Header Ads

Breaking News
recent

روسی طیارے کی تباہی خطے کو تقسیم کر دے گی

شام کا بحران کس طرح ایک خانہ جنگی سے شروع ہوکر پہلے سعودی۔ایرانی علاقائی تنازع اور اب روس اور ناٹو کے درمیان ایک بین الاقوامی تنازعہ کی شکل اختیار کر گیا؟

ترکی کا روسی جنگی طیارے کو مار گرانا ایک غیر معمولی واقعہ ہے جو خطے میں تقسیم کے خطوط کو مزید گہرا کر دے گا۔ کچھ ملک روسی موقف کا ساتھ دیں گے، اور کچھ نیٹو کا ساتھ دیں گے، یہ صورتحال بیس سال قبل سرد جنگ کے بعد شروع ہونے والے آزادانہ تعلقات کا خاتمہ کر دے گی یا کم از کم طرفین کے درمیان واقع ممالک کے لیے ذیادہ گنجائش نہیں چھوڑے گی۔لیکن اس صورتحال کے اس حد تک خراب ہونے کے امکانات بہت کم ہیں کہ روس اور مغرب کے درمیان جنگ چھڑ جائے۔یہاں سے تیسری عالمی جنگ شروع نہیں ہو گی، جیسا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد ہونے والی تمام جنگوں میں کبھی دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان براہ راست فوجی ٹکراؤ نہیں ہوا ہے۔

تاہم موجودہ صورتحال میں دونوں سپر طاقتیں ایک نئے تنازع میں با لواسطہ الجھی ہوئی ہیں جو کشیدگی کو ملحقہ علاقوں میں پھیلاتا جا رہا ہے۔ مغرب نے اعلان کیا ہے کہ اگر روس اپنے طیارے کی تباہی کا جواب دیا تو وہ اپنے اتحادی ترکی کی حدود کے تحفظ میں اس کا پورا ساتھ دے گا۔جنگ ہوئی تو ترکی نیٹو کی جانب سے لڑے گا، ادھر روس کی جانب سے بھی پراکسی ممالک اور ایرانی اور کرد ملیشیاؤں کی طرز پر دیگر قوتیں میدان میں آنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ ایک اشارہ ہے کہ شام کی جنگ میں ایک نیا باب شروع ہونے والا ہے۔
شام کے بدلتے ہوئے حالات خطے میں نئے سیاسی بلاک اور اتحادوں کو جنم دے رہے ہیں۔ میرے خیال میں خلیجی ممالک کو تاریخ کے مشکل ترین چیلنج کا سامنا ہے کیونکہ ایران، شام اور عراق روسی کیمپ میں ہیں۔ تاہم ترکی نیٹو کے تحفظ میں ہے۔ سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل میں اس کے اتحادی ممالک اس وقت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں کیونکہ اس بلاک کے تمام ممالک نے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ تاریخی اعتبار سے تو وہ مغربی کیمپ میں ہیں بالخصوص فوجی معاملات میں وہ مغرب کے اتحادی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ ایسی کسی صورتحال میں امریکا کو قابل بھروسہ اتحادی نہیں سمجھتے جس میں یہ تنازع پھیل کر خلیجی ممالک تک آ جائے۔

خلیجی ممالک، بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی بدقسمتی ہے کہ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا ہے جب کرملین کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات کا ابھی آغاز ہی ہوا تھا۔یہ ممالک ایسے کسی تنازع میں نہیں الجھنا چاہتے جس میں ایک طرف ترکی اور نیٹو، اور دوسری طرف روس اور اس کے اتحادی ہوں۔ تاہم اس صورتحال میں غیر جانبدار رہنا کوئی آسان راستہ نہیں ہے کیونکہ اس کا مطلب شام کے مستقبل پر سمجھوتہ کرنا اور ایران کو عراق کے بعد شام پر قبضہ کرنے کے لئے کھلا میدان دینا بھی ہے، جو کہ خود خلیجی ممالک کے مفادات اور سلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہو گا۔

بشار، ایران اور روس

روس کیوں شام کی دلدل میں جا پھنسا ہے، اس سوال کا جواب عجیب اور غیر منطقی ہے خواہ روس کے وہاں مفادات کے بارے میں کچھ بھی کہا جائے۔ بشار الاسد کی چار سال سے شدید خواہش تھی کہ روس اس کی مدد کے لئے پہنچ جائے مگر ماسکو صرف دور ہی سے مدد پر ہی اکتفا کر رہا تھا۔باغیوں کے سامنے بے بس ہونے کے بعد بشار نے ایران کو شام کی جنگ میں براہ راست شامل ہونے پر آمادہ کیا اور اس کے لیے اس نے شام کی خانہ جنگی کو سعودی عرب کے ساتھ ایک علاقائی تنازع کی شکل میں پیش کیا جس میں ایران کی شمولیت بہت ضروری تھی۔یہ خانہ جنگی کا ابتدائی دور تھا جب ترکی بھی بشار کی مدد کر رہا تھا اور اس نے ایسی سیاسی اصلاحات کا خاکہ بھی پیش کیا تھا جس میں اپوزیشن حکومت میں شامل ہوتی مگر بشار صدر رہتا۔

بشار نے ترکی کی تمام تجاویز مسترد کر کے مسئلے کے فوجی حل کا جوا کھیلا مگر پھر بھی ناکام رہا اور پھر ایران کو جنگ میں شامل کیا۔ ایران نے ابتدا میں حزب اللہ ملیشیا کو بھیجا مگر جب وہ بھی عوامی بغاوت کو کچلنے میں ناکام رہی تو پھر ایرانی قیادت نے پاسداران انقلاب کے دستے بھیج کر باغیوں کو کچلنے کی کوشش کی۔اس طرح شام کی خانہ جنگی ایران، ترکی اور خلیجی ممالک اور دیگر پراکسی طاقتوں کا میدان جنگ بنتی چلی گئی۔

ایران یقیناً شام کی مہنگی جنگ میں چھلانگ لگانے سے با آسانی گریز کر سکتا تھا، بالخصوص ایسے میں جب عراق خطے میں ایک متبادل اور شام سے زیادہ اہم اتحادی کی صورت میں موجود تھا۔نہ صرف عراقی تیل کی دولت اہم تھی بلکہ وہ فرقہ وارانہ لحاظ سے بھی ایران کے لیے سود مند تھا کیونکہ سنی اکثریت والے شام میں ایرانی حملہ آوروں کا آسانی سے استقبال نہیں ہو سکتا تھا۔

تہران شام کی جنگ میں بشار کی وجہ سے آیا، لیکن جنگ کو جیتنے میں ناکام رہا اور مکمل شکست کے خطرے کے پیش نظر اب مختلف مراعات دے رہا ہے جس میں تازہ ترین پیشکش شامی اپوزیشن کے ساتھ اقتدار میں شمولیت پر آمادگی ہے۔بشار نے روس کو بھی اس دلدل میں گھسیٹ لیا ہے جو مختلف وجوہات کی بنا اس امید میں ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امریکی غیر موجودگی کا خلا پر کر سکے گا۔ لیکن روس پہلے ہی راؤنڈ سے نقصان اٹھانا شروع ہو گیا ہے۔

عبدالرحمان الراشد 

No comments:

Powered by Blogger.