Header Ads

Breaking News
recent

کیا مودی حکومت ناکام ہو رہی ہے؟

بھارت کے وزیرِ اعظم نے سنہ 2015 کا اختتام پاکستان کے اچانک دورے سے کیا۔ پچھلے ڈیڑھ برس سے دونوں ممالک کے درمیان جو بات چیت رکی ہوئی تھی وہ اب نئے برس میں دوبارہ شروع ہو رہی ہے۔
دونوں وزرائے اعظم کا جو رخ اس وقت نظر آ رہا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ منجمد تعلقات میں جلد ہی بہتری کے امکانات ہیں۔
وزیرِ اعظم مودی ذاتی طور پر خارجی امور میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں اور بیشتر معاملات میں اہم فیصلے وہ خود کرتے ہیں۔

وزیرِ اعظم بننے کے بعد ڈیڑھ برس کی مدت میں جتنے ممالک کا دورہ انھوں نے کیا ہے شاید ہی بھارت کے کسی اور وزیر اعظم نے کبھی کیا ہو۔ جتنے کم وقفے میں وہ غیر ممالک کے دورے کرتے ہیں اس سے ان کی توانائی اور ذہنی چستی کا بھی پتہ جلتا ہے۔

گزرے ہوئے برس میں مودی نے بیرونی ممالک سے تعلقات میں یقیناً بڑی پیش رفت کی ہے لیکن ملک کے اندر مودی کی مجموعی کارکردگی ان کے مخالفین کے لیے ہی نہیں ان کے حامیوں کے لیے بھی مایوس کن رہی ہے۔ مودی نے بڑے بڑے وعدوں کے ساتھ عوام کی پہلے سے ہی بے چین تمناؤں کو آسمان پر پہنچا دیا تھا۔
گزرے ہوئے ایک برس میں مودی حکومت کسی بھی محاذ پر ایک بھی ایسا کام نہیں کر سکی جسے وہ عام آدمی کے سامنے اپنی کارکردگی کےطور پر پیش کر سکے۔
معیشت سست روی کا شکار ہے۔ حکومت اور نجی کمپنیاں ملازمتوں کے مواقع فراہم میں ناکام رہی ہیں۔ کھانے پینے اور ضروی اشیا کی قیمتوں میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ ملک کے بیشتر شعبے کساد بازاری اور مایوسی کا شکار ہیں۔ صنعت کاروں اور بڑی بڑی کمپنیوں کو مودی حکومت کے آنے سے جو بڑی امیدیں بندھی تھیں وہ اب ٹوٹنے لگی ہیں۔

سیاسی سطح پر مودی کو دلی کے بعد بہار میں شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ مودی کی ذاتی شکست تھی کیونکہ انھوں نے نتیش کمار کو وقار کا مسلہ بنا لیا تھا۔ رواں برس کئی ریاستوں میں انتخابات ہونےوالےہیں ۔ بی جے پی بہار کے انتخابات سے پہلے جتنی پر اعتمار اور جوش میں نظر آتی تھی، وہ تیور اب کہیں نظر نہیں آتے۔

گزرا ہوا برس ملک میں ہر طرح کی عدم رواداری کے لیے بھی یاد کیا جائے گا۔ سنہ 2015 اس لیے بھی یاد کیا جائے گا کہ مودی حکومت، اس کے حامیوں اور میڈیا کی تمام کوششوں کے باوجود ملک کے اعتدال پسندوں نے عدم رواداری کی طاقتوں کو جھکنے کےلیے مجبور کیا۔ منافرت اور عدم رواداری کی طاقتیں بری طرح پسپا ہوئی ہیں لیکن وہ وقتاً فوقتاً اپنا سر اٹھاتی رہتی ہیں۔

نیا برس مودی حکومت کی امبیج کو بہتر کرنے کے لیے آخری موقع ہو گا۔ ڈیڑھ برس میں مودی نے صرف کچھ نعرے دیے ہیں اور ڈھیر ساری تقاریر۔ زمین پر کچھ بدلتا ہوا محسوس نہیں ہوا۔ کئی معنوں میں حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہوئے ہیں۔ نعرون اور تقاریر سے لوگ اب بیزار ہونے لگے ہیں۔

مودی کے مستقبل کی سیاست کے لیے یہ بجٹ انتہائی اہم ہے۔ مشکل یہ ہے کہ وزیرِ خزانہ ارون جیٹلی جو اس وقت اپنا بیشتر وقت بجٹ کی تیاریوں پر صرف کرتے ہیں، وہ دلی کے وزیرِ اعلی کیجریوال کی جانب سے عائد کیے گئے بد عنوانی کے الزامات کا دفاع کرنے میں مصروف ہیں۔

دلی کے متمول طبقے کی سیاست کرنے والے جیٹلی کی شبیہ بد عنوانی کے الزامات سے بری طرح مجروح ہوئی ہے۔
گزرا ہوا برس مودی کےلیے کافی پریشان اور مایوس کن رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی کا وہ تیکھا تیور بھی کمزور پڑ چکا ہے جو ان کےلب و لہجے کا خاصا ہوا کرتا تھا۔

حکومت کے بعض حالیہ اقدامات سے پتہ چلتا ہےکہ وزیر اعظم خود بھی اپنی حکومت کی کارکردگی سےمطمئن نہیں ہیں۔
اگر وہ نئے برس میں بھی خود کو ایک بہتر حکومت کے طور پر نہ پیش کر سکے تو پارٹی کے اندر ان کے مخالفین اور ہندوتوا کی وہ طاقتیں غالب ہونا شروع کردیں گی جو ابھی تک مودی کے ترقی کے ایجنڈے کے نیچے خاموش بھیٹھی ہوئی ہیں۔

رواں سال مودی کےلیے بہت چیلنجز بھرا ہوا سال ہو گا۔

شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی


No comments:

Powered by Blogger.