ ہتھیار باچا خان یونیورسٹی کے اساتذہ نے اپنے بچوں کو بچانے کے لیے اُٹھائے ہیں ۔ بدقسمتی سے باچا خان یونیورسٹی چارسدہ کے طلباء دہشت گردی کا نشانہ بنے اور سانحہ اے پی ایس کا غم تازہ ہوگیا۔

زندگی انسان کی ہے مانندِ مرغ خوش نوا
شاخ پر بیٹھا کوئی دم، چہچہایا،اڑگیا

میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ اس حملے میں صرف ہمارے سیکیورٹی ادارے ناکام ہیں بلکہ اس پورے نظام نے ہی ہمیں خطرات سے دوچار کردیا ہے۔کیوں کہ ہم نے بیشتر اوقات ڈنگ ٹپاؤ پروگرام بنائے ہوتے ہیں، جن اداروں حفاظت کے لیے سیکیورٹی گارڈ رکھے گئے ہیں، ان کی ٹریننگ محض جامہ تلاشی لینا ہے، دہشت گردوں سے لڑنا ان کے بس کی بات نہیں۔ اسی لیے تو وہ ٹی وی چینلز پر یہ بیان دیتے نظر آتے ہیں کہ انھوں نے بڑی مشکل سے اپنی جان بچائی۔ تعلیمی اداروں کی دیواریں اونچی کر دینا اور سیکیورٹی گارڈز کو ناکارہ بندوقیں تھما دینا، یہ سب ڈرامہ ہے۔

اس سے کچھ نہیں ہوگا۔ میری رہائش لاہور کے ایچی سن کالج کے قریب ہے اور وہاں سے اکثر گزرتا ہوتا ہے۔کالج کی دیواروں کی اونچائی خاصی بڑھا دی گئی ہے لیکن کیا دہشت گردوں کی تربیت میں ان دیواروں کو پھلانگنا شامل نہیں ہوگا؟دیوار کے ساتھ ٹیلی فون کے پولز نصب ہیں جن پر میں یا آپ نا چڑھ سکیں لیکن تربیت یافتہ دہشت گرد آسانی سے چڑھ کر دیوار پھلانگ سکتا ہے اور خار دار تاروں کو آسانی سے کاٹ بھی سکتا ہے۔

بہر کیف اس سانحے میں شہید ہونے والے طلبہ، اساتذہ، اسٹاف ممبران اور عام شہری سبھی پوری قوم کا قیمتی سرمایہ تھے۔ شہدا میں ایک استاد سیدحامد حسین 32سالہ نوجوان تھے۔ وہ ہمارے قومی ہیرو ہیں۔ انھوں نے اپنی جان بچانے کے بجائے طلبہ وطالبات کے دفاع میں جان قربان کردی۔ حامد حسین نے بہادری کی نئی مثال قائم کی ہے۔
ایک تلخ یاد باچا خان یونیورسٹی کے ڈائریکٹر محمد شکیل کے ساتھ بھی جڑ گئی، جو حملے کے دوران 15 طلبہ کے ہمراہ عمارت کی تیسری منزل پر پھنس گئے۔ محمد شکیل نے اُس وقت پیش آنے والے حالات و واقعات کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ہم غیر مسلح اور چھپے ہوئے تھے، مجھے بچوں کی بہت فکر ہورہی تھی اور اسی دوران ایک حملہ آور ہمارے قریب آگیا۔

اس نازک موقع پر میرے بار بار درخواست کرنے پر پولیس اہلکار نے میری جانب ایک بندوق پھینک دی جس سے میں نے حملہ آور پر کچھ فائر کیے۔ سانحہ اے پی ایس میں بھی اساتذہ نے خصوصاً اسکول پرنسپل جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بچوں کو بچانے کے ’جرم‘ میں دہشت گردوں نے انھیں زندہ جلا دیا تھا، قوم کے مستقبل کے ہونہاروں کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

آہ! کیا آئے ریاضِ دہر میں ہم ، کیا گئے 
زندگی کی شاخ سے پھوٹے ، کھلے ، مرجھا گئے 

کیا یہ کام اساتذہ کے کرنے والے ہیں؟ جنھیں اخلاقیات کا درس دینا ہوتا ہے، کیا اب وہ اسلحہ ساتھ لے کر پاکستان کے تعلیمی اداروں میں جایا کریں گے؟ حکمرانوں شرم سے ڈوب مرو۔ میں صرف یہ سوال پوچھتا ہوں کہ کیا حکومتی سطح پر بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر کے رواں ماہ 16جنوری کے بیان کا کسی نے نوٹس لیا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ ’’ہمارے برداشت کرنے کی صلاحیت ختم ہو گئی ہے اور اب ہم کچھ نہ کچھ ضرور کریں گے۔

لیکن نتائج میں ایک سال کا وقت لگے گا‘‘ اس سے واضع اشارے ملتے ہیں کہ اس کارروائی میں بھی بھارت ملوث ہے، اور بھارت کے افغانستان میں 22قونصل خانے دن رات پاکستان مخالف سرگرمیوں میں کیوں مصروف عمل ہیں؟ اور افغانستان کی سمیں پاکستان کی سرحدوں اور بعض مخصوص علاقوں میں کیوں چل رہی ہیں ؟کیا سرحدوں پر سگنل جیمر لگائے گئے ہیں؟ اور یہ کہ کیا کوئی حکومتی عہدیدار یہ کہنے کے قابل ہے کہ آیندہ اس طرح کے حملے نہیں ہوں گے؟ کون گارنٹی لیتا ہے؟ کون مائی کا لال قومی لیڈر ہے جو یہ کہے کہ اب اگر دہشت گردوں نے حملہ کیا تو میں اپنی ناقص کارکردگی کی بدولت خودکشی کر لوں گا؟ چلیں مان لیا ہمارا مذہب خودکشی کی اجازت نہیں دیتا اور ایسا کرنا بھی نااُمیدی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور نااُمیدی تو گناہ ہے۔ تو کم از کم ایک عدد استعفے کا ہی اعلان کردیں ۔ مگر!!! ایسا ہو کیسے؟

علی احمد ڈھلوں

No comments:

Powered by Blogger.