Header Ads

Breaking News
recent

ترکی سوچ سمجھ کر قدم اٹھائے

ترکی جیسے محفوظ اور پر امن ملک میں روسی سازشیں ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہیں۔ترک سلطنت اور روسی بادشاہت میں کشیدگی کی تاریخ پرانی ہے۔ سلطنت عثمانیہ کے آخری ادوار میں روس کی دشمنی زور پکڑ چکی تھی۔ روس نے ترک سلطنت سے کیئے معاہدے کئی بار توڑے اور پسپائی کے اندیشوں سے کئی بار ہاتھ بھی جوڑے مگر عداوت کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو سکا۔ حجاز مقدس کے بعد نبی کریم ﷺ کا محبوب علاقہ قسطنطنیہ تھا۔ 

اور آپ ؐ نے اس کی فتح کی خوش خبری بھی دی تھی۔ قسطنطنیہ المعروف استنبول ترکوں کا ہی نہیں تمام امت مسلمہ کا محبوب شہرہے، ترک قوم اور پاکستانیوں میںمحبت کا اہم سبب یہ روحانی تعلق ہے۔ روس نے فطرت کے مطابق ترکی کے خلاف ایک بار پھر محاذ کھول دیا ہے۔ آج روس ترکی سے معافی کا مطالبہ کر رہا ہے جس روس نے ترک سلطنت کے خلاف سازشیںکیں لیکن کبھی معافی نہیں مانگی حتیٰ کہ حالات و واقعات روس کو پسپائی پر مجبور کر تا دیتا۔

روس کی دیرینہ دشمنی نے آج پھر تاریخ کے باب کھول دیے ہیں۔1705میں روس اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان ایک جدید معاہدہ ہوا جس کی رُو سے دونوں ملکوں کے خلاف کارووائیوں کو ترک کرنے کا عہد کیا گیا ۔سویڈن کا حکمران چارلس روس کے فرمانروا پیڑ اعظم سے شکست کھا کر قسطنطنیہ میں پناہ گزیں ہوا ۔سلطان احمد ثالث نے اس کی آئو بھگت کی ۔روسی حکمران نے اعتراض کیا مگر سلطان نے پروا نہ کی ،اس وقت ترکی اور روس کے باہمی تعلقات کشیدہ ہو گئے ،آخر 1710ء میں دونوں ملکوں میں جنگ چھڑ گئی۔
 ترک فوج نے روسی فوج کر گھیرے میں لے لیا ،جب روسی پیٹر اعظم کو اپنی پسپائی کا یقین ہو گیا تو اس نے صلح کے لیئے کوشش کی ۔ آخر کار دونوں ملکوں میں صلح نامہ طے پا گیا۔اس معاہدہ کی رو سے روس نے بہت سے علاقے اور فوجی سامان ترکوں کو دیا ، اس معاہدہ کے پچیس برس تک دونوں ملکوں میں کوئی جنگ نہ ہوئی ۔1736کے قریب روسی جرنیل مارشل میونخ نے سلطنت عثمانیہ کے دو قلعوں پر محاصرہ کر لیا، اس پر سلطنت عثمانیہ روس کو مجبواً روس کے خلاف اعلان جنگ کرنا پڑا۔چھوٹی موٹی جنگوں کے نتیجہ میں آسٹریا بھی روس میں شامل ہو گیا۔

ترک فوجوں نے آسٹریا کو بھی شکست دی۔آسٹریا کی شکست سے روس کے حوصلے پست ہو گئے ۔سلطنت عثمانیہ کو علاقے لوٹا دیئے گئے ان کے علاوہ بوسنیا، سرویا ، بلغراد، آسڑیا کے علاقے بھی سلطنت عثمانیہ کے حوالے کر دیئے گئے ۔اس کے بعد تیس سال تک سلطنت عثمانیہ کی اپنے ہمسایہ ملکوں سے کوئی جنگ نہیں ہوئی۔پھر 1768میں روس کی فرمانروا کیتھرائن ثانیہ سلطنت عثمانیہ کو للچائی نظروں سے دیکھتی تھی ،اس کی جارحانہ کاروائیوں کی وجہ سے دونوں سلطنتوں میں 1768میں جنگ چھڑ گئی۔پڑوسی ممالک کی در اندازی کے باعث جنگ نے طول پکڑا لیکن بالآخر سلطنت عثمانیہ نے روس کو بعض علاقوں میں شکست دی۔
 دونوں ملکوں میں مختلف معاہدے ہوئے لیکن ملکہ کیتھرائن سلطنت عثمانیہ کی تقسیم کے متعلق ساز باز میں مصروف رہی۔روسی ملکہ نے اپنے خفیہ جاسوس عثمانی علاقوں میں بھیجے تا کہ عیسائی رعایا کو ترک سلطنت کے خلاف بھڑکائیں ۔ملکہ کی چالبازیوں سے مجبور ہو کر 1787میں روس کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔المختصرروس اور سلطنت عثمانیہ کے مابین جنگوں ، معاہدوں ،کشیدگی اور صلح و معافی کی ایک تاریخ چلی آرہی تھی ۔وقت کے ساتھ خلافت عثمانیہ دم توڑ گئی۔

سابق ترک جنرل اتا ترک نے ترکی کی ڈوبتی نیا کو سہارا دیا ،ترک فوج کی طاقت نے آمریت کو فروغ دیا تاہم ترکوں کی تاریخ نے خلافت و آمریت سے جمہوریت کے میدان میں قدم رکھ لیا ۔ برطانیہ اور امریکہ سے ترکی کے تعلقات بہتر ہیںالبتہ روس سے کشیدگی کی روایت سر اٹھاتی رہتی ہے۔ امریکہ نے روس کے خلاف ترکی کی حمایت برقرار رکھی۔آج ایک روسی ملعون کا بیان پڑھ کر بے حد دکھ ہوا۔روسی لبرل ڈیمو کریٹک پارٹی کے سربراہ نے ترکی کو روس کا دشمن نمبر ایک قرار دیتے ہوئے صدر پیوٹن کو مشورہ دیا ہے کہ(خاکم بدہن) ترکی پر بم گرا کر اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے ۔

روسی ملعون قسطنطنیہ المعروف استنبول کو تباہ و برباد کر نے کی تجویز دے رہاہے کہ استنبول پر بم گرانے سے سمندر میں دس سے پندرہ میٹر بلند لہریں پیدا ہوں گی جس سے استنبول میں سیلاب آجائے گا اور اس سے نوے لاکھ افراد ہلاک ہو جائیں گے،۔سلطنت عثمانیہ کے آخری ادوار میں سلطانوں کی کوتاہیوں اور کمزوریوں نے خلافت کا باب ہمیشہ کے لیئے بند کر دیا لیکن روس کی شر انگیزی ہنوز جاری ہے۔

ترکی نے گذشتہ ہفتے روس کا جنگی طیارہ مار گرایا اور اس کا کہنا تھا کہ روسی طیارے نے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی جبکہ روس نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ۔اس واقعہ کے بعد روس اور ترکی کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے اور روس نے ترکی کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں ۔روس اور ترکی کے درمیان چارٹر پروازیں بھی بند ہو گئی ہیں۔ درآمدی مصنوعات اور روسی کمپنیوں میں ترکوں کی ملازمت پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے جبکہ روس نے ترکی سے معافی کا مطالبہ بھی کیا ہے جس پر صدر ترکی نے پائلٹ کی ہلاکت پر افسوس کیا تاہم معافی سے انکار کر دیا ۔

یاد رہے کہ روس جرمنی کے بعد ترکی کا سب سے اہم تجارتی شراکت دار ہے جبکہ روسی سیاحوں کے لیئے ترکی اہم سیاحتی مرکز ہے ۔ ترک وزیر اعظم احمد دائود اوغلو کا کہنا ہے کہ شام کی سرحد پر گرائے جانے والے روسی جہاز کے پائلٹ کی لاش مل گئی ہے جسے روس بھجوایا جائے گا۔روس نے الزام مسترد کر دیا ہے لیکن دیرینہ عداوت ترکی کو غیر محفوظ دیکھنا چاہتی ہے۔ ترکی جیسے پر امن ملک میں خود کش دھماکے سنگین صورتحال کو جنم دے رہے ہیں۔

 ترک حکومت کی ایک لڑائی خارجی محازذ پر جاری ہے اور دوسری لڑائی داخلی محاذ یعنی ’’ گولان تحریک‘‘سے جاری ہے جو اب کریک ڈائون کی صورت اختیار کرنے جا رہی ہے ۔ داخلی و خارجی محاذوں پر دشمنی ترکی کے لیئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ دشمنان اسلام کی حجاز مقدس پر ہی نہیں قسطنطنیہ پر بھی بری نظر ہے۔ ترک حکومت کو ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ہو گا۔ ملک کو خانہ جنگی سے بچانے کے لیئے خاص حکمت عملی اپنانی ہو گی۔ 

طیبہ ضیاء چیمہ
بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

No comments:

Powered by Blogger.