Header Ads

Breaking News
recent

داعش کی کارروائیاں اور عالمی ردعمل

دولت اسلامیہ عراق و شام، جس کا مخفف داعش ہے، اتنا بڑا خطرہ بن چکی ہے کہ عالمی طاقتوں کو اس سے نمٹنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ درحقیقت داعش کو شکست دینے میں ناکامی نے ان ممالک کے درمیان الزام تراشی کا سلسلہ شروع کردیا ہے کیونکہ خوف کے مہیب سائے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ دنیا کے دیگر خطوں کی طرف بھی دراز ہوتے جارہے ہیں۔ 

شاید ماضی میں کبھی کسی انتہا پسند گروہ نے اس طرح اتنے وسیع علاقے پر قبضہ کرتے ہوئے ایک بھرپور انتظامی یونٹ قائم نہ کیا ہو جیسا ’خلیفہ‘ ابوبکر البغدادی نے کیا۔ یہ نام نہاد ریاست عالمی سرحدوں سے گزرتے ہوئے شام اور عراق میں اپنی موجودگی رکھتی ہے۔ اس طرح یہ خلافت ابتدائی طور پر دو ریاستوں کو ملاتے ہوئے دیگر ممالک کی جغرافیائی سرحدیں بے معانی بناکر اُنہیں اپنے اندر ضم کرنے کا عزم رکھتی ہے۔

داعش کی ریاست کو کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی کوئی اسے تسلیم کرے گا، لیکن اس بات کی اس کے خلیفہ، البغدادی کو پروا بھی نہیں۔ چوالیس سالہ عراقی شہری، البغدادی کا اصل نام ابراہیم عوادتی ابراہیم علی محمد البدری ہے۔ وہ ابودعا کے نام سے بھی معروف ہے۔ اُس نے محض زور ِ بازو سے، انتہائی مختصر وقت میں، اپنی ریاست قائم کرتے ہوئے دنیا کو حیران کردیا ہے۔ اپنے قیام کے بعد یہ ریاست سرفروش جنگجوئوں اور تیل کے ذخائر کی بدولت نہ صرف اپنا تحفظ کررہی ہے بلکہ دنیا کے دیگر خطوں کے لئے بھی خطرہ بنتی جارہی ہے۔ 
جس طرح داعش نے دنیا بھر کے براعظموں میں رہنے والے افراداور انتہا پسند گروہوں کو متاثر کیا، اس کی نظیر حالیہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ نہ صرف اسلامی ممالک بلکہ مغربی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے جذباتی مسلمان نوجوان اس کی صفوں میں شامل ہونے کے لئے عراق اور شام کی طرف گامزن پائے گئے ہیں۔ انٹرنیٹ پر داعش کی جذباتی تشہیر سے متاثر ہوکر بہت سی مسلمان لڑکیاں اور عورتیں بھی اس کی صفوں میں شامل ہورہی ہیں۔

 کچھ اسلامی انتہا پسند گروہوں نے القاعدہ سے تعلق توڑتے ہوئے داعش کی بیعت کی، نیز القاعدہ کو پہنچنے والے نقصان کا داعش کو عسکری فائدہ ہوا۔ مئی 2011ء میں امریکی اسپیشل فورسز کی کارروائی میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد القاعدہ کی قیادت سنبھالنے والے ڈاکٹر ایمن الظواہری اس صورت ِحال سے اتنابرافروختہ ہوئے کہ اُنہوں نے تجویز پیش کی شام میں لڑنے والے تمام جہادی گروپ، جیسا کہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والا النصرہ فرنٹ اور داعش مل کرشامی حکومت اور امریکہ کے خلاف جنگ کریں۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب الظواہری نے البغدادی پر غداری کا الزام لگایا تھا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ القاعدہ عالمگیر جہادی گروہوں کا سرخیل ہے۔ اس نے اسّی کی دہائی میں دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ہزاروں مسلمان نوجوانوں کو سوویت فورسز کے خلاف افغان جہاد میں حصے لینے کی ترغیب دی۔ القاعدہ نے دعویٰ کیا کہ دور ِ جدید میں یہی محاذ حقیقی جہاد کا نقطہ ٔ آغاز ہے۔ فلسطین کے اسلامی علوم کے عالم ڈاکٹر عبداﷲ اعظم مرحوم اور مصر کے نابینا مبلغ، شیخ عمر عبدالرحمن، جو اس وقت امریکی جیل میں ہیں، پشاور آئے اور پاکستان میں جمع ہونے والے جہادیوں کو منظم کرکے افغانستان بھیجنے لگے
 تاکہ وہ افغانستان کی کیمونسٹ حکومت اور سوویت فوج کے خلاف جہاد کریں۔ جہاد میں حصے لینے والے انہی نوجوانوں میں شامل بن لادن اور ایمن الظواہری نے اس پیغام کو آگے بڑھایا ۔ افغان جہاد سے پھوٹنے والی شاخ ابومصعب الزرقاوی کی صورت عراق تک سرایت کرگئی اور وہاں اُس نے جہادیوں کی ایک نئی نسل کی تشکیل شروع کردی۔ زرقاوی کا طرز ِعمل القاعدہ کے ’’معیار‘‘ سے بھی بڑھ کر بے رحمانہ تھا، یہاں تک کہ ڈاکٹرالظواہری نے اُس کی سرزنش کی کیونکہ وہ اہل ِتشیع پر حملہ کرتے ہوئے القاعدہ کے لئے مشکلات میں اضافہ کررہا تھا۔

اردن میں پیدا ہونے والا یہی زرقاوی ’’اے کیو آئی‘‘ (القاعدہ ان عراق) کا لیڈر بنا۔ یہ تنظیم آگے چل کر اُس خطرناک گروہ کے روپ میں سامنے آئی جسے آج دنیا داعش کے نام سے پکارتی ہے۔ درحقیقت 2006ء میں اپنی وفات سے پہلے زرقاوی عراق کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کرچکا تھا، اور اسی کی وجہ سے زرقاوی اور القاعدہ کی قیادت میں اختلافات کی خلیج گہری ہوئی تھی۔ اس لئے یہ کہنا درست ہوگا کہ ابوبکر البغدادی اور اُس کے پیروکار بن لادن یاالظواہری سے زیادہ زرقاوی سے جہادی تحریک پاتے ہیں۔ 

بن لادن کی ہلاکت اورالظواہری کی پاک افغان بارڈر کے کسی مقام پر اپنی خفیہ پناہ گاہ سے موثر اور فعال کردار ادا کرنے میں ناکامی نے مشرق ِوسطیٰ میں القاعدہ کو کمزور کردیا۔ پیدا ہونے والے ’’خلا‘‘ میں داعش کو قدم رکھنے اور اپنے آپ کو تقویت دینے کا موقع مل گیا۔ ایک وسیع علاقے پر قبضہ کرکے داعش القاعدہ پر سبقت لے جاتے ہوئے (القاعدہ کسی علاقے پر کنٹرول حاصل نہیں کرپائی تھی) دنیا بھر کے جہادیوں کے لئے باعث کشش بن چکی ہے۔

 کئی ایک پاکستانی اور افغان طالبان نے داعش کا خراسان یونٹ قائم کرنے کی کوشش کی اور حتیٰ کہ افغانستان کے جنوب مشرقی صوبے ننگرہار، جس کی سرحد پاکستان کے ساتھ لگتی ہے، کے چند ایک اضلاع پر قبضہ کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے۔ اسی طرح نائیجریا میں بوکو حرام ،صومالیہ میں الشباب، اور مصر کے علاقے سنائی میں سرگرم ِ عمل جہادی گروہ، اسلامک موومٹ آف ازبکستان اور تحریک ِطالبان پاکستان کے کچھ دھڑے داعش کے ساتھ وفاداری کا اظہار کرچکے ہیں۔ ماضی میں ان میں سے کچھ کا تعلق القاعدہ کے ساتھ تھا، لیکن اب القاعدہ پر تنقید کیے بغیر اس سے رابطہ قطع تعلق کرتے ہوئے داعش کی صفوں میں شامل ہورہے ہیں۔

اگرچہ ایمن الظواہری نے اس پیش رفت کا توڑ کرنے کے لیے جنوبی ایشیا میں القاعدہ کی ایک شاخ قائم کی اور طالبان کے نئے امیر، ملاّ اختر محمد منصور کے ساتھ وفاداری کا اعلان کیا،لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ داعش کے پیغام میں جہادیوں کے لیے زیادہ کشش ہے۔ ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں القاعدہ کو اس کا فائدہ ہو کیونکہ دنیا کی توجہ اس کی جانب سے ہٹ کر داعش کے خطرے کی طرف ہوچکی ہے۔ اس وقت داعش نے اپنے لئے اُس سے کہیں زیادہ دشمن جمع کرلیے ہیں جن سے وہ ممکنہ طور پر لڑنے کی سکت رکھتی ہے۔ 

مصر کے علاقے سنائی میں روسی مسافر طیارے کو گرا کر اس نے روس جیسی عسکری طاقت کو اپنے دارالحکومت رقاعہ اور دیگر ٹھکانوں پر بمباری کی دعوت دے ڈالی۔ حالیہ دنوں پیرس کے چھ مختلف مقامات پر حملوں میں 129 افراد کی ہلاکت کے بعد فرانس نے بھی داعش کے اہداف پر بمباری شروع کردی ہے۔ اس طرح داعش نے مغربی طاقتوں اور دنیا کی دیگر ریاستوں کی دشمنی مول لے لی ہے۔ ہونے والی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے داعش کی پیش قدمی رک چکی ہے اگرچہ یہ اپنے زیر ِ قبضہ علاقوں، جیسا کہ عراق کے دوسرے سب سے بڑے شہر، موصل اور شام کے حلب، عدلیب اور رقاعہ کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ فضائی کارروائی داعش کی طاقت کو نقصان پہنچائے گی لیکن اس کے پرعزم جنگجوئوں کے خاتمے کے لئے زمین پر بوٹ رکھنے ہی پڑیں گے۔ تاہم امریکہ، مغربی ریاستیں، روس، ترکی اور عرب ریاستیں اپنے دستوں کو داعش کے خلاف اتارنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ ان طاقتوں کے درمیان بشارالاسد کے مسئلے پر بھی عدم اتفاق پایا جاتا ہے۔ مغربی طاقتیں، ترکی اور عرب حکومتیں اسد سے نفرت کرتی ہیں جبکہ روس اور ایران اسے سہارا دئیے ہوئے ہیں۔ اس صورت میں داعش کے خلاف ایک طاقتور اتحاد بنتا دکھائی نہیں دیتا۔ 

جہاں تک داعش کاتعلق ہے، یہ اپنے جنگجوئوں کو خود کش حملوں کے مشن پر نہ صرف ترکی بلکہ دیگر مغربی ممالک میں بھیجتی رہے گی۔ ہوسکتا ہے کہ یورپ اپنی سرحدوں پر سخت پہرے بٹھا کر اس سلسلے کو روک دے لیکن پھر بہت سے ایسے ممالک ہیں جن کی سرحدیں کھلی ہیں، وہ داعش کے بے رحم حملوں کی زد میں ہوں گے۔

بشکریہ روزنامہ 'جنگ

رحیم اللہ یوسف زئی

No comments:

Powered by Blogger.