Header Ads

Breaking News
recent

سندھی بریانی کا وفاقی باورچی - وسعت اللہ خان

قائم علی شاہ حکومت نے کراچی میں رینجرز کو صوبائی حکومت کی مدد کے لیے آئین کے آرٹیکل 147 کے تحت بلایا۔
اس آرٹیکل میں موٹا موٹا لکھا ہے کہ کسی بھی صوبے کی حکومت وفاق کی رضامندی سے کسی بھی وفاقی ادارے کی خدمات معینہ مدت کے لیے مستعار لے سکتی ہے۔ یہ ادارہ اپنے روزمرہ فرائض کی ادائیگی کے ضمن میں متعلقہ صوبائی حکومت کو جواب دہ ہوگا۔
تاہم اس انتظام کی 60 دن کے اندر متعلقہ صوبائی اسمبلی سے منظوری حاصل کرنا ہو گی۔

چنانچہ حکومتِ سندھ پچھلے 26 برس کے دوران عموماً مدت ختم ہونے سے پہلے ہی رینجرز کے قیام کی تاریخ میں توسیع کرتی رہی۔
گذشتہ اکتوبر میں بھی قائم علی شاہ حکومت نے تھوڑی بہت کھینچا تانی کے بعد رینجرز کو 60 دن کی توسیع دے دی اور پانچ دسمبر کو جب رینجرز کے قیام کی مدت ختم ہوئی تو 16 دن کی سیاسی کبڈی کے بعد حکومتِ سندھ نے صوبائی اسمبلی کی قرارداد کی روشنی میں رینجرز کی مدتِ قیام میں مشروط توسیع کی سمری وفاقی حکومت کو بھجوا دی۔
لیکن حکومتِ سندھ اس وقت بھونچکی رہ گئی جب اسے وفاق کی طرف سے اچانک بتایا گیا کہ کراچی میں رینجرز کو آئین کے آرٹیکل 147 کے تحت نہیں بلکہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ مجریہ 1997 کے تحت اختیارات حاصل ہیں۔ اس لیے رینجرز کی مدتِ قیام اور اختیارات کے تعین میں صوبائی حکومت کا عمل دخل نہیں بنتا اور اس سلسلے میں سندھ اسمبلی کی توثیقی قرارداد بھی بے معنی ہے۔
چنانچہ اب کچھ سنجیدہ آئینی، قانونی اور منطقی سوالات پیدا ہوگئے ہیں جنہیں کوئی عدالتی رولنگ ہی سلجھا سکتی ہے۔

اوّل: ایسا کب ہوا کہ آئین کے آرٹیکل 147 کے تحت صوبائی حکومت نے جو رینجرز طلب کیے ان کے اختیارات خود بخود انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت ہو گئے؟ کیا وفاق نے اس قانونی تبدیلی کے بارے میں صوبائی حکومت کو کبھی بتایا یا اعتماد میں لیا؟

دوم: اگر رینجرز اس وقت انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت آپریٹ کر رہے ہیں کہ جس کے تحت وفاقی حکومت ہی ان کی حدود و اختیارات و مدت کا تعین کر سکتی ہے تو پھر گزرے ستمبر میں سندھ حکومت نے رینجرز کی مدتِ قیام میں توسیع کا نوٹیفکیشن کیسے جاری کر دیا جب کہ یہ نوٹیفکیشن دراصل وفاق کو جاری کرنا تھا اور وفاق نے یہ صوبائی نوٹیفکیشن مان کیسے لیا؟
ہو سکتا ہے وفاق یہ دلیل دے کہ صوبائی اور وفاقی حکومت میں قانونی اختلاف کی صورت میں وفاقی قانون بالادست ہوتا ہے
سوم: جب پانچ دسمبر کو رینجرز کی مدتِ قیام ایک بار پھر ختم ہوگئی تو چھ دسمبر کو وفاقی اور سندھ حکومت کے درمیان زبانی جنگ کیوں چھڑ گئی؟ وفاق نے یہ وضاحت کرنے میں 18 قیمتی دن کیوں لگا دیے کہ رینجرز کی مدت و اختیارات کا فیصلہ صوبائی معاملہ نہیں وفاقی حکومت کا دردِ سر ہے؟ اس منطق کے تحت رینجرز اختیارات میں توسیع کا جو وفاقی نوٹیفکیشن 22 دسمبر کو جاری ہوا وہ چھ دسمبر کو بھی تو جاری ہو سکتا تھا؟

اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتِ سندھ آج تک سمجھ رہی ہے کہ کراچی میں رینجرز آئین کے آرٹیکل 147 کے تحت متحرک ہیں اور وفاقی حکومت کو بھی صرف 48 گھنٹے پہلے کسی نے کان میں بتایا کہ رینجرز تو دراصل انسدادِ دھشت گردی ایکٹ مجریہ 1997 کے تحت متحرک ہیں لہذا صوبائی حکومت کی خوشامد یا گرمی سردی کرنے کی کیا ضرورت؟

ہو سکتا ہے وفاق یہ دلیل دے کہ صوبائی اور وفاقی حکومت میں قانونی اختلاف کی صورت میں وفاقی قانون بالادست ہوتا ہے۔ مگر یہاں تو زیرِ بحث دونوں قوانین ہی وفاقی ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 147 بھی اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ مجریہ 1997 بھی۔ اگر بالا دستی کی ہی بات ہے تو آئین کا آرٹیکل بالا دست ہوگا یا پارلیمانی ایکٹ؟

اس سنگین غلط فہمی کی ایک عام آدمی سے توقع کی جا سکتی تھی مگر وہ لوگ جن کے ہاتھ میں ملک کی قسمت ہے اگر وہ ہی آئین و قانون کے باب میں کنفیوز ہو جائیں تو وفاق چلے نہ چلے جوتا ضرور چل جاتا ہے۔ اور وہ بھی ایسے وقت جب ہر مقتدر حلقہ نیشنل ایکشن پلان کی تسبیح گھما رہا ہے یہ جانے بغیر کہ کسے کیا کرنا ہے۔

تو کیا سندھ میں 22 دسمبر کو ڈی فیکٹو مرکز راج نافذ ہو چکا؟

وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

No comments:

Powered by Blogger.