Header Ads

Breaking News
recent

پیرس حملے وحشیانہ، مگر الجزائرمیں کیا ہوا تھا؟

فرانس کے صدر مقام پیرس میں جمعہ 13 نومبر نصف درجن مقامات پر خود کش حملوں، فائرنگ اور بم دھماکوں میں ایک سو تیس افراد کی ہلاکت کھلم کھلا دہشت گردی تھی۔ کوئی زندہ ضمیرانسان ان واقعات کو سند جواز مہیا نہیں کرسکتا۔ پیرس دہشت گردی ایک سال پیشتر پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر شدت پسندوں کے حملوں ہی جیسا ایک وحشیانہ فعل تھا جس میں ایک سو سے زائد طلبا کا قتل عام کیا گیا۔ حملہ کرنے والوں نے اس واقعے کو بھی اپنی تعلیمات کے مطابق 'برحق' قرار دیا۔ نائیجریا میں بوکو حرام کے ہاتھوں سیکڑوں طالبات کی ہلاکت اور اغواء کی خونی وارداتیں اسی وحشت کی کڑی ہیں۔ پیرس حملوں میں ملوث عناصر بھلے خود کو کتنے ہی صاحب ایمان اور اسلام کے پیروکار سمجھیں، ان کے ہاتھ نہتے لوگوں خون سے تر ہیں۔

فرانس میں دہشت گردی کی پوری اسلامی نیا کی جانب سے کھل کر مذمت کی جانی چاہیے تھی، سو گئی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد پیرس بدترین دہشت گردی کا نشانہ بنا تو فرانسیسیوں کے دُکھ سمجھنا مُشکل نہیں تھا۔ مگر اس واقعے نے خود فرانس کی سفاک تاریخ کے ایک سیاہ باب کی یاد تازہ کردی۔ کیا تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔ داعش کے طریقہ واردات اور فلسفہ و نظریات سے کسی صورت میں اتفاق ممکن نہیں اور نہ ہی دہشت گردی کی حمایت کی جاسکتی ہے، مگر جب صدر فرانسو اولاند کا یہ بیان نظر سے گذرا کہ "پیرس میں حملے کرنے والے انسان ہرگز نہیں بلکہ وحشی مخلوق ہیں"۔ اس بیان سے معاً ذہن 1830ء کے واقعات کی طرف چلا گیا جب اسی فرانس نے افریقا کے عرب ملک الجزائرپرقیامت برپا کردی تھی۔

الجزائر میں فرانسیسی فوج نے کیا کیا تھا؟ اس سوال کا جواب الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہی نہیں، ناممکن بھی ہے کیونکہ لاکھوں الجزائری باشندوں پر ڈھائی جانے والی قیامت نے زمانہ قدیم کے وحشیوں اور جنگلی درندوں کی ہوس ناکی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔
 الجزائر میں سنہ 1830ء میں فرانس کے فیلڈ مارشل تھامس روپیر بیگو ڈولا بیکونیری کی قیادت میں فوج داخل کی گئی۔ جنرل تھامس بیگو کے فوجی دستے جہنمی داروغے کہلاتے۔ یہ جہنمی داروغے جب کسی بستی یا شہرمیں داخل ہونا چاہتے پہلے اس کا پوری طرح محاصرہ کرتے۔ محاصرے کے بعد ایک ایک گھر میں داخل ہوتے۔ بوڑھوں اور کم سن بچوں کو گولیاں مارنے یا چھریوں سے ذبح کرنے کے بعد ان کی نعشیں باہر پھینکتے، فرصت ملتی تو لاشوں کے ڈھیروں کو آتش گیر مواد چھڑک کر نذرآتش کردیتے۔ نوجوان اور صحت مند مردوں کو غلام بناتے اورانہیں بیگاری کیمپوں میں لے جاتے جہاں ان سے جبری مشقت لی جاتی۔ نوجوان لڑکیوں اور خوبرو خواتین کو فوجیوں کی جنسی تسکین کے کام میں لایا جاتا۔ فرانسیسی فوجی "مال غنیمت" میں حاصل ہونے والی مسلمان عورتوں کی اجتماعی اور انفرادی عصمت ریزی سے اکتا جاتے تو انہیں بھی گولی مار دی جاتی۔

فرانس میں جو کچھ ہوا وہ کسی مذہب، تہذیب، قانون کے تحت درست نہیں، سب کھلی وحشت اور بربریت تھی۔ یادش بخیر! کیا فرانسیسی ارباب اختیار اور اہل فرانس اپنے ہیرو فیلڈ مارشل جنرل تھامس روپیر بیگو کے الجزائر میں کئے جانے والے 'کارناموں' سے آگاہ ہیں؟۔ پیرس حملوں کو ہم سب وحشیانہ کہتے ہیں، مگر انسانی حقوق کی علمبردار فرانسیسی قیادت جنرل بیگو کے ہاتھوں الجزائریوں کے قتل عام کو "وحشیانہ" قرار دینے کی جرات کریں گی؟۔

اگلے شہر اور قصبے پرحملے سے قبل فوجیوں کا ایک دستہ وہاں بھیجا جاتا جو اپنے ہاتھوں میں تازہ تازہ ذبح کیے گئے الجزائریوں کے سر اٹھائے ہوتے تاکہ اہل شہر ان کی وحشت کو دیکھتے ہی ان کے سامنے سر تسلیم خم کردیں۔ شام اور عراق میں آج کل "داعش" کہلوانے والی تنظیم کا بھی کچھ ایسا ہی چلن ہے۔
صرف چند ہفتوں کے اندر الجزائر جیسے کثیر سیاہ فام آبادی والے ملک میں کشتوں کے پُشتے لگا دیے گئے۔ جنرل تھامس بیگو بڑے فخر کے ساتھ اپنی حکومت کو بتاتا کہ اس نے الجزائرکو کس طرح اپنی' وحشی' سپاہ کے لیے حلال کر رکھا ہے۔

 ایک منظم، مسلح اور انسانی ہمدردی کے جذبات سے عاری فوج کے ہاتھوں بے بس الجزائریوں کی لاشوں کے انبار لگ گئے تو جنرل بیگو نے اپنی حکومت کو پیغام بھیجا کہ ہم نے الجزائر فتح کرلیا۔ وحشت و بربریت کی ایسی ہولناک مثالوں سے خود فرانسیسی پارلیمنٹ میں بھی ایک تنازع پیدا ہوا۔ مفلوج پارلیمنٹ نے جنرل بیگو سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ کے دوران انسانی حقوق کا خیال رکھے۔ اس پر جنرل بیگو نے پارلیمنٹ کو جواب دیا "اگرانسانی حقوق کی پاسداری کرنا تھی تو ہمیں الجزائر کیوں بھیجا گیا؟ پیرس انسانی حقوق کا خیال رکھنا چاہتا ہے تو جان لے ہم یہ جنگ کبھی بھی نہیں جیت سکتے۔ فرانسیسی فوج نے تاریخ میں پہلی بار کسی کمزور ملک پر طاقت کے استعمال کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس لیے پارلیمنٹ ہمیں ہماراکام کرنے دے"۔ پارلیمنٹ جنرل بیگو کے سامنے بے بس تھی۔

الجزائر میں جنرل بیگو کے "جہنمی دارغوں" کے ہاتھوں ڈھائی جانے والی قیامت کی خبریں فرانس کے بعد یورپ اور پوری دنیا میں پھیل گئیں۔ خلافت عثمانیہ میں اتنی جرات نہ تھی کہ وہ اہل الجزائرکی مدد کو پہنچ سکتا۔ مسلمان صرف اپنے ہم مذہبوں کے گلے کٹنے، لاشوں کے انبار لگنے، بہنوں، بیٹیوں اور مائوں کی عزتیں لٹنے کا تماشا دیکھتے۔ جنرل روپیر بیگو نے پیغام بھیجا کہ اس کےسپاہیوں نے 2300 خواتین، بچوں اور مردوں کو ذبح کرکے ایک جگہ ان کی نعشوں کا ڈھیر لگا دیا ہے۔ ہمارے سپاہی تیزی کے ساتھ الجزائر کو فتح کرتے ہوئے ایک ایک بستی میں زندہ لوگوں کا صفایا کررہے ہیں۔

نہتے لوگوں کے قتل عام، جبری مشقت اورخواتین کی عصمت ریزی کا سلسلہ حد سے گذر گیا تو فرانسیسیوں نے گردنیں مارنے کے بجائے جبری مذہب تبدیل کرنے کی ایک نہایت ہی خوفناک مہم شروع کی۔ چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے طول وعرض میں عیسائی مشینری ادارے قائم ہونے لگے۔ الجزائر میں موجود تمام تعلیمی اداروں کو عیسائی مشینریوں کے مراکز بنا دیا گیا۔ الجزائرمیں پوری قوم کے اجتماعی قتل عام کی سفاکانہ مہم میں شامل ایک فوجی نے اپنی یاداشتوں میں لکھا کہ "خوب قتل عام کے بعد باقی بچ جانے والے سیاہ فاموں کے سامنے صرف دو آپشن رکھے جاتے۔ وہ عیسائیت قبول کرلیں یا دردناک موت کے انجام کے لیے تیار ہو جائیں"۔ اس خوف سے لاکھوں مسلمانوں کو عیسائی بنا دیا گیا۔ مسلمان بچوں کو عیسائی بنانے کی مہم کا اندازہ اس مثال سے لگایا جاسکتا ہے کہ جنوبی الجزائر کے 40 ہزار طلباء کو صرف دو سال کے عرصے میں عیسائی مذہب اختیار کرنے پرمجبور کیا گیا۔

ایک دوسرے جنرل "روویگو" کو ملک بھرکی مساجد کا ڈیٹا جمع کرنے اور تمام مسجدوں کو چرچوں میں تبدیل کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ الفنوس اور بلط کی دو مساجد میں فرانسیسی فوجیوں نے 4000 نمازیوں کو یرغمال کرانہیں راتوں رات شہید کیا اور دونوں مساجد کو گھوڑوں کے اصطبل میں تبدیل کردیا گیا۔ مرکزی الجزائرشہر میں اس وقت 176 جامع اور 349 چھوٹی مساجد تھیں۔ فرانسیسی فوج کی 'نصرانیت پھیلائو' مہم کے دوران ایک سال میں صرف 5 رہ گئیں باقی سب کو چرچوں میں تبدیل کردیا گیا تھا۔

مانتے ہیں کہ فرانس میں جو کچھ ہوا وہ کسی مذہب، تہذیب، قانون اور آدرش کے تحت درست نہیں۔ کھلی وحشت اور بربریت تھی۔ مگر کیا فرانسیسی ارباب اختیار اقتدار اور اہل فرانس کو یاد ہے کہ آج بھی ان کے لیے ہیرو کا درجہ رکھنے والے فیلڈ مارشل جنرل تھامس روپیر بیگو نے الجزائر پرکیا کیا قیامتیں ڈھائی تھیں؟۔ پیرس حملوں کو ہم سب وحشیانہ کہتے ہیں۔ مگر انسانی حقوق کے علمبردار فرانسیسی قیادت کیا جنرل بیگو کے ہاتھوں الجزائریوں کے قتل عام کو "وحشیانہ" قرار دینے کی جرات کریں گے؟۔

عبدالقیوم فہمید

No comments:

Powered by Blogger.