Header Ads

Breaking News
recent

اب غریب کے گھر بھی ٹھیکے پر

معلوم ہوا ہے کہ ترکی کی ایک تعمیراتی فرم کی تکنیکی مدد سے پنجاب میں غریب لوگوں کے لیے پچاس ہزار گھر تعمیر کیے جائیں گے۔ یعنی ان مکانوں کی تعمیر پر جو خرچ آئے گا وہ تو سارا ہمارا ہو گا البتہ یہ گھر کس طرح تعمیر کرنے ہیں یہ ہمیں ترکی کی ایک تعمیراتی فرم بتائے گی اس طرح ترکی کی اس فرم کے ساتھ معاہدے کے مطابق جو پچاس ہزار گھر تعمیر ہوں گے وہ غریب اور مستحق لوگوں میں تقسیم کر دیے جائیں گے اب تک تو پنجاب میں جس کسی کی جیب میں کچھ رقم ہوتی ہے وہ ایسا گھر خود ہی تعمیر کر لیتا ہے اور مقامی ماہرین تعمیر ہی یہ گھر اس کی مرضی اور ضرورت کے مطابق تعمیر کر کے دے دیتے ہیں۔

ہمارے ہاں تو بڑی بڑی عمارتیں بھی ہم خود ہی تعمیر کر لیتے ہیں اور کسی بیرونی ملک کی فنی یا غیر فنی مدد کی ضرورت نہیں پڑتی لیکن خود محنت کیے بغیر یا ٹھیکے میں کمیشن کے لالچ میں ہم یہ عام سا کام بھی اگر ٹھیکے پر کرانے لگے ہیں تو پھر ایسے کتنے ہی کام ہیں جو ٹھیکے پر کرا لینے چاہئیں۔ تعمیراتی کام میں ایک صاحب ہوتے ہیں انجینئر جو فنی مدد دیتے ہیں اور فنی مشورے بھی۔ کسی عمارت کی شکل و صورت بھی کسی انجینئر کا کارنامہ ہوتا ہے۔

یہ انجینئر عمارت کی مضبوطی وغیرہ کا دھیان بھی رکھتے ہیں اور کسی عمارت کے ساتھ ان کا نام بھی چلتا ہے اس لیے وہ کوشش کرتے ہیں کہ کوئی عمارت جو ان کی نگرانی میں تعمیر ہو رہی ہو وہ اتنی پائیدار ہو کہ ان کا نام دیر تک زندہ رہے۔ لاہور کے نئے شہر کی کئی عمارتیں ایک ہندو انجینئر گنگارام سے موسوم ہیں ان میں سے صرف ایک عمارت ان کے نام سے موسوم ہے گنگارام اسپتال باقی عمارتیں ان کے نام سے نہیں پہچانی جاتیں لیکن پرانے شہری اور انجینئر جانتے ہیں کہ کوئی عمارت کس کے ہنر اور محنت کا ثمر ہے۔

نئے لاہور کی سڑک مال روڈ پنجاب کے گورنر سرریواز اور گنگارام کے مشترکہ شوق کی نشانی ہے ،کتابوں میں لکھا ہے کہ یہ دونوں سخت گرمی میں ہاتھوں میں فیتہ لے کر مال روڈ کی پیمائش کیا کرتے تھے اور یہ طے کرتے تھے کہ درختوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہونا چاہیے۔ مال روڈ پر اگر کچھ پرانے درخت زندہ رہ گئے ہیں اور انھیں کاٹ نہیں دیا گیا تو وہ انھی دو حضرات کی محنت اور شوق کا نتیجہ ہیں۔ یہ دونوں حضرات اس شہر کو اپنی یاد دلانے کے لیے جان توڑ محنت کیا کرتے تھے۔
سرریواز نے مال روڈ کے قریب ہی ایک باغ لگوایا اور اس میں گھر تعمیر کرائے اسے ریواز گارڈن کا نام دیا گیا۔ لاہور کے ریلوے اسٹیشن سمیت کتنی ہی عمارتیں مقامی انجینئروں کے فن کا نمونہ ہیں۔ ان میں سے شاید ہی کسی کی تعمیر میں کسی بیرونی انجینئر یا فرم کی مدد لی گئی ہو البتہ واپڈا ہاؤس کا نقشہ تیار کرنے میں ایک بیرونی انجینئر سے مدد لی گئی لیکن جہاں تک تعمیر کا تعلق ہے پورا لاہور قدیم و جدید سب لاہوریوں کا تعمیر کیا ہوا ہے۔

چار دیواری اور چھت شروع دن سے ہی تعمیر کی جا رہی ہے اور یہی ایک گھر کا نام ہے اور وہ بھی غریبوں کے لیے عام سی عمارت کی تعمیر کے لیے کسی بیرونی فرم کی مدد اور ٹھیکہ ایک سمجھ نہ آنے والی بات ہے۔ لاہور میں کئی نئی آبادیاں تعمیر ہوئی ہیں جو سب کی سب مقامی تعمیراتی انجینئروں نے تعمیر کی ہیں۔ گلبرگ ہو یا اس سے بھی پہلے سمن آباد مقامی لوگوں نے خود ہی تعمیر کی کسی بیرونی انجینئر کا دور دور تک کوئی تعلق نہ تھا۔ کسی بھی پاکستانی سے بات کریں تو وہ کسی سیدھے سادے مکان کی تعمیر کے لیے کسی بیرونی امداد کا مذاق اڑائے گا۔

شہروں میں تو حالات مختلف ہوتے ہیں لیکن دیہات میں بھی اب بڑے بڑے گھر بن رہے ہیں اور سب مقامی مستریوں کے ہنر کا نمونہ ہیں۔ ہمارے ہاں جب بھی کسی کے پاس کچھ رقم جمع ہو جاتی ہے تو وہ سب سے پہلے اپنا گھر بناتا ہے۔ ہمارے دیہات میں تو جو لوگ باہر کہیں ملازمت یا کوئی اچھا کاروبار کرتے ہیں جب بھی ان کے مالی حالات بہتر ہوتے ہیں تو وہ سب سے پہلے گاؤں میں اپنا نیا گھر بناتے ہیں۔ میں جب بھی گاؤں جاتا ہوں تو کوئی نہ کوئی نیا گھر دکھائی دیتا ہے اور یہ سب گھر کسی کی پہلی آمدن کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

اپنا گھر انسان کی سب سے پہلی ترجیح ہے۔ وہ اپنی حیثیت کے اظہار کے لیے بھی اور اپنی آسائش کے لیے بھی اپنا نیا گھر ضروری سمجھتا ہے بلکہ سب سے پہلی ضرورت، چنانچہ اسے جب بھی توفیق ہوتی ہے وہ اپنا گھر تعمیرکرتا ہے اور اسے اپنی ضرورت اور پسند کے مطابق دیکھنا چاہتا ہے۔

ایسے نالائق بہت کم ہوتے ہیں جو میری طرح تمام عمر کرائے کے گھروں میں اور اس محاورے کے دھوکے میں گزار دیتے ہیں کہ ’’بے وقوف گھر بناتے ہیں اور عقلمند ان میں رہتے ہیں‘‘ حالانکہ ہر مہینے جب کسی گھر کا ’بے وقوف‘ مالک کرایہ لینے آتا ہے تو اس کو اپنی بے وقوفی کا پھل ملتا ہے اور عقلمند کرایہ دار جلتا بھنتا رہ جاتا ہے بہر حال یہ زندگی اسی طرح گزر رہی ہے اور آپ کو شہری زندگی میں یہ تماشے جا بجا دکھائی دیتے ہیں۔

ان میں جب آپ خود کسی تماشے کا کردار ہوتے ہیں تو سوائے شرمندگی کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا لیکن گھر کی تعمیر کا سب سے آسان اور نفع بخش طریقہ یہ ہے کہ اس کی تعمیر ٹھیکے پر کرائی جائے مگر اس کے لیے حکمران ہونا ضروری ہے جو ٹھیکیداروں کے ساتھ کمیشن طے کر سکے ورنہ آسانی درکار نہ ہو تو پاکستان میں دیہات ہو یا شہر ہر جگہ تعمیرات کے ماہر موجود ہیں اور پورا ملک انھی لوگوں نے تعمیر کیا ہے۔

یہ تماشے حکمرانوں کے ہیں کہ گھر کے ماہرین کو گھر بٹھا کر بیرون ملک سے ماہرین لے آئیں جو دیواریں تعمیر کر سکیں اور ان کے اندر گھر بنا دیں جب کہ یہی کام یہاں کون نہیں کر سکتا اور غریبوں کے لیے تو گھر بنانا ایک آسان مرحلہ ہے جس کے لیے کوئی لمبی چوڑی مہارت درکار نہیں۔ خود میرے بارانی قسم کے گاؤں میں بھی ایسے ’ماہرین‘ موجود ہیں جو دہاڑی پر غریبوں کے گھر چشم زدن میں تعمیر کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے گھر کی طرف دیکھنا ضروری ہے باہر کے ماہرین کی طرف نہیں۔

عبدالقادر حسن


No comments:

Powered by Blogger.