Header Ads

Breaking News
recent

نفرت کی آگ میں جھلستا امریکا

امریکی صدر بارک اوباما بالآخر اپنے اقتدار کے آخری سال میں داخل ہو چکے ہیں۔ انھوں نے ’’اسٹیٹ آف یونین‘‘ کے اپنے آخری خطاب میں کئی ممالک کے ساتھ پاکستان کو بھی ایک ناکام ریاست قرار دے کر کھلم کھلا پاکستانیوں کی توہین کی ہے، اس میں شک نہیں کہ پاکستان دہشت گردی سے دوچار ہے مگر کیا خود امریکا کو دہشت گردی کا سامنا نہیں ہے، اگر دہشت گردی کے نظریے سے ریاستوں کے ناکام ہونے کی بات کی جائے تو پھر فرانس سمیت کئی مغربی ممالک بھی ناکام ریاست قرار پائیں گے کیونکہ وہاں بھی دہشت گردی کے واقعات تسلسل سے ہو رہے ہیں۔

آخر اس بات کو کیوں فراموش کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی لعنت کا ذمے دار خود امریکا ہے وہ نہ افغانستان پر حملہ کرتا اور نہ پاکستان طالبان و القاعدہ کی دہشت گردی کا نشانہ بنتا۔ صدر اوباما کو اپنے خطاب میں دراصل عدم برداشت اور عدم رواداری کے مسئلے پر زیادہ زور دینا چاہیے تھا کیونکہ اس وقت اس عفریت نے دہشت گردی سے کہیں زیادہ خطرناک صورت اختیار کر لی ہے۔ بلاشبہ پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے مگر پاکستان کے عوام یا کسی لیڈر سے کسی کو عدم برداشت یا عدم رواداری کے رویے کی کوئی شکایت نہیں ہے جب کہ امریکا جو دنیا کی واحد سپر پاور ہے اور ایک مہذب قوم ہونے کا دعویدار ہے صد افسوس کہ وہاں یہ عفریت انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔
مسلمانوں سے نفرت کرنا امریکیوں نے اپنا شعار بنا لیا ہے مگر مسلمانوں کے مذہبی مقامات کی بے حرمتی کرنا اور مسلمانوں کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک کرنا کیا ایک مہذب ملک کے عوام کو زیب دیتا ہے؟ صدر اوباما نے اپنے خطاب میں بلاشبہ مسلمانوں کی توہین اور مساجد کی توڑ پھوڑ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے مگر لمحہ فکریہ یہ ہے کہ یہ عمل وہاں صرف عوام تک محدود نہیں ہے بلکہ وہاں کے ذمے دار لیڈر بھی مسلمانوں سے عدم برداشت اور نفرت کا برملا اظہار کر رہے ہیں اس کی مثال امریکی صدارت کے ایک امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ سے دی جا سکتی ہے۔

وہ کھلے عام پوری دنیا کے مسلمانوں کے خلاف اپنی تقاریر میں زہر اگلتے پھر رہے ہیں۔ انھوں نے مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کی تجویز پیش کر کے ثابت کر دیا ہے کہ اب امریکا صدر نکسن اور ریگن والا نہیں رہا ہے جو مکمل طور پر احترام انسانیت کے قائل تھے وہ پوری دنیا کے انسانوں کو یکساں سمجھتے تھے۔ انھوں نے کبھی مسلمانوں کے خلاف کوئی بات نہیں کہی اور حتیٰ کہ کسی بھی قوم کو یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ امریکا اپنے شہریوں اور غیر شہریوں میں کوئی فرق کرتا ہے۔

اسی وجہ سے اس وقت دنیا کے تمام ہی لوگ امریکا کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے، مگر جب سے سینئر بش اور جونیئر بش نے امریکی صدارت کی ذمے داریاں سنبھالیں۔ امریکی معاشرے میں عدم برداشت کا چلن شروع ہو گیا۔ سینئر بش سراسر مسلم مخالف جذبات رکھتے تھے، اس کی وجہ شاید یہ بھی تھی کہ وہ کٹر مذہبی انسان تھے اور اپنے مذہب کے علاوہ کسی دوسرے مذہب کو برداشت   نہیں کرتے تھے۔ انھوں نے ہی مسلم ممالک میں افراتفری کا آغاز کرایا اور مسلمانوں کے لیے نئی نئی مصیبتیں کھڑی کرنا شروع کیں۔

ان کے دور سے قبل مشرق وسطیٰ میں کوئی بے چینی نہیں تھی۔ وہاں کے عوام پرسکون زندگیاں بسر کر رہے تھے۔ عراق اور دیگر عرب ممالک اپنی تیل کی دولت سے اپنے ممالک کو ترقی دینے میں مصروف تھے، البتہ اسرائیل کے اچانک حملے سے بچنے کے لیے اپنی دفاعی صلاحیت کو بڑھا رہے تھے مگر امریکا اور یورپی ممالک جن کے دم قدم سے اسرائیلی ریاست قائم ہوئی اور اب وہی اس کی بقا کے بھی ضامن ہیں کو خصوصاً عراق شام اور لیبیا کی خود کو دفاعی طور پر مضبوط بنانے والی روش پسند نہ آئی وہ ان کی دفاعی صلاحیت کو اسرائیل کے لیے کھلا خطرہ محسوس کر رہے تھے۔

اس وقت کے امریکی صدر سینئر بش خصوصاً عراق کو اسرائیل کے وجود کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھنے لگے تھے چنانچہ انھوں نے کویت کے مسئلے میں عراق کو پھنسا کر اس پر اپنے 32 اتحادیوں کے ساتھ مل کر حملہ کر دیا۔ عراق کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس پر بے شمار پابندیاں لگا دی گئیں۔ سینئر بش کے بعد جب جونیئر بش کی حکومت آئی تو انھوں نے اپنے والد محترم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کی جانب سے عراق کو تباہ و برباد کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا گیا تھا، اسے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے عراق پر مہلک ہتھیاروں کے رکھنے کا جھوٹا الزام لگا کر اس پر حملہ کر دیا اور اس کی تیل کی دولت پر قبضہ کر لیا۔

اس کے بعد نائن الیون کا واقعہ پیش آ گیا جس نے امریکا کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس سانحے کے ردعمل میں صدر بش نے جو پہلا بیان دیا تھا، اس میں انھوں نے اس کی ذمے داری مسلمانوں پر ڈالتے ہوئے ان کے خلاف صلیبی جنگ کا اعلان کر دیا تھا۔ جب خود امریکیوں نے اس بیان پر اعتراض کیا تو انھوں نے اس بیان کو پھر کبھی نہیں دہرایا۔ گویا  مسلمانوں کے خلاف نفرت کی جو آگ سب سے پہلے سینئر بش نے بھڑکائی تھی وہ جونیئر بش کے دور میں مزید پھیل کر اب پورے امریکا کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ جونیئر بش نے عراق اور افغانستان پر قبضہ کر کے اور انھیں دہشت گردی کے حوالے کر کے مسلمانوں سے اپنے بغض کا کھلم کھلا اظہار کر دیا تھا۔

افغانستان پر امریکا فوج کشی کے نتیجے میں وہاں طالبان اور القاعدہ نے مزاحمت شروع کر دی تھی جو بعد میں دہشت گردی کی شکل اختیار کر گئی اس دہشت گردی نے رفتہ رفتہ پاکستان کو بھی آ دبوچا جو اب بھی جاری ہے، مگر آپریشن ضرب عضب کی بدولت اس کی شدت میں کمی آ چکی ہے تاہم یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ اس کا محرک امریکا ہے۔ یہ حقیقت بھی اب دنیا کے سامنے ہے کہ امریکی مداخلت کی وجہ سے عراق اور لیبیا تباہ و برباد ہو چکے ہیں اور اس وقت شام یمن اور صومالیہ میں امریکی مداخلت جاری ہے جس سے وہ بھی عنقریب تباہی و بربادی سے ہمکنار ہونیوالے ہیں۔

یہ بات بھی سب ہی جانتے ہیں کہ امریکا نے صدام حسین اور کرنل قذافی کو محض اسرائیل سے دشمنی رکھنے کا سبق سکھایا تھا۔ البتہ بشار الاسد سے ابھی تک پورا انتقام نہیں لیا جا سکا ہے چنانچہ وہاں امریکی عتاب ہنوز جاری ہے اور اگر روس و ایران بشار الاسد کے آڑے نہ آتے تو امریکا ابھی تک انھیں بھی صدام اور قذافی کی طرح کبھی کا ٹھکانے لگا چکا ہوتا، تاہم اب وہاں روس کے کودنے کی وجہ سے حالات کے بہتر ہونے کی امید نظر آنے لگتی ہے۔

اب جہاں تک خود امریکا کے اندر مسلمانوں سے نفرت کا تعلق ہے تو وہ اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعے عروج پر ہے اور سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اس وقت امریکا میں صدارتی کرسی کو حاصل کرنے کی غرض سے جتنے بھی امیدوار میدان میں ہیں ان تمام میں ڈونلڈ ٹرمپ مقبولیت کے لحاظ سے سب سے آگے ہیں۔ ہیلری کلنٹن ضرور کسی حد تک ان کی قریب ترین حریف ہیں اور وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلمانوں کے خلاف تقاریر پر سخت برہم ہیں مگر ان کی اس مخالفت کا مقصد محض مسلمانوں کے دل جیت کر ان کے ووٹ حاصل کرنا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ وہ خود بھی مسلمانوں کی خیر خواہ نہیں ہیں ان کے وزیر خارجہ ہوتے ہوئے لیبیا میں امریکی مداخلت شروع ہوئی اور شام ان کے ہی دور میں امریکی مداخلت کا شکار ہوا۔ پاکستان کو ڈو مور کا سبق پڑھانے والی بھی یہی خاتون تھیں۔ اب اگر امریکی عوام ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا اگلا صدر منتخب کرتے ہیں تو نہ صرف امریکی مسلمانوں کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالم اسلام کے لیے بھی نئے مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں لیکن دوسری جانب خود امریکی ساکھ اور مفادات بھی داؤ پر لگ سکتے ہیں۔ چنانچہ امید ہے کہ مسلمانوں سے بگاڑ کر امریکی عوام ہرگز اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کی غلطی نہیں کریں گے اور نفرت پھیلانیوالی کسی مہم کا حصہ بن کر اپنے قومی مفادات پر ضرب نہیں آنے دیں گے۔

عثمان دموہی


No comments:

Powered by Blogger.