Header Ads

Breaking News
recent

دہلی میں قتل عام - کلدیپ نئیر

میں سرحدی گاندھی کہلوانے والے خان عبدالغفار خان کے بیٹے خان عبدالولی خان کے ساتھ ملاقات کے لیے لاہور سے پشاور جا رہا تھا تو میں اور میرا دوست راستے میں چائے کا ایک کپ پینے کے لیے ایبٹ آباد رک گئے ریڈیو پر مسلسل خبر چل رہی تھی کہ وزیر اعظم اندرا گاندھی کو ان کے سکھ محافظوں نے قتل کر دیا ہے۔ یہ بی بی سی کی براڈ کاسٹ تھی۔

اب آگے جانے کا کوئی سوال ہی نہ تھا لیکن لاہور سے دہلی کی پرواز پکڑنے کے لیے بہت دیر ہو چکی تھی۔ مجھے پیدل چل کر سرحد عبور کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ اگلے دن میں دوپہر کے بعد خاصی دیر سے پالم کے ہوائی اڈے پر اترا۔ ہوائی اڈے پر ویرانی چھائی ہوئی تھی۔ امیگریشن کاونٹر پر دو سکھ لاتعلق کھڑے تھے۔ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ کیا ہو گیا ہے۔ ایک ہندو امیگریشن افسر نے بتایا کہ شہر میں بہت سے سکھوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

 سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف نئی دہلی میں 3,000 سکھ مارے گئے  بہت سے جنونی لوگ سکھوں کو ہلاک کرنے کے لیے ان پر پل پڑے تھے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ کس طرح ممکن ہے جب ہندو اور سکھ سماجی اور مذہبی طور پر مدتوں سے آپس میں اتنے قریب رہ رہے تھے۔ جب کہ حکومت کا بھی حالات پر اچھا خاصا کنٹرول ہے۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ حکومت خود اس قتل و غارت میں ملوث تھی۔

اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے مبینہ طور پر کہا کہ میری ماں قتل ہو گئی ہے اور کوئی ردعمل ہی نہیں ہوا۔ تاہم سکھوں کے قتل عام کے بعد ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی بڑا درخت گرتا ہے تو زمین ہل ہی جاتی ہے۔ لیکن ان کے لہجے میں سکھوں کا قتل عام کے بارے میں کوئی افسوس یا پچھتاوا نہیں تھا۔راجیو گاندھی نے جان بوجھ کر فوج تعینات کرنے میں تاخیر کر دی۔ مجھے بعد میں یہ بھی پتہ چلا جس سے میں سخت دہشت زدہ ہو گیا کہ انھوں نے آرمی کا فلیگ مارچ بھی رکوا دیا تھا کیونکہ وہ سکھوں کو زیادہ سے زیادہ سزا دینا چاہتے تھے۔ جب کہ پولیس کو بھی ہدایت کی گئی تھی کہ اس قسم کے واقعات کو نظرانداز کر دیں۔
جب جسٹس ناناوتی کمیشن قائم کیا گیا جس نے قرطاس ابیض شایع کیا تو میں نے ان سے پوچھا کہ اس میں ان لوگوں کا نام کیوں شامل نہیں کیا گیا جو سکھوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر ہلاک کر رہے تھے۔ تو انھوں نے کہا ’’یہ تو ظاہر بات ہے‘‘۔ انھوں نے اپنی اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کی۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی راز کی بات نہیں تھی جسے جسٹس ناناوتی افشا کرتے۔ ان کی پردہ پوشی بجا تھی۔ اگرچہ ان کو پتہ چل چکا تھا کہ اس سارے قتل عام کے پیچھے راجیو گاندھی کا ہاتھ تھا لیکن ایک جج ہونے کی حیثیت سے وہ باقاعدہ تحقیقات کے بغیر ملک کے وزیر اعظم کو ملزم قرار نہیں دے سکتے تھے۔

کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کو برسرعام اس کی معافی مانگنی چاہیے تھی جو ان کی فیملی کے ہاتھوں سکھوں کا حشر ہوا۔ اس گرانے کے سربراہ راجیو گاندھی تھے۔ لیکن سونیا نے اس کے بجائے صدر پرناب مکھرجی کے پاس جا کر عدم برداشت میں اضافے کی شکایت کرنے کو ترجیح دی۔

ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہ تھا کیونکہ سب لوگ دیکھ سکتے تھے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران عدم برداشت میں کس قدر اضافہ ہو چکا تھا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نریندر مودی کی حکومت آنے کے بعد برداشت کی سطح بہت زیادہ کم ہو چکی ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ آزاد خیال عناصر بھی کوئی بات نہیں کرتے۔ ان کی خاموشی بُرا شگون ہے جب کہ یہ بات قابل وضاحت نہیں کہ میڈیا کیوں خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔

نومبر کا آغاز ایسا موقع ہے جب سکھ برادری پر کیے جانے والے ظلم و تشدد کو یاد کر کے دونوں برادریوں کے مشترکہ اجلاس میں ان کی مذمت کی جانی چاہیے۔ لیکن آزاد خیال ہندو بھی اس سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھا رہے۔
افسر شاہی کی بے حسی میں کوئی کلام نہیں۔ اقلیتوں کے ساتھ برداشت تو کسی حد تک نظر آتی ہے لیکن ان کو دل سے قبول نہیں کیا جاتا۔ جب میں لندن میں بھارت کا ہائی کمشنر تھا تو مجھے یہ مشاہدہ کرنے کا موقع ملا کہ افسر لوگوں کا رویہ کیسا ہوتا ہے۔ ہائی کمیشن کی عمارت میں میں نے دیکھا کہ بڑا گیٹ ہمیشہ بند رہتا ہے۔ سیکیورٹی پر مامور ارکان نے مجھے بتایا یہ انتظام سکھ دہشت گردوں کو دور رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔

سیکیورٹی نے بڑے گیٹ میں ایک چھوٹی سی کھڑکی بنا رکھی تھی تا کہ دیکھا جا سکے کہ آنیوالا سکھ ہے یا غیر سکھ۔ اگر وہ سکھ ہوتا تو اسے کہا جاتا کہ وہ پچھلے دروازے سے آئے، جہاں اس کی مکمل تلاشی لی جاتی تھی۔ مجھے اس بات پر سخت افسوس ہوا کہ سارے ہی سکھوں کو دہشت گرد سمجھا جا رہا تھا۔ میں نے فوراً بڑے گیٹ کو مکمل طور پر کھولنے کا حکم دیدیا اور سکھوں کو بھی وہاں سے آنے کی اجازت دیدی۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ تقریباً 100 سکھوں کی ایک فہرست بنی ہوئی ہے جنھیں وزارت داخلہ نے ’’ناپسندیدہ‘‘ قرار دے رکھا ہے۔ ایک سکھ نے مجھے لنکا شائیر سے ٹیلی فون کیا اور مجھ سے درخواست کی کہ اس کے بیٹے کے لیے ویزا جاری کیا جائے جس کی عمر 12 سال تھی۔

میں نے اس سے پوچھا کہ اس نے معمول کا طریقہ کار کیوں اختیار نہیں کیا؟ تو اس نے بتایا کہ سکھوں کو ویزے جاری نہیں کیے جاتے۔ میں نے جب اس لڑکے کے معاملے کی جانچ پڑتال کی تو میں نے دیکھا کہ اس کے باپ کو ناپسندیدہ افراد کی فہرست میں ڈالا ہوا تھا۔ اس معاملے کا مزید کھوج  لگانے پر مجھے معلوم ہوا کہ اس کے باپ نے ہائی کمیشن کی عمارت کے سامنے، جسے انڈیا ہاوس کہا جاتا ہے، کھڑے ہو کر ’’خالصتان زندہ باد‘‘ کا ایک نعرہ لگایا تھا۔ مجھے اس بات پر حیرت ہوئی کہ آخر باپ کا گناہ بیٹے کے سر کیوں تھوپ دیا گیا ہے۔ باپ کو نعرہ لگانے پر ’’بلیک لسٹ‘‘ کر دیا گیا تھا۔

میں نے ویزا افسروں کو کہا کہ اگر ہم نے اس لڑکے کو ویزا دینے سے انکار کیا تو وہ سچ مچ کا خالصتانی بن جائے گا۔ اگر وہ بھارت جانا چاہتا ہے تو اسے دیکھنا چاہیے کہ وہاں سکھوں کے خلاف کوئی امتیازی سلوک نہیں ہو رہا۔ لڑکے نے اپنی فیملی کے ساتھ بھارت کا چکر لگایا اور اب وہ اور اس کی فیملی خود کو بڑے فخر کے ساتھ بھارتی شہری قرار دیتے ہیں۔ وہ ملک میں چکر لگاتے رہے اور انھوں نے دیکھا کہ سکھوں کے خلاف کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جا رہا۔ ایک چھوٹا سا عنصر اقلیتوں کے خلاف ضرور ہے تاہم انھیں کوئی حمایت حاصل نہیں ہو رہی۔

میرا ایک استدلال ہے کہ ملک اور حکومت کو  الگ الگ اور مختلف سمجھا جانا چاہیے۔ حکومت ایک یا متعدد سیاسی پارٹیوں کی ہوتی ہے جس کو الیکشن میں باہر پھینکا جا سکتا ہے۔

جب کہ ملک تمام عوام کا ہوتا ہے اور جس کو اگر کوئی نقصان پہنچے تو اس سے تمام برادریاں متاثر ہوتی ہیں خواہ وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں۔ بھارت ایک ایسا ملک ہے جو صدیوں سے قائم ہے جس کی وجہ اس کی رواداری اور برداشت کی خوبی ہے۔ جو لوگ اس تاثر کو ناکام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ درحقیقت ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ خوش قسمتی سے لوگوں کو عدم برداشت کے نقصانات کا بخوبی اندازہ ہو گیا ہے اور وہ یہ جان گئے ہیں کہ یہ کام چند مخصوص عناصر پھیلا رہے ہیں۔ لوگوں کا آگاہ ہو جانا ایک مثبت علامت ہے۔

کلدیپ نئیر
(ترجمہ: مظہر منہاس)

No comments:

Powered by Blogger.